دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

امام اجل ظہیر الملّۃ والدین مرغینانی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :

اکثر مشائخ بخارا علیہ للیخرج عن العھدۃ بیقین [1]۔

مشائخ بخارا کی اکثر یت کی یہی رائے ہے تاکہ ذمہ داری سے عہدہ برآہو جائے ۔ ( ت)

فتاوٰی سراجیہ میں ہے :

احتاطت الائمۃ فی اکثر البلاد فانھم یصلون الظھر بعد مایؤدون الجمعۃ خلف ثواب ھؤلا ء ھوحسن [2]۔

اکثر شہروں میں ائمہ احتیاط کرتے ہیں کہ جمعہ کی ادائیگی کے بعد ظہر پڑھتے ہیں ناءبین کے پیچھے جمعہ کی ادائیگی کے بعد اور یہ اچھا ہے ۔ (ت)

ہاں وہ نرے جاہل عامی لوگ کہ تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں یا ان رکعات کے باعث راسًا جمعہ کو غیر فرض یا جمعہ کے دن دو نمازیں فرض سمجھنے لگیں اُنھیں ان رکعات کا حکم نہ دیا جائے بلکہ ان کی ادا پر مطلع نہ کیا جائے کہ مفسدہ اشد واعظم کا دفع آکدواہم ان کے لئے اسی قدر بس ہے کہ بعض روایات واقوالِ ائمہ مذہب پر ان کی نماز صحیح ہوجائے لہذا سیدی نورالدین مقدسی نورالشمعہ میں فرماتے ہیں :

نحن لا نأ مربذلك امثال ھذہ العوام بل ندل علیہ الخواص ولو بالنسبۃ الیھم [3]۔

ہم اس طرح کے معاملات کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ ہم خواص کو اس پر آگاہ کرتے ہیں اگر چہ وہ ان کی نسبت سے ہو ۔

اس تحقیق سے ظاہر کہ ان بلاد میں مطلقًا صحتِ جمعہ کو قطعی یقینی بلا اشتباہ ماننا افراط اور اقاویل مذہب وخلافیاتِ مشائخ سے غفلت وذہول ہے اور جمعہ کو صرف درجہ مستحب میں جاننا محض باطل وتفریط وقواعہ شرح مقاصد ائمہ سے عدول ، اگراول حق ہوتا تو احتیاط کی کیا حاجت تھی کہ خروج عنالعہدہ بالیقین ہو لیا ، او رثانی صحیح ہوتا تو صرف احتیاط ماننے کے کیا معنی تھے بلکہ یقیناظہر فرض قطعی ہوتا ور ایك مستحب کے سبب جماعتِ ظہر کو کہ علی المعتمد واجب ہے ترك کرنا مکروہ تحریمی معہذا جمعہ مستحبہ نہ شرع سے معمہود نہ کلمات علماء اُس کے مساعد پس قولِ وسط وانصاف یہ ہے ان شہروں میں جمعہ ضرور لازم ہے اور اس کا ترك معاذ اﷲ ایك شعار عظیم اسلام سے اعراض ، اور ان چار رکعت احتیاطی کا خواص کو حکم اور نافہم عامیوں کے حق میں اغماض ۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم ،

مسئلہ ١٢٧٨ :      مرسلہ مولوی الہ یار خاں صاحب                      ٢١ ذی الحجہ ١٣٠٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جو فتاوٰی ابوالبرکات میں لکھا ہے لا تجوز الجمعۃ حتی یعلم الخطیب معناہ( جب خطیب ، خطبہ کے معانی اگاہ نہ ہو جمعہ جائز نہیں ۔ ت) یہ صحیح ہے یا کیا : بینوا توجروا

الجواب :

خطیب کا معنی عبارت خطبہ سمجھنا شرط کیا ، معنی ہر گز واجب بھی نہیں کہ آثم کہہ سکیں ، جمعہ ناجائز ہونا تو درکنار اگریہ قول صحیح ہوتا واجب تھا کہ کتب مشہور ہ متداولہ اس کی تصریحوں سے مالا مال ہوتیں ایسا نہایت ضروری مسئلہ جس پر نماز فرض کے صحتِ وبطلان کا مدار ہو اور متون وشروح وفتاوٰی کہیں اس کا پتا نہ دیں ہر گز عقل سلیم اسے قبول نہیں کرسکتی ولہذا مجتبٰی میں جو بہت سی شرائط نیت نمازفرض و نفل میں ذکر کیں جب کا تصانیف معتمدہ میں وجود نہ تھا علماء نے اسی وجہ سے ان کی طرف اصلًا التفات نہ فرمایا ، اشباہ میں ہے :

من الغریب مافی المجتبٰی لابد من نیۃ العبادۃ والطاعۃ والقربۃ وانہ یفعلھا مصلحۃ لہ فی دینہ وان یکون اقرب الی ماوجب عندہ عقلا عــــہ من الفعل واداء الا مانۃ وابعد

عجیب ہے وہ چیزیں جس کا تذکرہ مجتبٰی میں ہے کہ نیت عبادت طاعت اورثواب کا ہونا ضروری ہے ، اوریہ بھی ضروری ہے کہ وہ اسے اپنے دین کی مصلحت کی اور عقلا واجب شدہ عمل اور ادائیگی امانت سے قریب اور حرام شدہ ظلم اور

 

عــــہ :  قلت افصح الذاھدی ھھنا عن اعتزالہ فان الوجوب عنداھل الحق شرعی لاعقلی ۱۲منہ (م)

میں کہتا ہو ں زاہدی نے یہاں اپنے معتزلہ ہونے کا اظہار کیا ہے کیونکہ اہل حق کے نزدیك فعل شرعی ہوتا ہے عقلی نہیں ہوتا ۱۲ منہ (ت)

عما حرم علیہ من الظلم وکفران النعمۃ ثم ھذہ النیات من اول الصلٰوۃ الٰی اٰخرھا خصوصا عند الانتقال من رکن الی رکن ولا بد من نیۃ العبادۃ فی کل رکن والنفل کالفرض فیھا الافی وجہ واحد وھو ان ینوی فی النوافل انھا لطف فی الفرائض و تسھیل لھا [4] اھ ملخصا                                  

کفرانِ نعمت سے بُعد کی خاطر کررہا ہے _______ پھر یہ نیت اول نماز سے لے کر آخرتك خصوصًا جب ایك رکن سے دوسرے رکن کی طرف انتقال ہو ، اور ہر رکن میں عبادت کی نیت ضروری ہے اور اس معاملہ میں نفل بھی فرض کی طرح ہے مگر ایك صورت میں ، اور وہ یہ ہے نوافل میں یہ ارادہ کرے کہ یہ فرائض میں لطف اور ان میں آسانی کے لئے ہیں اھ ملخصًا (ت)

غمز العیون میں ہے :

اما الغرابۃ فی کون ھذہ الاشیاء لابدمن نیتھا فان الفقھاء لم یذکروا ذلك فی کتبھم متونا وشروحا وفتاوٰی[5] اھ

ان اشیاء کی غرابت یہ ہے کہ اس کی نیت کا ہونا ضروری قراردیا گیا ہے حالانکہ فقہاء نے یہ بات اپنی کتب کے متون وشروح اور فتاوٰی میں کہیں نہیں لکھی اھ (ت)

 



[1]    فتاوٰی امام اجل ظہیر الدین المرغینانی

[2]    فتاوی سراجیہ باب الجمعۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۱۷

[3]    نور الشمعۃ

[4]    الاشباہ والنظائر الفن الاول قاعدہ ثانیہ مطبوعہ ادارۃ القرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ١ /  ٧٠۔ ٦٩

[5]    غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر قاعدہ ثانیہ مطبوعہ ادارۃ القرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ١ /  ٧٠

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن