30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتابت آیات واحادیث کی تعظیم فرض ہے یونہی حضور پُر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ردا و قمیص خصوصًاناخن و موئے مبارك کی کہ اجزائے جسم اکرم حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی کل جزء جزء وشعرۃ شعرۃ منہ وبارك وسلم توصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کا ان طریقوں سے تبرك کرنا اور حضور پُر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسے جائز ومقرر رکھنا بلکہ بنفس نفیس یہ فعل فرمانا جوازِ مانحن فیہ کے لئے دلیل واضح ہے اور کتابت قرآن عظیم کی تعظیم زیادہ ماننا بھی ہرگز مفید تفرقہ نہیں ہوسکتاکہ جب علت منع خوف تجنیس ہے تو وُہ جس طرح کتابت فرقان کے لئے ممنوع ومخطور، یونہی لباس واجزائے جسم اقدس کے لئے قطعًا ناجائز و محذور ، پھرصحاح احادیث سے اسکا جواز بلکہ ندب ثابت ہونا بحکم دلالۃ النص اس کے جواز کی دلیل کافی وﷲ الحمد۔
مقام سوم : کفن پر آیات اسماء ادعیہ لکھنے میں جو شبہہ کیا جاسکتا تھا وہ یہی تھا کہ میّت کا بدن شق ہونا، اس سے ریم وغیرہ نکلنا ہے، تو نجاست سے تلوث لازم آئے گا۔ اس کا نفیس ازالہ امام نفیس نے فرمادیا کہ اصطبلِ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں گھوڑوں کی رانوں پر لکھا تھا: حبس فی سبیل اﷲ تعالٰی[1] (وقف فی سبیل اﷲ تعالٰی ہے۔ت)جو احتمالِ نجاست یہاں ہے وہاں بھی تھا تو معلوم ہوا کہ ایك امر غیر موجود کا احتمال نیت صالحہ وغرض صحیح موجود فی الحال سے مانع نہیں آتا۔ مگر ایك متاخر عالم شافعی المذہب امام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے اس جواب میں کلام کیا رانِ اسپ پر لکھنا صرف پہچان کے لئے تھا اور کفن پر لکھنے سے تبرك مقصود ہوتا ہے، تو یہاں کلماتِ معظمہ اپنے حال پر باقی ہیں انہیں معرض نجاست پر پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی[2]۔
|
ذکرہ فی فتاواہ الکبرٰی واثرہ العلامۃ الشامی فتبعہ علی عادتہ فانی رأیتہ کثیرا مایتبع ھذاالفاضل الشافعی کمافعل ھھنا مع نص ائمۃ مذھبہ الامام نصیر والامام الصفار و تصریح البزازیۃ والدرالمختار وکذا فی |
اسے امام ابن حجر مکی نے اپنے فتاوٰی کبرٰی میں ذکر کیا اور علّامہ شامی نے اسے نقل کرنے کے بعد اس کی پیروی کی، جیسا کہ ان کی عادت ہے اس لئے کہ میں نے بہت جگہ دیکھا کہ وہ اس شافعی فاضل کی پیروی کرتے ہیں جیسے یہاں کی باوجودیکہ ان کے ائمہ مذہب امام نصیر، امام صفار کی تصریح اوربزازیہ و درمختار کی عبارت سامنے ہے۔ اسی طرح خطبہ میں ذکر سلاطین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع