30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم تبق النسبۃ المانعۃ ملحوظۃ اماھٰھنا فالتعظیم لنفس تلك الالفاظ الموضوعۃ لتلك المعانی المعظمۃ وھی باقیۃ فی الکتابۃ علی حالھا فافھم، مع ان العلامۃ سیّدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی نص علیہ ان النیۃ تعمل فی تغییر المنطوق لا المکتوب [1] کمانقلہ العلامۃ ش قبیل المیاہ واقرہ ۔ ثم اقول: علی التسلیم لامحیص عن کونہ اعنی ماکتب علی افخاذ الا بل حروفا و حروف الھجاء المعظمۃ بانفسھا لایجوز تعریضھا للنجاسۃ کیف وانھا علی ماذکرالزرقانی فی شرح المواہب قراٰن انزل علی سیدناھودعلی نبینا الکریم و علیہ الصلٰوۃ والتسلیم[2] وکذا نقلہ فی ردالمحتار عن بعض القراء وقدمہ عن سیّدی عبدالغنی عن کتاب الاشارات فی علم القراءات للامام القسطلانی وقال اعنی الشامی فیہ ان الحروف فی ذاتھا لھا احترام٣[3]اھ، و |
ایك کلام انشا کر رہا ہے تو جونسبت باعثِ ممانعت تھی وہ ملحوظ نہ رہ گئی-- لیکن یہاں تو تعظیم خود ان ہی الفاظ کے باعث ہے جو ان معانی عظمت کے لئے وضع ہوئے ہیں۔ اور کتابت میں یہ اپنے حال پر باقی ہیں ۔تواسے سمجھو-- اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ علامہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ نے صراحت فرمائی ہے کہ نیت منطوق کو بدلنے میں اثر انداز ہوتی ہے مکتوب میں نہیں--جیسا کہ علّامہ شامی نے باب المیاہ سے ذرا قبل اس کو نقل کیا اور برقرار رکھا ہے۔ ثم اقول: برتقدیر تسلیم— او نٹوں کی ران پر جو لکھا جاتا اُس کو حروف ماننے سے مفرنہیں— اور حروفِ تہجی خود باعظمت ہیں، انہیں معرضِ نجاست میں لانا جائز نہیں— ایسا کیوں نہ ہو جب کہ یہ وُہ قرآن ہے جو سیّدنا ہود علٰی نبیناالکریم وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیم پر نازل ہوا، جیسا کہ علّامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا ہے— اسی طرح ردالمحتار میں اسے بعض قراء سے نقل کیا ہے اور اس سے پہلے امام قسطلانی کی کتاب"الاشارات فی علم القراءات"کے حوالے سے سیدعبدالغنی نابلسی سے نقل کیا -اوراسی میں علامہ شامی نے بھی یہ لکھا ہے خود یہ حروف محترم ہیں اھ –یہ بھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع