30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلاشك وشبہ عین فرض یقینا نماز جمعہ پر آمنًا وصدقنا سے یقین رکھنا چاہئے اور جو بعد نماز جمعہ کے احتیاطی فرض نماز پیش کے پڑھے جاتے ہیں یہ نہیں پڑھنے چاہئیں ، اور بعض بعض عالم فاضل لائق فتوٰی کے بنظر حالات سلطنت دقت کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ عین فرض تھی مگر اس وقت بوجہ نہ ہونے سلطنت اسلام کے وہ فرضیت جو دراصل تھی اب وہ نہیں رہی نماز جمعہ کی بجائے فرضیت کے بمنزلہ مستحب کے فرماتے ہیں اور فتوٰی دیتے ہیں کہ نماز جمعہ کی ایك بڑا بھاری رکن اسلام کاہے اس کا ترك اور ان کا مطلقًا چھوڑنا اچھا نہیں بہر حال پڑھنا نمازِ جمعہ ثواب اور اچھا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی فتوٰی فرماتے ہیں کہ بعد نماز جمعہ کے احتیاطًا نماز سب پیشیں کی معہ فرضوں کے پڑھ لینا ضرور چاہئے ، اس واسطے جناب میں التماس پیش کیا جاتا ہے کہ جناب اس میں کس طرح فرماتے ہیں آیا مطابق فرقہ علمائے اول کے جو عین فرضیت کافتوٰی فرماتے ہیں یا برخلاف اُس کے اور مطابق فرقہ علمائے گروہ ثانی کے جومستحب فرماتے ہیں اور پیچھے نماز جمعہ کے جملہ نماز پیشیں معہ فرضوں کے احتیاطًا پڑھ لینا فرماتے ہیں جناب بالتشریح اسے درخواست کے محاذ پر مفصل حال جو جناب کے فتوٰی سے بہتر اور اولٰی ہو تحریر فرمادیں تاکہ ان دونوں فریق کی بحث مختلف سے یك سو اطمینان حاصل ہو فقط ۲۲ ماہ ستمبر ۱۸۹۱ء
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصوا ب( اے اﷲ ! حق اور درستی کی رہنمائی فرما۔ ت) اصل فرضیت جمعہ میں کسی کو کلام نہیں کہ وہ نہ صرف مجمع علیہا یا نص قطعی سے ثابت بلکہ اعلٰی واجل ضروریاتِ دین سے ہے مگر جمعہ باجماع امت مشروط ہے ، ہماے ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے جو شرائط اس کے لئے معین فرمائے شك نہیں کہ ان بلاد میں ان کا پورا پورا اجتماع قدرے محل اشتباہ ونزاع معہذا یہا ں عائمہ بلاد میں جماعات جمعہ متعدد ہوتی ہیں اور اگر چہ مذہب مفتی بہ میں تعد دجمعہ مثل عیدین مطلقًا جائز ، اسی پر ۱کنز و۲وافی و۳کافی و۴ ملتقی و۵تنویر و ۶ہندیہ و۷طحاوی و ۸شامی وغیرہا میں اعتماد فرمایا ۹امام اجل مفتی الجن وانس نجم الدین نسفی پھر ۱۰علامہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ اور۱۱علامہ یوسف چلپی نے ذخیرۃ العقبٰی اور۱۲علامہ شرنبلالی نےمراقی الفلاح میں اسی کو قول صحیح امام اعظم وامام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بتایا ، ۱۳شرح وقایہ میں ہے بہ یفتٰی ( اسی پر فتوٰی ہے۔ ت) ۱۴شرح المجمع للعلامہ البدر العینی میں ہے : علیہ الفتوی( اسی پر فتوٰی ہے ۔ ت) ۱۵فتح القدیر میں ہے : علی المفتی بہ ( مفتی بہ قول پر ۔ ت) ۱۶محیط شمس الائمہ سرخسی میں ہے۔ ت) الصحیح وبہ ناخذ ( صحیح ہے اور ہم اسی پر عمل پیر اہیں ، ت)۱۷تبیین الحقائق و۱۸بحر و فتح و۱۹شرح وہبانیۃ و۲۰منح الغفار و۲۱عقود الدریہ وغیرہا میں ہے : الاصح ( زیادہ صحیح ہے ۔ ت) بحر الرائق و ۲۲درمختار میں ہے : علی المذھب ( مذہب پر ۔ ت) حتی کہ علامہ حسن شرنبلالی و علامہ محمد بن علی علائی وغیر ہما نے قول آخر کے ضعیف ہونے کی تصریح فرمائی مگر عند التحقیق روایت عدم جواز تعدد بھی ساقط نہیں بلکہ مذہب کا باقوت قول ہے ۱امام طحطاوی و ۲تمرتاشی و۳صاحب مختار نے اسی کو اختیار فرمایا ، ۴امام فقیہ النفس قا ضی خاں نے خانیہ میں اسی کو مقدم رکھا ، ۵خزانۃ المفتین میں اُسی پر اقتصار کیا ، ۶عتابی و۷ اخلاطی نے اُسی کواظہر اور ۸جوامع فقہ میں اظہر الروایتین اور ۹امام ملك العلماء ابوبکر مسعود نے ظاہر الروایہ کہا ، ۱۰تکملہ رازی میں ہے : بہ ناخذ ( ہم اسی پر عمل پیرا ہیں ۔ ت)۱۱حاوی القدسی میں ہے علیہ الفتوی ( فتوی ایسی پر ہے ۔ ت) بدائع امام ملك العلماء میں ہے ۔ علیہ الاعتماد ( اعتماد اسی پر ہے ۔ ت)۱۲جواہر الاخلاطی میں ہے ھوالصحیح وھو الاصح وعلیہ الفتوی( یہی صحیح اور یہی اصح اور اسی پر فتوٰی ہے ۔ ت) آفندی شامی فرماتے ہیں فھوح قول معتمد فی المذھب لا قول ضعیف ( پس یہی یہاں معتمد قول اور مذہب ہے ضعیف قول نہیں ہے ) ان وجوہ کی نظر سے ۱ائمہ مروو ۲اکثر مشائخ بخارا و۳اصحاب امام عبد اﷲ حکم شہید و۴اصحاب امام شیخ ابی عمرو و۵اساتذہ صاحب مختار الفتاوی وغیر ہم جمہور ائمہ دین وعلمائے معتمدین نے ایسی جگہ ان چا رکعت احتیاطی کا حکم دیا اور اسی کی ۶محیط برہانی و ۷فتاوٰی ظہریہ و ۸فتاوٰی حجہ و۹واقعات و۱۰مطلب و۱۱مختار الفتاوی و۱۲نہار و۱۳کافی و ۱۴جامع المضمرات و۱۵خزنۃ المفتین و۱۶فتح القدیر و۱۷شرح المجمع و۱۸فتاوی سراجیہ و ۱۹تارتار خانیہ و۲۰حلیہ و۲۱غنیہ و۲۲صغیری و ۲۳مجمع الانہر و۲۴ تیسیر المقاصد و۲۵نہر الفائق و۲۶عالمگیریہ و ۲۷فتاوٰی صوفیہ و۲۸ خزانۃ الروایات و ۲۹قنیہ و۳۰حاوی و۳۱غرائب و ۳۲فتاوی رحمانیہ و۳۳طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح کی اسی کو ۳۴امام الحسن و۳۵امام تمرتاشی و ۳۶قاضی بدیع الدین و ۳۷محقق ابن جرباش و۳۸ابن الشحنہ و۳۹شیخ الاسلام جد ابن الشحنہ و۴۰علامہ باقانی۴۱ مقدسی و۴۲علامہ ابوسعود و ۴۳محقق شامی و۴۴ جماعت کثیرہ شراح ہدایا و۴۵غیرہا وغیرہم ائمہ وعلماء نے اختیار فرمایا علامہ ابراہیم حلبی نے اسی کو اولٰی اور امام محمود عینی نے احسن واحوط اور علامہ باقانی نے ھوالصحیح ( یہی صحیح ہے ۔ ت) اور سراجیہ میں ھو حسن ( یہ حسن ہے ۔ ت) اور حجہ ومضمرات وغیرہما میں الصحیح المختار$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع