30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اس کی قبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ اُسے رکھ چکے تھے،حضور طیب وطاہر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اُس خبیث کو نکلواکر لعابِ دہن اس کے بدن پرڈالا اورقمیض مبارك میں کفن دیا، اور یہ بدلا اس کا تھا کہ روزِ بدر جب سیّدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالٰی عنہما گرفتار آئے برہنہ تھے، بوجہ طول قامت کسی کا کُرتا ٹھیك نہ آتا اس مردك نے انہیں اپنا قمیض دیا تھا۔ حضور عزیز صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے چاہا کہ منافق کا کوئی احسان حضور کے اہلبیت کرام پر بے معاوضہ نہ رہ جائے لہذا اپنے دو قمیض مبارك اس کے کفن میں عطا فرمائے، ونیز مرتے وقت وہ ریا کار، نفاق شعار، خود عرض کرگیا کہ حضور مجھے اپنے قمیض مبارك میں کفن دیں، پھر اس کے بیٹے رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے درخواست کی، اور ہمارے کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کا ادب قدیم ہے کہ کسی کاسوال رَد نہیں فرماتے۔
|
یارسول اﷲ یاکریم یارؤف یارحیم اسألك الشفاعۃ عندالمولی العظیم والوقایۃ من نار الجحیم والامان من کل بلاء الیم لی ولکل من اٰمن بك بکتابك الحکیم علیك من ولاك افضل الصلٰوۃ واکمل تسلیم ۔ |
اے اﷲ کے رسول، اے کریم، اے رؤف، اے رحیم! آپ سے ربِ عظیم کے حضور شفاعت، نارِ جہنم سے حفاظت اور ہردردناك بلا سے امان کا سوال کرتا ہوں اپنے لئے اور ہر اس شخص کے لئے جو آپ پر آپ کی حکمت والی کتاب پر ایمان لایا، آپ پر اورآپ سے محبت رکھنے والوں پر بہتر درود اور کامل تر سلام ہو۔ (ت) |
حضور رحمۃ اللعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ شانِ رحمت دیکھ کر کہ اپنے کتنے بڑے دشمن کو کیسا نوازا ہے ہزار آدمی قوم ابن اُبی سے مشرف باسلام ہوئے کہ واقعی یہ حلم و رحمت وعفو و مغفرت نبیِ برحق کے سوا دوسرے سے متصور نہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم ،صحیحین وغیرہما صحاح و سنن میں ہے :
|
عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ ان عبداﷲ بن اُبی لما توفی جاء ابنہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ اعطنی قمیصك اکفنہ فیہ وصل علیہ استغفرلہ فاعطاہ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قمیصہ الحدیث[1]۔ |
حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداﷲ بن ابی فوت ہوا اس کے فرزند نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اﷲ! اپناکُرتا عطافرمائیں میں اسے اس میں کفن دوں گا اور اسے اپنی صلٰوۃ واستغفار سے نوازیں، تو حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں اپنا کُرتا عطا کردیا۔الحدیث (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع