دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

کما فی مصنف عبدالرزاق حمد ثنا بن جریج عن عطاء بن ابی رباح قال اذاکنت فی قریۃ جامعۃ فتودی بالصلٰوۃ من یوم الجمعۃ فحق علیك ان تشھدھا سمعت النداء اولم تسمعہ[1]  قال قلت لعطاء مالقریۃ الجامعۃ قال ذات الجماعۃ والامیر والقاضی والدورالمجتمۃ غیرالمفترقۃ الاٰخذ بعضھا ببعض مثل جدۃ  [2]۔                                          

جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ہمیں ابن جریج نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے بیان کیا کہ جب تم کسی جامع قریہ میں ہوں تو وہاں جمعہ کے لئے اذان ہو تو تم پر جمعہ کے لئے جانا فرض ہے خواہ اذان سنی ہو یا نہ ، کہتے ہیں میں نے عطا سے پوچھا کہ جامعہ قریہ کون سا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جس میں جماعت ، امیر ، قاضی اور متعدد کوچے اس میں ملے جلے ہوں جس طرح جدّہ ہے ۔ (ت)

اور یہی قول ۱امام ابوالقاسم صفارتلمیذ التلمیذ امام محمد کا مختار ہے کما فی الغنیۃ( جیسا کہ غنیہ میں ہے ۔ ت) اسی کو ۲امام کرخی نے اختیار فرمایا کما فی الھدایۃ( جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ ت) اسی پر ۳امام قدوری نے اعتماد کی کما فی مجمع الانھر (جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت) اسی کو ۴امام شمس الائمہ سرخسی نے ظاھر المذھب عندنا ( ہمارے نزدیك ظاہر مذہب یہی ہے ۔ ت) فرمایا کما فی الخلاصۃ( جیسا کہ خلاصہ میں ہے ۔ ت) اسی پر۵ امام علاء الدین سمرقندی نے تحفہ الفقہاء اور ان کے تلمیذ ۶امام ملك العلماء ابوبکر مسعود نے بدائع شرح تحفہ میں فتوی دیا کما فی الحلیۃ( جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔ ت) اسی پر ۷امام فقیہ النفس قاضی خاں نے جزم واقتصار کیا کما فی فتاواہ ( جیسا کہ ان کے فتاوٰی میں ہے۔ ت) اور اسی کو ۸شرح جامع صغیر میں قولك معتمد فرمایا کما فی الحلیۃ والغنیۃ( جیسا کہ حلیہ اور غنیہ میں ہے ۔ ت) اسی کو ۹امام شیخ الاسلام برہان الدین علی فرغانی نے مرجح رکھا کما فی شرح المنیۃ( جیسا کہ شرح منیہ میں ہے۔ ت) اسی کو ۱۰مضمرات میں اصح ٹھہر ایا کما فی جامع الرموز ( جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ ت) ایسا ہی ۱۱جواہر الاخلاطی میں لکھ کر ھذا اقرب الا قاویل الی الصواب ( اقوال میں سے یہ قول صواب کے زیادہ قریب ہے ۔ ت) کہا کما رأیتہ فیھا ( جیساکہ اس میں مرو ی دیکھا ہے ۔ ت) ایسا ہی ۱۲غیاثیہ میں لکھا کما فی الغنیۃ( جیسا کہ غنیہ میں ہے ۔ ت) اسی کو ۱۳تارتار خانیہ میں ١٢علیہ الاعتماد ( اسی پر اعتماد ہے ۔ ت) فرمایا کما فی الھندیۃ ( جیسا کہ ہندیہ میں ہے ۔ ت) اسی کا ۱۴غایہ شرح ہدایہ و غنیہ ۱۵شرح منیہ و۱۶مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ۱۷جواہر و۱۸شرح نقایہ قہستانی میں صحیح کہا اخیر میں ہے یہی قول معمول علیہ ہے اسی کو ۱۹ملتقی الابحر میں مقدم وماخوذ بہ ٹھہرایا اسی پر ۲۰کنز الدقائق و۲۱کافی شرح وافی و۲۲نور الایضاح و۲۳علمگیریہ میں جزم واقتصار کیا قول دیگر کا نام بھی لیا اسی کو ۲۴عنایہ شرح ہدایہ میں علیہ اکثر الفقھاء ( اکثر فقہاء اسی پر ہیں ۔ ت) فرمایا کما فی حاشیۃ المراقی للعلامۃ الطحطاوی ( جیسا کہ علامہ طحطاوی کی مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے ، ت) اسی کو ۲۵علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نورالایضاح میں اصح وعلیہ الاعتماد( اسی پر اعتماد ہے۔ ت) فرمایا ، اسی پر ۲۶علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرنبلالیہ میں اعتماد او رقول آخر کا ردِّبلیغ کیا ، اسی پر ۲۷امام ابن الہمام محمد و۲۸علامہ اسمٰعیل نابلسی و۲۹علامہ نوح آفندی و۳۰علامہ سید احمد حموی وغیر ہم کبرائے اعلام نے بنائے کلام فرمائی شرح کل ذلك یطول ( ہر ایك کی شرح طویل ہے ۔ ت) علامہ ابراہیم حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں :

الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود تزییف صدرالشریعۃ لہ عند اعتذارہ عن صاحب الوقایۃ حیث اختار الحد المتقدم ذکرہ بظھور التوانی احکام الشرع سیما فی اقامۃ الحدود فی الامصار مزیف بان المراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود علی ماصرح بہ فی التحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھا رساتیق وفیہا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھوالاصح [3]اھ                                              

شہر کی وہ صحیح تعریف جسے صاحب ہدایہ نے پسند کیا ہے یہ ہے کہ وہاں امیر اور قاضی ہو جو احکام نافذ اور حدود قائم کرسکیں ، اور صاحب وقایہ کے پہلی تعریف کو اختیار کرنے پر ان کی طرف سے صدر الشریعۃ کایہ عذر کرنا کہ احکامِ شرع خصوصًا حدود کے نفاذ میں سستی کا ظہور ہورہا ہے کمزور ہے کیونکہ مراد اقامت حدود پر قادر ہونا ہے جیسے کہ تحفہ الفقہاء میں امام ابو حنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے تصریح ہے کہ وہ شہر کبیر ہو اس میں شاہراہیں ، بازار اور وہاں سرائے ہوں اور اس میں کوئی نہ کوئی ایسا والی ہو جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو خواہ اپنے دبدبہ اور علم کی بنا پر یا غیر کے علم کی وجہ سے تاکہ حوادثات میں اس کی طرف رجوع کرسکیں اور یہی اصح ہے اھ (ت)

ملتقی الابحر ومجمع الانہر میں ہے :

ھوظاہر المذہب علی مانص علیۃ السرخسی وھواختیار الکرخی القدوری ،  وقیل قائلہ صاحب الوقایۃوصدرالشریعۃ وغیرھما مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لا یسعھم و ھواختیار الثلجی وانما اوردبصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین مع ان الاول یکون ملا یما بشرط وجودالسطان ونائبہ ومناسبا لما قالہ الامام رحمہ اﷲ تعالٰی  ،  وفی الغایۃ ھو الصحیح [4] اھ ملخصا ھذا جملۃ الکلام وللتفصیل محل اٰخر ،  واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم                                    

امام سرخسی کے بقول یہی ظاہر مذہب ہے امام کرخی و قدوری کا بھی یہی مختار ہے۔ بعض کے نزدیك یہ صاحب وقایہ اور صدرالشریعۃ وغیرہ کا قول ہے اور شہر کی یہ تعریف ) کہ اگر اس کی بڑی مسجد میں اہل شہر جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھے ، یہ امام ثلجی کا مختار ہے صیغہ تمریض کے ساتھ وارد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں باوجود یکہ پہلی تعریف وجود سلطان اور نائب سلطان کے موافق اور امام نے جو کچھ فرمایا اس کے مناسب ہے ، اورغایہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے اھ ملخصًا یہ فی الجملہ گفتگو ہے تفصیل کے لئے دوسرا مقام ہے واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ١٢٧٧ :      از کلا نور ضلع گورداسپور مرسلہ شیخ مراد علی صاحب             ٢١ صفر ١٣٠٩ھ

بشرف خدمت باعظمت من مولانہ فیاض دارین حضرت مولوی احمد رضا خاں صاحب مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ ، بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت خدمت شریف میں عرض یہ ہے کہ نماز جمعہ کی فرضیت میں اختلاف چلا آتا ہے اس سے اطمینان حال نہیں بعض عالم فاضل قابل فتوٰی کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کی عین فرض ہے کوئی کوئی امر حالات موجودہ سلطنت سے اُس کی فرضیت کا مانع نہیں خالصًا



[1]    المصنف لعبدالرزاق باب القری الصغار مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /  ۱۶۸

[2]    غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص٥٥٠

[3]    غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۰

[4]    مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب الجمعہ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /  ۱۶۶و۱۶۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن