30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: ھذاالفرق لایجدی نفعاوکیف یسلم ان قصدالتمیز یسقط تعظیم ماوجب تعظیمہ شرعا افتبدل بہ اعیان الاسماء العظمۃ فھو باطل عیانا ام لایراد بھامعانیھا بل تکون الفاظ مستعملۃ فی معان اخری او من دون معنی وھذا ایضا باطل قطعافان قولناﷲ اوحبیس فی سبیل اﷲ انمایفیدالتمیز ویفھم الصدقۃ بالنظر الی معانیھا الموضوعۃ لھا لاغیر ام اذااستعملت الکلمات المعظمۃ فی معانیھا وکان الغرض ھنالك افھام امرما سوی نحوالتبرك یخرجھا ذلك عن کونھا معظمۃ وای دلیل من الشرع علی ذلك بل الدلا ئل بل البداھۃ ناطقۃ بخلافہ ولوان مجرد قصد غرض اٰخرغیرنحو التبرك کان یسقط التعظیم فلیجز توسد القراٰن العظیم بل اولٰی لان الغرض ثم لایتم الاباسم الجلالۃ من حیث ھواسم الجلالۃ اماھٰھنافنظر المتوسد لیس الی قراٰنیتہ من حیث ھی ھی بل الٰی حجمہ وضخامۃ جلدہ واذاجاز ذلك لذلك جاز |
اقول: یہ تفریق بے سُود ہے، یہ کیسے تسلیم کیاجاسکتا ہے کہ امتیاز کا قصد ایسی چیز کی تعظیم ساقط کردے جس کی تعظیم شرعًا واجب ہو--اگر یہ کہیں کہ اس قصد کی وجہ سے عظمت والے اسماء کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے تو اس کا بطلان عیاں ہے اور یہ کہیں کہ ان سے ان کی معانی مراد نہیں ہوتے بلکہ یہ دوسرے معانی میں مستعمل الفاظ ہوجاتے ہیں یا معنی سے خالی ہوجاتے ہیں -- تو یہ قطعًا باطل ہے کیونکہ کلمہ"ﷲ"(خدا کے لئے) یا"حبیس فی سبیل اﷲ"(اﷲ کی راہ میں وقف) امتیاز ونشان کا فائدہ بھی دیتا ہے اوراپنے وضعی معنی کے لحاظ سے مال صدقہ ہونے کو بھی بتاتا ہے کوئی اور معنی نہیں دیتا--اور اگر یہ کہیں کہ عظمت والے کلمات جب اپنے معانی میں مستعمل ہوں اور وہاں تبرك کے سوا کوئی اور بات سمجھانی بھی مقصود ہو تو وہ باعظمت نہیں رہ جاتے--تو اس پر کون سی دلیل شرعی ہے؟ بلکہ دلائل بلکہ بداہت اس کے خلاف ناطق ہے تبرك جیسے امر کے سوا کسی اور غرض کا محض قصد ہوجانا اگر تعظیم کو ساقط کردیتا ہے تو چاہئے کہ قرآنِ عظیم کا تکیہ لگانا جائز ہو بلکہ بدرجہ اولٰی ، اس لئے کہ وہاں جو غرض ہے وہ اسم جلالت بحیثیت اسم جلالت کے بغیر پوری نہیں ہوتی-- اور یہاں تو تکیہ لگانے والے کی نظر اس کی قرآنیت بحیثیت قرآنیت کی جانب نہیں ہوتی بلکہ اس کے حجم اور جلد کی ضخامت کی جانب ہوتی ہے-- اور اس بنیاد پر جب وہ جائز ہوجائیگا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع