30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ۱۴ : از ملك مالوا شہر اندور چھینپہ باکھل مرسلہ اسمٰعیل قادری احمد آباد والا
یہاں میت ہوگئی تھی اُس کے کفنانے کے بعد پھولوں کی چادر ڈالی گئی، اس کو ایك پیش امام افغانی نے اتار ڈالا اور کہا یہ بدعت ہے ہم نہ ڈالنے دیں گے۔ دوسرے جو غلاف کا پارچہ سیاہ کعبہ شریف سے لاتے ہیں وہ ٹکڑا ڈالا ہُواتھا اسے ہٹادیا اورکہایہ روافض کا رواج ہے ہم نہ ڈالیں گے اسے الگ ہٹاکے اس نے نماز جنازہ پڑھائی۔
الجواب:
پھولوں کی چادر بالائے کفن ڈالنے میں شرعاً اصلاً کوئی حرج نہیں بلکہ نیتِ حسن سے حسن ہے جیسے قبور پر پھول ڈالنا کہ وہ جب تك تر ہیں تسبیح کرتے ہیں اس سے میّت کا دل بہلتا ہے اور رحمت اترتی ہے۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
|
وضع الورد والریاحین علی القبورحسن [1]۔ |
قبروں پر گلاب اور پھولوں کا رکھنا اچھا ہے۔(ت) |
فتاوٰی امام قاضی خان و امداد الفتاح شرح المصنف لمراقی الفلاح و ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :
|
انہ مادام رطبایسبح فیؤنس المیت وتنزل بذکرہ الرحمۃ [2]۔ |
پھول جب تك تر رہے تسبیح کرتا رہتا ہے جس سے میت کواُنس حاصل ہوتا ہے اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے۔(ت) |
یونہی تبرك کے لئے غلافِ کعبہ معظمہ کا قلیل ٹکڑا سینے یا چہرے پر رکھنا بلا شبہہ جائز ہے اوراسے رواجِ روافض بتانا محض جھوٹ ہے۔ اسدالغابہ وغیرہا میں ہے :
|
لما حضرہ الموت اوصی ان یکفن فی قمیص کان علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام کساہ ایاہ، وان جعل ممایلی جسدہ، وکان عندہ قلامۃ اظفارہ علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام فاوصی ان تسحق وتجعل فی عینیہ وفمہ، وقال افعلوا ذلك وخلوبینی |
جب حضرت امیر معاویہ کا آخری وقت آیا وصیت فرمائی کہ اُنہیں اُس قمیص میں کفن دیا جائے جونبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں عطافرمائی تھی ، اوریہ ان کے جسم سے متصل رکھی جائے، ان کے پاس حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ناخن پاك کے کچھ تراشے بھی تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع