30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال ایضانقلوا عندنا ان للحروف حرمۃ ولو مقطعۃ [1]اھ ۔ وفی الھندیۃ لوقطع الحروف فی الحرف او خیط علی بعض الحروف فی البساط اوالمصلی حتی لم تبق الکلمۃ متصلۃ لم تسقط الکراھۃ وکذلك لوکان علیہ، الملك ،لاغیر وکذلك الالف و حدھا واللام وحدھا کذا فی الکبری، اذاکتب اسم فرعون اوکتب ابو جھل علی غرض یکرہ ان یرموا الیہ لان لتلك الحروف الحرمۃ کذافی السراجیۃ [2]اھ بل صرح فی الدرالمختار وغیرہ انہ یجوز رمی برایۃ القلم الجدید ولا ترمی برایۃ القلم المستعمل لاحترامہ کحشیش المسجد وکناستہ لایلقی فی موضع یخل بالتعظیم[3] اھوفی ردالمحتار ورق الکتابۃ لہ احترام ایضالکونہ الٰۃ لکتابۃ العلم ولذاعﷲ فی التاتارخانیہ بان تعظیمہ من ادب الدین٤[4]اھ فاذا کان ھذا فی برایۃ القلم وبیاض الورق الغیر المکتوب |
لکھا ہے کہ علماء نے نقل فرمایا ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی عزت وحرمت ہے اگرچہ یہ الگ الگ ہوں اھ-ہندیہ میں ہے اگر حرف کو حرف سے جدا کردیا ، یا فرش یا جا نماز میں بعض حروف پر اس طرح سلائی کردی گئی کہ پُورا لفظ مستعمل نہ رہا تو بھی کراہت ختم نہ ہوئی-- اسی طرح اگر اس پرصرف الملك ہو،اسی طرح اگر صرف الف اور صرف لام ہو، ایساہی کبرٰی میں ہے--اگر نشانہ لگانے کی جگہ فرعون کا نام لکھ دیا گیا یا ابوجہل لکھا گیاتو اس پر تیر مارنا مکروہ ہے اس لئے کہ ان حروف ہی کی عزّت و حرمت ہے، ایسا ہی سراجیہ میں ہے اھبلکہ درمختار وغیرہ میں تصریح ہے کہ نئے قلم کا تراشا پھینکنا جائز ہے اور مستعمل قلم کا تراشہ پھینکنا جائز نہیں کیونکہ وہ محترم ہے، جیسے مسجد کی گھاس اور کوڑا ایسی جگہ نہ ڈالا جائے جہاں بے حرمتی ہو اھ۔ردالمحتار میں ہے : کتابت کے کاغذ کا احترام ہے اس لئے کہ وہ کتابتِ علم کا سامان ہے--اسی لئے تاتارخانیہ میں اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم دین کے آداب سے ہے اھ—تو جب یہ حکم قلم کے تراشے اور بغیر لکھے کاغذ کی بیاض کے بارے میں ہے تو حروف کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع