دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

جب یہ واضح ہولیا اور معلوم ہے کہ صحتِ خطبہ کے لئے نیتِ خطبہ شرط ہے یہاں تك کہ اگر منبر پر جاکر چھینك آئی اور چھینك پر الحمد اﷲ کہا خطبہ ادا نہ ہوا ، اشباہ میں ہے :

ما النیۃ للخطبۃ فی الجمعۃ فشرط صحتھا حتی لو عطس بعد صعود المنبر فقال الحمد ﷲ للعطاس غیر قاصد لھا لم تصح کما فی فتح القدیر وغیرہ [1] الخ (ملخصًا)

خطبہ جمعہ کی نیت صحتِ خطبہ کے لئے شرط ہے حتی کہ اگر خطیب کو منبر پر چڑھنے کے بعد چھینك آئی اور اس نے الحمداﷲ کہا لیکن خطبہ کی نیت نہ تھی تو یہ خطبہ نہ ہوگا ، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے الخ (ت)

تو لازم ہو اکہ خطیب معنی خطبہ سے آگاہ ہو یعنی یہ جانتا ہو کہ خطبہ ایك ذکر الہٰی کا نام ہے تاکہ اس کی نیت کرسکے ورنہ نام خطبہ جانا بھی اور یہ نہ جانا کہ خطبہ کسے کہتے ہیں بلکہ لوگوں کے دیکھا دیکھی بے سمجھے ایك فعل کردیا تو بیشك نماز جمعہ ادا نہ ہوگی کہ یہ وہی نام خطبہ کا خیال ہوا نہ نیتِ خطبہ ،

وقد منا عن الشامی العلم بنفس اللفظ غیر العلم بمعنی اللفظ [2] والشرط انما ھوانیۃ مایعنی من الخطبۃ لا نیۃ لفظ الخطبۃ وھذا ظاھر جدا۔

ہم نے پہلےشامی سے بیان کیا ہے کہ لفظ کا علم اس کے معنی کے علم سے الگ ہے تو شرط اس کی نیت ہے جو خطبہ سے مراد ہے نہ کہ الفاظ خطبہ کی نیت ، اور یہ نہایت ہی واضح ہے ۔ (ت)

اور جب نیت نہ ہوئی کہ شرط صحت خطبہ تھی خطبہ نہ ہوا ، اور جب خطبہ نہ ہوا کہ شرطِ صحت جمعہ تھا جمعہ نہ ہوا جس طرح کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر خود بھی ان کے سے افعال کرے اور معنی نماز سے جاہل ہو یعنی نہ جانے کہ نماز خدا کا ایك فرض ہے کہ بفرض امتثال امر اداکیا جاتا ہے ہر گز نماز نہ ہوگی ۔ اشباہ میں ہے :

لا یعلم ان ﷲ تعالٰی علی عبادہ صلٰوۃ مفروضۃ ولکنہ کان یصلیھا لا وقاتھا لم یجزہ[3]۔

اگرکوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اﷲ تعالٰی کیلئے بندوں پر نماز فرض ہے ____ لیکن وہ اوقاتِ نماز میں نماز ادا کرتا ہے تو یہ کافی نہیں ۔ (ت)

یہ معنی ہیں معنی خطبہ نہ جاننے کے ، نہ یہ کہ جو عبارت پڑھے اس کا ترجمہ سمجھنا ضروری ہے ، یہ کسی اك بھی مذہب نہیں ھکذا ینبغی التوجیھہ ( عبار ت کی توجہ اسی طرح ہونی چاہئے ۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم 

مسئلہ۱۲۷۹ :      از افضل گڈھ ضلع بجنور مرسلہ یوسف خاں وغیرہ   ٢٦ رمضان المبارك ١٣٣٣ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید جمعہ کے دن جب خطبہ پڑھتا ہے تو اس کے بعد ترجمہ بھی پڑھتا ہے اس لئے خطبہ ثانیہ میں توقف ہوتا ہے اور خطبہ ثانیہ کے بعد ترجمہ پڑھنے سے نماز میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ خطبہ مع ترجمہ بزبان غیر عربی جمعہ یا عیدن کا جائز ہے یا نہیں ؟ اور توقف مابین ہر دو خطبہ شرعًا جائز ہے؟ اور خطبہ ثانیہ کے بعد تاخیر نمازِ جمعہ میں ہوگی وہ بھی شرعًا جائز ہے ؟ بینوا توجروا

الجواب :

ترجمہ کے سبب خطبہ ثانیہ یا نماز جمعہ میں تاخیر فصل اجنبی تو نہیں ہے کہ ترجمہ خطبہ بھی خطبہ ہے اذفیھا ما فیھا من الذکر والتذکیر ( کیونکہ اس میں ذکر و نصیحت ہے ۔ ت) ہاں خطبہ کی تطویل ہوگی اور یہ خلاف سنت ہے خصوصًا اگر مقتدیوں پر ثقیل ہو کہ اب سخت ممانعت ہے۔

لحدیث قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :  افتان انت یا معاذ ! قالہ فی الصلٰوۃ فکیف فی الخطبۃ [4]۔

حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ارشاد مبارك ہے اے معاذ! تو فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے ، یہ آپ نے نماز کے بارے میں فرمایا تھا تو خطبہ میں کیا حال ہوگا۔ (ت)

اور نہ بھی ہو تو خطبہ میں غیر زبان عربی کا خلط خود مکروہ اور سنتِ متوارثہ کے خلاف ہے کمابیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے خوب بیان کیا ہے ۔ ت) ہاں عیدین میں خطبہ ثانیہ اگرلوگ راضی ومتوجہ ہوں بہ نیت وعـظ نہ بہ نیت خطبہ عید پند و نصیحت کر سکتا ہے اگر چہ وہی خطبہ میں بزبان عربی مذکور ہوئی۔

فقداتی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد خطبۃ العید الی النساء فوعظھن وذکر ھن[5]۔   واﷲ تعالٰی اعلم

آپ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خطبہ ، عید کے بعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لے جاکر انھیں وعظ ونصیحت فرماتے ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۲۸۰ و ۱۲۸۱ :         از کلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب          ٢٦ صفر ١٣١٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) قلعہ کلکتہ میں دروازوں پر پہرہ چوکی رہتا ہے اور دس پانچ کیا سو پچاس آدمی بغرضِ سیر جائیں یا دوسری غرض سے مثلًا کسی کے ملاقات کو ، تو کوئی مانع ومزاحم نہیں ہوتا ، تین چار ہزار مزدور اندر کام کرتے ہیں جو صبح کو بے روك ٹوك اندر جاتے اور باہر آتے ہیں ، ہاں شب کے ساڑھے نو بجے سے عام لوگ پانچ بجے تك اندر نہیں جاسکتے اند ربازار بھی ہے جوچاہے باہر سے اشیاء خریدنے کو جائے کچھ ممانعت نہیں ، انگریزی جو تا قلعہ میں عمدہ بنتا ہے اکثر لوگ اس کے خرید نے کو جاتے اور خرید کرلاتے ہیں ، ہاں یہ قاعدہ ہے کہ باہر سے جو چاہے جو چیز چاہے اند رلے جائے مگر اند رسے بغیر پاس کے کوئی چیز باہر نہیں لاسکتا ، مسجد اندر نہیں ہے ، جماعت اذان کے ساتھ ہوتی ہے ، پیشترکی پلٹن میں مسلمان بکثرت تھے ، نماز باجماعت ہوتی تھی اب جو پلٹن ہے اس میں ہندو بہت ہیں ، مسلمان قریب ستر کے ہوں گے ، انھوں نے کرنیل سے درخواست کی کہ ہم اپنا مولوی نماز پڑھانے کی غرض سے رکھنا چاہتے ہیں اس نےاجازت دی اور انھوں نے رکھ لیا ، ایك وقت میں ایك مسلمان صاحب نے جو



[1]    الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /  ۲۹

[2]    ردالمحتار ، باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٣٠٧

[3]    الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ /  ٥٩

[4]    مسند احمد بن حنبل ، مروی از جابر بن عبداﷲ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /  ٢٩

[5]    مشکوٰۃ المصابیح باب صلٰوۃ العیدین الفصل الثانی مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص١٢٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن