30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فما ظنك بالحروف فاذن لاشك فی صحۃ الاستنادولابد من اخراج کتابات الابل عن الاخلال بالتعظیم۔ واقول: یظھر لی فی النظر الحاضر ان لیس الامتھان من لازم تلك الکتابۃ ولاھو موجود حین فعلت ولاھومقصود لمن فعل وانما اراد التمیز وانماالاعمال بالنیات وانمالکل امرء مانوی[1]۔ قال فی جواھر الاخلاطی ثم الفتاوی الھندیۃ لاباس بکتابۃ اسم اﷲتعالٰی علی الدراھم لان قصد صاحبہ العلامۃ لاالتھاون٢[2]اھ وھذ الاشك انہ جارفیما نحن فیہ فلیس التجنیس من لازم الکتابۃ ولاھو موجود لامقصود وانما المراد التبرك الٰی اٰخر مامر فان قنع بھذا فذاك والا فایاما ابدیتم من الوجہ فی ذالك فانہ یجری فیما ھنالك ولایظھرفرق یغیر المسالک۔ |
بارے میں کیا ہوگا--اس سے ظاہر ہوا کہ صحتِ استناد میں کوئی شك نہیں—اور اونٹوں والی تحریروں کو بے حرمتی سے خارج ماننا ضروری ہے۔ واقول:(اور میں کہتا ہوں) بنظرِ حاضر مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ اہانت اس تحریر کو لازم نہیں، نہ ہی بوقتِ تحریر اہانت کا وجود ہے، نہ ہی یہ لکھنے والے کا مقصود ہے-- اس کا مقصد صرف امتیاز پیدا کرنا اور نشان لگانا ہے--اوراعمال کامدار نیتوں پر ہے اور ہرانسان کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی-- جواہر اخلاطی پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے : دراہم پراﷲ کا نام تحریر کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ تحریر کرنے والے کامقصود صرف نشان ہوتا ہے، اہانت نہیں اھ--یہ بات بلاشبہہ تحریر کفن میں بھی جاری ہے اس لئے کہ نجاست آلود کرنااس تحریر کولازم نہیں، نہ ہی بروقت اس کا وجود ہے نہ ہی مقصود ہے ،مقصود صرف برکت حاصل کرنا ہے --وُہ ساری باتیں جو گزر چکیں۔ اگر مخالف اسے مان لے تو ٹھیك ہے ورنہ اُس میں آپ جوبھی وجہ بتائیں وُہ یہاں بھی جاری ہوگی اور کوئی ایسا فرق رونما نہ ہوگا جس سے راہیں مختلف ہوجاتیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع