30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایضا والعیاذباﷲ تعالٰی ان یضع المصحف الکریم علی الارض ویجلس علیہ توقیالثیابہ من التراب فانہ لیس باعظم من التعریض للابوال والارواث الی غیر ذلك مما لایجیزہ احد ۔ ولعل متعلا یعتل بجوازقراءۃامثال الفاتحۃ للجنب واختیہ اذاقصدواالثناء والدعاء دون التلاوۃ۔ اقول: نازعہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ وخصّ الجواز بمالا یقع بہ التحدی ای مادون قدر ثلث اٰیات ولی فی ھذا ایضا کلام والحق عندی ان الجواز بنیۃ الدعاء والثناء ورد علی خلاف القیاس توسعۃ من اﷲتعالٰی بعبیدہ رحمۃ منہ و فضلا فلا یجوز القیاس علیہ علا ان منع الجنب لم یکن لنفس الالفاظ بل لکونھا قراٰنا ای کلام اﷲ عزوجل النازل علی نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المثبت بین الدفتین من حیث ھوکذلك حتی لو فرض ان تلك الالفاظ کانت حدیثالم یحرم علیہ قراءتہ فاذا قرأت علی جھۃ انشاء کلامن عند نفسہ |
تو معاذاﷲ یہ بھی جائز ہوجائے گا کہ مصف شریف زمین پر رکھ کر اس پر بیٹھ رہے اس غرض سے کہ اس کے کپڑے مٹّی سے محفوظ رہیں--کیونکہ یہ لید اور پیشاب وغیرہ پڑنے کی جگہ لانے سے بڑھ کر نہیں، جسے کوئی جائز نہیں کہہ سکتا۔ ہوسکتا ہے کوئی یوں علت پیش کرے کہ جنب وحائض ونفساء کے لئے دعا وثنا کے ارادے سے سورہ فاتحہ وغیرہ پڑھنا جائز ہے اور بقصدِ تلاوت جائز نہیں۔ اقول:محقق حلبی نےحلیہ میں اس سے اختلاف کیا ہے اور جواز صرف اتنی مقدار سے خاص کیا ہے جس سے تحدّی واقع نہیں ہوتی، یعنی تین آیات سے کم ہی پڑھنے کا جواز ہے--مجھے اس میں بھی کلام ہے--میرے نزدیك حق یہ ہے کہ دعا یا ثنا کی نیت سے جواز کاحکم --اﷲتعالٰی کی جانب سے بطور رحمت و فضل بندوں پر وسعت دینے کے لئے--خلافِ قیاس وارد ہے تو اس پر قیاس روا نہیں-- علاوہ ازیں جنب کے لئے ممانعت نفس الفاظ کے باعث نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قرآن ہیں یعنی اﷲ عز و جل کا وُہ کلام جو اس کے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر نازل ہے دو دفتیوں کے درمیان ثبت ہے اس لحاظ سے کہ وہ قرآن ہیں، یہاں تك کہ اگر فرض کیا جائے کہ وہ الفاظِ حدیث ہیں تو جنب کے لئے ان کی قرأت حرام نہ ہوگی--تو جب ان کی قرأت اس طور پر ہو کہ خود اپنی جانب سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع