دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اور مجتبٰی اگر چہ مثل سائر تصانیف زاہدی کتب معتمدہ سے نہیں تاہم مشہور مصنف کی مشہور تصنیف ہے جس سے علماء مابعد نے صدہا مسائل نقل فرمائے مگر ایسے ہی نوادر غرائب کے باعث پایہ اعتماد سے ساقط ہوئی پھر بالفرض اگر فتاوٰی ابوالبرکات کا یہ مطلب ہو بھی تو اس قسم کے فتاوی ایك بات اور وہ بھی اتنی بے ثبات جس پر شروع سے اصلًا دلیل نہیں ، کیونکر ادنٰی التفات کے قابل ہوسکتی ہے ، اس میں شك نہیں کہ تدبرمعنی جمال محمود وکمال مقصود ہے مگر فقہائے کرام نے عمومًا عبادات کے کسی ذکر میں نفس نیت کے سواقلب کاکوئی حصہ ایسا نہیں رکھا جس پر فساد و صحت کی بنا ہو یہاں تك کہ اصل حضور قلب جس کے معنی یہ ہیں کہ صدور فعل وقول پر متنبہ ہو اگر چہ معنی کلام نہ سمجھے یہ بھی صحتِ نماز کے لئے ضروری نہیں ، ملتقط وخزانہ وسراجیہ وشرح قیدانی للقہستانی وغمز العیون وردالمحتار وغیرہا میں ہے :

لا یعتبر قول من قال لا قیمۃ لصلوۃ من لم یکن قلبہ فیھا معہ [1]۔

اس کا قول معتبر نہیں جس نے کہا کہ اس شخص کی نماز کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ اس کا دل نہ تھا (ت)

علامہ شامی نے فرمایا :

حضور القلب ھوا لعلم بالعمل بالفعل والقول الصادرین من المصلی وھو غیر التفھم فان العلم بنفس اللفظ غیر العلم بمعنی اللفظ ۔[2] (ملخصا)

حضور قلب ، صادر ہونے والے فعل وقول کا علم ہے اور تفہم کا غیر ہے کیونکہ نفس لفظ کاعلم اور اس علم کا غیر ہوتا ہے جو لفظ کے معنی کا علم ہو ۔ (ت)

اور خطبہ جمعہ کا ذکر تذکیر کے لئے مشروع ہونا کما قال تعالٰی فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ [3] ( جیسا کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا پس اﷲ کے ذکر کی طرف جلدی چلو۔ ت) ہر گز اس دعوٰی کا مثبت نہیں ہوسکتا جب الفاظ الفاظ ذکر ہں اور اس نے بالقصد انھیں ادا کیا قطعًا ذکر متحقق ہوا ، تدبر معنی پر توقف نہیں ورنہ واجب کہ نماز میں بھی فہم معنی قال تعالٰی  اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(۱۴) [4] ۔ ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا میرےذکر کے لئے نمازقائم کروں ۔ ت) علاوہ بریں تذکیر سے تذکر زیادہ محتاج فہم وتدبر  ؎

مردباید کہ گیرد اندر گوش

ورنوشت ست پند بر دیوار

( انسان کو چاہئے کہ وہ محفوظ کرے اگر چہ نصیحت لکھی ہو دیوار پر )

حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مقتدی اگر بہرے یاسوتے یا اس قدر دورہوں کہ آواز نہ جائے مگر وقتِ خطبہ حاضر ہوں کافی ہے شرط ادا ہوگئی فہم معنی جدا ، نفسِ سماع کی بھی ضرورت نہیں ، ردالمحتار میں ہے :

لا یشترط لصحتھا کونھا مسموعۃ لھم بل یکفی حضورھم حتی لو بعدوا عنہ اونا موا اجزأت۔  [5]۔

صحتِ خطبہ کے لئے تمام لوگوں کا سننا ضروری نہیں بلکہ لوگوں کا حاضر ہوجانا کافی ہوگا حتی کہ اگر وہ خطیب سے دور رہے او رسوگئے تب بھی خطبہ ادا ہوجائے گا (ت)

تنویر میں ہے :

ولوصمًّا [6]

( اگر چہ نہ سننے والا ہو۔ ت)

اقول : وباﷲ التوفیق حقیقت امر یہ ہے کہ ہر چندا حکام شرعیہ عمومًا حکم ومصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیت خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے مگر حکمت نہیں ہوتی کہ اُس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم  آئے مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت کہ مردِ عنین وزنِ رتقا وقرنا میں دونوں اور بحالت عقم اول منقی مگر پھر بھی صحتِ نکاح میں شہہ نہیں ، صوم کی حکمت کسرِ شہوت اور نفس کی ریاضت ، پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اُسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اُسے روزے کا حکم دیں گے یا اُس کے صوم کا فاسد مانیں گے وقس علی ھذا ( او راس پر قیاس کر ۔ ت) یہ سب کلام اُس تقدیر پر ہے کہ عبارت مذکورہ سوال کا وہ مطلب ہو یہ فتاوٰی فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ سیاق وسباق دیکھ کر تعین مراد کی جاتی مگر جتنے لفظ سائل نے نقل کئے فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ کی رائے میں ان کی عمدہ توجیہ یوں ممکن کہ نیت نام قصد قلبی کا ہے او رقصد شے اس کے علم پر موقوف ، آدمی جس چیز کو جانتا ہی نہ ہو اُس کا قصد محض بے معنی ، اور کسی شے کا جاننا اسے نہیں کہتے کہ صرف اس کا نام معلوم ہو جس کے معنی ومراد سے ذہن بالکل خالی ہو بلکہ اس کے مفہوم سے اگاہی ضروری ہے مثلًا طوطے کو زید کا نام سکھا دیں تو یہ نہ کہیں گے کہ وہ زید کو جانتا ہے ، اسی لئے علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص نمازِ فرض میں فرض کی نیت توکرے مگر یہ نہ جانے کہ فرض کسے کہتے ہیں نماز نہ ہوگی کہ صلٰوۃ فریضہ میں نیتِ فرض بھی ضروری تھی جب وہ معنی فرض سے غافل ہے تو لفظ فرض کا خیال ہوا نہ نیتِ فرض کہ فرض تھی

فی الاشباہ عن العنایۃ انہ ینوی الفریضۃ فی الفرض الخ ثم نقل عن القنیۃ ینوی الفرض ولا یعلم معناہ لا یجزیہ [7]۔

اشباہ میں عنایہ سے ہے کہ فرض میں فرض ہونے کی نیت کی جائے الخ پھر قنیہ سے منقول ہے کہ اگر فرضوں کی نیت کی لیکن اس کا معنٰی نہ جانتا تھا تو اب یہ اس کے لئے کافی نہیں ۔ (ت)

 



[1]    ردالمحتار باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٣٠٧

[2]    ردالمحتار باب شررط الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۳۰۷

[3]    القرآن ٦٢ /  ٩

[4]    القرآن ۲۰ /  ۱۴

[5]    ردالمحتار باب الجمعہ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٩٨

[6]    درمختار باب الجمعہ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۱۱۱

[7]    الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الثانیہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /  ۵۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن