دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

پلٹن کے سپاہیوں میں نہیں بلکہ ایك جرنیل کے ملازم ہیں بعض مسائل میں دوسرے مسلمان سے حجت کی اور مارپیٹ ہوئی ، کرنیل نے اُن تنہا مسلمان کو ان کی جماعت میں شریك ہونے سے ممانعت کردی اور ان سب سے کہہ دیا اگر یہ شخص تمھاری نماز کی جگہ آئے تو اس کو قید کرلو اور ہمارے پاس پہنچادو ، ایسی حالت میں نماز جمعہ قلعہ کے اندر اداہوجائے گی یا نہیں ؟

(٢) جمعہ کے دو رکعت فرضوں کے سوا کَے(کتنے) رکعت نماز سنت پڑھنا چاہئے ؟ فرضوں سے پہلے کَے رکعت اور بعد فرضوں کے کَے رکعت ؟ اور احتیاطی ظہر پڑھنے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

اللھم ھدایۃ الحق والصواب( اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے ۔ ت) اذن عام کہ صحتِ جمعہ کے لئے شرط ہے ، اُس کے یہ معنی کہ جمعہ قائم کرنے والوں کی طرف سے اُس شہر کے تمام اہل جمعہ کے لئے وقت جمعہ حاضری جمعہ کی اجازت عام ہو تووقت جمعہ کے سوا باقی اوقات نماز میں بھی بندش ہو تو کچھ مضرنہیں نہ کہ صرف رات کے ساڑھے نو بجے سے صبح پانچ بجے تك ، کتب مذہب میں تصریح ہے کہ بادشاہ اپنے قلعہ یا مکان میں حاضری جمعہ کا اذنِ عام دے کر جمعہ پڑھے تو صحیح ہے حالانکہ قصرو قلعہ شاہی عام اوقات میں گزرگاہ عام نہیں ہوسکتے ، کافی شرح وافی میں ہے :

السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا واذن للناس اذنا عاماجازت صلٰوتہ شھدتھا العامۃ اولا  [1]۔

بادشاہ اپنے دبدبہ کی وجہ سے اپنے دار میں نماز ادا کرنا چاہتاہو اگر اس دار کا دروازہ کھول دیا جائے اور لوگوں کو وہاں داخل ہونے کا اذن عام ہوگیا تو اس کی نماز درست ہوجائے گی خواہ عوام شریك ہوں یا نہ ہوں (ت)

اور بے پاس کسی چیز کی باہر لانے کی ممانعت تو یہاں سے کچھ علاقہ ہی رکھتی ہے کہ وہ خروج سے منع ہے نہ دخول سے یونہی مزدوروں یا سیر والوں یا خریداروں کو اجازت عام ہونا کچھ مفید نہیں کہ وقت نماز بہر نماز اہل نماز کو اجازت چاہیے اوروں کو ہونے نہ ہونے سے کیا کام ، اور اذن اگر چہ انھیں لوگوں کا شرط ہے جو اس جمعہ کی اقامت کرتے ہیں ، ردالمحتار میں ہے : المراد الا ذن من مقیمھا [2]  ( جمعہ قائم کرنے کی اجازت مراد ہے ۔ ت)مگر پر ظاہر کہ تحقق معنی اذن کے لئے اُ س مکان کا صالح اذن عام ہونا بھی ضرور ، ورنہ اگر کچھ لوگ قصر شاہی یاکسی امیر کے گھر میں جمع ہو کر اذان واعلان جمعہ پڑھیں اور اپنی طرف سے تمام اہل شہر کو آنے کی اجازت عامہ دے دیں  مگر بادشاہ امیر کی طرف سے دروازہ پر پہرے بیٹھے ہوں عام حاضری کی مزاحمت ہو تو مقیمین کا وہ اذن عام محض لفظ بے بمعنی ہوگا وہ زبان سے اذن عام کہتے اور دل میں خود جانتے ہوں گے کہ یہاں اذن عام نہیں ہوسکتا ۔ پس مانحن فیہ میں دو باتیں محلِ نظر رہیں :

اوّلا اُس قلعہ کا صالح اذن عام ہونا یعنی اگرتمام اہل شہر اُسی قلعہ میں جمعہ پڑھنا چاہیں تو کوئی ممانعت نہ کرے ، طحطاوی میں ہے :

لوارادا الصلٰوۃ داٰخلھا ودخلوھا جمیعا لم یمنعوا [3]۔

اگر لوگوں نے قلعہ کے اندر نماز کا ارادہ کرلیا اورتمام اس کے اندر داخل ہوگئے تو انھیں منع نہ کیا جائے ۔ (ت)

اگر ایسا ہے تو بیشك وہ قلعہ صالح اذن عام ہے اور ایسی حالت میں دروازہ پر چوکی پہرہ ہونا کچھ مضر نہ ہوگا کہ پہرا وہی مانع ہے جو مانع دخول ہو ، ولہذا کافی میں بصورت عدم جواز صرف اجلس البوابین( پہرے دار بیٹھا دیئے۔ ت) نہ فرمایا بلکہ لیمنعوا عن الدخول[4] ( تاکہ دخول سے منع کریں ۔ ت) بڑھایا ، یونہی رحمانیہ میں محیط سے منقول :

ان اجلس البوابین علیھا لیمنوا عن الدخول لم یجزھم الجمعۃ [5]۔

اس نے پہرے داروں کو دروازوں پر داخلے سے منع کرنے کے لئے بٹھا دیا تو اب جمعہ جائز نہ ہوگا ۔ (ت)

تو صرف شوکت شاہی یا اُس قانون کی رعایت کو کہ بے پاس کوئی اندر سے باہر نہ جائے ، پہرا ہونا مکان کو صلاحیت اذن عام سے خارج نہیں کرتا اور اگر اجازت سو پچاس یا ہزار دوہزار کسی حدتك محدود ہے جیسا کہ بعض الفاظ سوال سے مستفادہ ، اگر تمام جماعات شہر جانا چاہیں نہیں جانے دیں گے تو وہ مکان بندش کا ہے اس میں جمعہ نہیں ہوسکتا بدائع میں اشتراط اذن عام کی دلیل میں فرمایا :

یسمی جمعۃ لاجتماع الجماعات فیھا فاقتضٰ ان تکون الجماعات کلھا مأذونین بالحضور اذنا عاما تحقیقا لہ معنی الاسم [6]۔

جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو آنے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کاثبوت ہو ۔ (ت)

ثانیًا  اگر ثابت ہوجائے کہ یہ قلعہ اذن عام کا مکان ہے تو جب تك کسی شخص خاص کو حاضریِ نماز سے ممانعت نہ تھی جمعہ بیشك صحیح ہوجاتاتھا اب کہ اُس ملازم جرنیل کو منع کیا گیا تو محلِ نظر ہے کہ یہ ممانعت ان مقیمان جمعہ کی طرف سے بھی ہے یا نہیں ۔ اگر یہ اُسے جمعہ میں آنے سے منع نہیں کرتے اگر چہ اور نمازوں میں مانع ہوں اگر چہ کرنیل نے اُسے جمعہ سے بھی جبرًا روکا ہو یا وہ خود بخوفِ کرنیل نہ آتا ہو تو ان صوتوں میں بھی صحتِ جمعہ میں شك نہیں کہ جب مقیمین جمعہ کی طرف سے اذنِ عام اور وہ مکان بھی اذن عام کا صالح تو کسی شخص کو غیرجمعہ سے توروکنا یا جمعہ میں اُس کا خود آنا یا کسی کا جبرًا اُسے بازرکھنا قاطع اذن عام نہیں ہوسکتا جیسے زندانی لوگ کہ ہمیشہ حضوریِ مساجد سے ممنوع ہوتے ہیں یا اگر کوئی شخص بعض نمازیوں کو خاص وقت نماز اس لئے مقید کرلے کہ مسجد میں نہ جانے پائیں تو نہ یہ قادح اذن عام نہ مقمانِ جمعہ پر اس کا الزام ، بلکہ ظاہرًا ممانعت کرنیل بھی کوئی اپنی طرف سے حکمِ جبری نہیں انھیں پلٹن والوں کی خاطر سے ہے اور انھیں کی مرضی پر رکھا ہے جب یہ مزاحمت نہیں کرتے تو کرنیل کو پر خاش سے کیا مطلب ، اور اگر یہ خود اُسے حاضری جمعہ سے بازرکھتے ہیں تو دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص فی الواقع شریر ومفسد و موذی ہے کہ اُس کے آنے سے اندیشہ فتنہ ہے جب تو ایسی ممانعت بھی مانع صحتِ جمعہ نہ ہوگی کہ قادح اذن عام سے روکنا ہے۔

 



[1]    ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٦٠١

[2]    ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٦٠١

[3]    طحطاوی علی الدرالمختار باب الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ /  ٣٤٤

[4]    ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۶۰۱

[5]    رحمانیۃ عن المحیط 

[6]    بدائع الصنائع فصل شرائط الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ١ /  ٢٦٩

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن