30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الرحمٰن الرحیم ففعل ثم رؤی فی المنام فسئل فقال لما وضعت فی القبرجاء تنی ملٰئکۃ العذاب فلمارأوا مکتوبا علی جبھتی بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم قالو اٰمنت من عذاب اﷲ [1]۔ |
الرحیم لکھ دیں، لکھ دی گئی، پھر خواب میں نظر آئے حال پوچھنے پر فرمایا جب میں قبر میں رکھا گیا عذاب کے فرشتے آئے میری پیشانی پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم لکھی دیکھی کہا تجھے عذابِ الٰہی سے امان ہے۔ |
(١٢) فتاوٰی کبری للمکی میں ہے :
|
بقل بعضھم عن نوادرالاصول للترمذی مایقتضی ان ھذاالدعاء لہ اصل وان الفقیہ ابن عجیل کان یأمربہ ثم افتی بجواز کتابتہ قیاسا علٰی کتابۃ ﷲ،فی نعم الزکٰوۃ٢ [2]۔ |
بعض علماء نے نوادرالاصول امام ترمذی سے وہ حدیث نقل کی جس کا مقتضٰی یہ ہے کہ یہ دُعا اصل رکھتی ہے، نیز ان بعض نے نقل کیا کہ امام فقیہ ابن عجیل اس کے لکھنے کا حکم فرمایا کرتے ، پھر خد انہوں نے اس کے جوازِ کتابت پر فتوٰی دیا اس قیاس پر کہ زکوٰۃ کے چوپایوں پر لکھا جاتا ہے ﷲ(یہ اﷲ کے لئے ہیں) ۔ |
(١٣) اُسی میں ہے :
|
واقرہ بعضھم بانہ قیل یطلب فعلہ لغرض صحیح مقصود، فابیح وان علم انہ یصیبہ نجاسۃ[3] ۔ ھذا ما اثر، ثم نظر و فیہ نظر کما سیأتی وباﷲ توفیق۔ |
اس فتوے کو بعض دیگر علماء نے برقرار رکھا (١٤) اور اس کی تائید میں بعض اورعلماء سے نقل کیا کہ غرض صحیح کے لئے ایسا کرنا مطلوب ہوگا اگرچہ معلوم ہو کہ اسے نجاست پہنچے گی۔یہ انہوں نے نقل کیا پھر اس پر کلام کی اور اس پر کلام ہے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔اور توفیق خداہی سے ہے۔(ت) |
مقامِ دوم : احادیث مؤیدہ
اقول: (١٥) حدیث صحیح میں ہے بعض اجلۂ صحابہ نے کہ غالبًا سیّدنا عبدالرحمن بن عوف یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع