30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن جابر۔ (٢٠) وابن عساکر عن علی۔ (٢١) والشیرازی فی الالقاب وابن عبدالبر وغیرھم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۔ |
جابر سے (ت) ابن عساکر نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے(ت) القاب میں شیرازی نے ابن عبدالبر وغیرہم نے حضرت ابنِ عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔(ت) |
(٢٢) اور ارشاد فرمایا کہ میں نے انہیں اپنا قمیض مبارك اس لئے پہنایا کہ یہ جنّت کے لباس پہنیں۔ ابونعیم نے معرفۃ الصحابہ اور دیلمی نے مسند الفردوس میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی :
|
قال لماماتت فاطمۃ اُمّ علی رضی اﷲ تعالٰی عنھا، خلع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قمیصہ والبسھاایاہ، واضطجع فی قبرھا فلما سوی علیھاالتراب قال بعضھم یارسول اﷲ رأیناك صنعت شیئالم تصنعہ باحد، فقال انی البستھا قمیصی لتلبس من ثیاب الجنۃ واضطجعت معھا فی قبرھا لاخفف عنھا من ضغطۃ القبر، انھاکانت احسن خلق اﷲ نیعا الیّ بعد ابی طالب۔ [1] |
فرمایاجب حضرت علی کرم اﷲ وجہہ، کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا انتقال ہوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنا کُرتا اتار کر انہیں پہنایا اور ان کی قبر میں لیٹے، جب قبر پر مٹی برابر کردی گئی تو کسی نے عرض کیایارسول اﷲ ! آج ہم نے آپ کو وہ عمل کرتے دیکھا جو حضور نے کسی کے ساتھ نہ کیا۔ فرمایا اسے میں نے اپنا کُرتا اس لئے پہنایا کہ یہ جنت کے کپڑے پہنے اور اس کی قبر میں اس لئے لیٹا کہ قبر کے دبانے میں اس سے تخفیف کروں یہ ابوطالب کے بعد خلقِ خدا میں سب سے زیادہ میرے ساتھ نیك سلوك کرنے والی تھی۔(ت) |
(۲۳) بلکہ صحاح ستّہ سے ثابت کہ جب عبداﷲ بن اُبی منافق کہ سخت دشمن حضور سیدالمحبوبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تھا جس نے وہ کلمہ ملعونہ لئن رجعنا الی المدینۃ(جب ہم مدینہ کو لوٹیں گے الخ۔ت)کہا، جہنم واصل ہوا، حضور پُر نور حلیم غیور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اُسکے بیٹے حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ابن عبداﷲ بن اُبی کی درخواست سے کہ صحابی جلیل ومومن کامل تھے،اُس کے کفن کے واسطے اپنا قمیص مقدس عطافرمایا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع