30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب : یہاں سے تلہر تك اور تلہر کے قیام تك قصر نہ کریں جب تلہر سے بخط مستقیم رامپور کا ارادہ ہو تو راہ میں بھی اور رامپور میں بھی اور بریلی تك واپس آنے میں بھی قصر کریں ، رامپور جانے میں اگر چہ بریلی کے اسٹیشن پر گزرہو گا مگر وہ بریلی میں گزر نہیں کہ قصر کا قصر کردیں اس لئے کہ یہاں اسٹیشن خارج شہر ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۴ : از سنبھل مراد آباد محلہ دیپاسرائے مسئولہ مولوی محمد ایوب صاحب ٣ جمادی الاولٰی ١٣٢٥ھ
مسافر اگر نمازی پوری چار رکعت پڑھادے تو مقیمین کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
مسافر اگر بے نیتِ اقامت چار رکعت پوری پڑھے گنہ گار ہوگا اور مقیمین کی نماز اس کے پیچھے باطل ہوجائیگی اگر دو رکعت اولٰی کے بعد اس کی اقتداء باقی رکھیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۵ : از پیلی بھیت محلہ پنجا بیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص اپنے وطن اصلی سے سفر کر کے دوسری جگہ میں جو سفر شرعی تین منزل سے زائد ہے بضرورت تعلقات تجارت یا نوکری وغیرہ کے جارہا ہو مگر اہل وعیال اس کے وطن اصلی میں ہوں اور اکثر قیام اُس کا وطن ثانی میں رہنا ہوگا ہی ، سال بھر میں مہینہ دو مہینہ کے واسطے اہل و عیال میں بھی رہ جاتا ہو یا بعض اہل کو ہمراہ لے جائے اور بعض کو وطن چھوڑ جائے یا کل متعلقین ہمراہ لے جائے صرف مکانات وغیرہ کا تعلق وطن اصلی میں باقی ہو اور ان سب صورتوں میں ان کا زیادہ تر اور اکثر قیام وطن ثانی میں رہتا ہے اور کم اتفاق رہنے کا وطن اصلی میں ہوتا ہے اور بظاہر وجہِ قیام ثانی کے وہی تعلقات جدید ہیں اور درصورت قطع تعلقات جدیدہ کے وطن اصلی میں واپس آجانے کا بھی قصدرکھتا ہے ایسی صورت میں یہ شخص کہیں سے سفر کرتا ہوا وطن ثانی میں آئے اور ۱۵ روز قیام کا قصد نہ رکھتا ہو تو صلاۃ رباعیہ کو پورا پڑھے مثل وطن اصلی کے یا قصر کرے مثل مسافروں کے ؟ بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ وہ دوسری جگہ نہ اس کا مولد ہے نہ وہاں اس نے شادی کی نہ اسے اپنا وطن بنالیا یعنی یہ عزم نہ کرلیا کہ اب یہیں رہوں گا اور یہاں کی سکونت نہ چھوڑوں گا بلکہ وہاں کا قیام صرف عارضی بر بنائے تعلق تجارت یا نوکری ہے تو وہ جگہ وطن اصلی نہ ہوئی اگر چہ وہاں بضرورت معلومہ قیام زیادہ اگر چہ وہاں برائے چندے یا تا حاجت اقامت بعض یا کل اہل وعیال کو بھی لے جائے کہ بہر حال یہ قیام بیك وجہ خاص سے ہے نہ مستقل ومستقر ، تو جب وہاں سفر سے آئے گا جب تك ۱۵ دن کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا کہ وطن اقامت سفر کرنے سے باطل ہوجاتا ہے۔
فی الدرالمختار الوطن الاصلی وھو موطن
در مختا ر میں ہے وطن اصلی ، آدمی کی جائے ولادت ہے
ولادتہ اوتأھلہ اوتوطنہ[1]۔
یا وہاں اس نے شادی کی ہو یا اس نے وہاں اسے اپنا وطن بنایا ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ اوتأھلہ ای تزوجہ قال فی شرح المنیۃ ولو تزوج المسافر بلد ولم ینوا لاقامۃ بہ فقیل لا یصیر مقیما وقیل یصیر مقیما وھو الاوجہ ، قولہ أوتوطنہ ای عزم علی القرارفیہ وعدم الارتحال وان لم یتأھل فلو کان لہ ابوان بلد غیر مولدہ وھوبالغ ولم یتأھل بہ فلیس ذلك وطنا الا اذاعزم علی القرارفیہ وترك الوطن الذی کانہ لہ قبلہ [2]۔ شرح المنیۃ۔
قولہ “ تاھلہ “ یعنی اس نے وہاں شادی کی ، شرح المنیہ میں ہے کہ اگر مسافر نے کسی شہر میں شادی کرلی اور وہاں اقامت نہ کی تو قول یہ ہے کہ وہ مقیم نہیں ہوگا اور ایك قول میں مقیم ہو جائے گا یہی مختار ہے۔ اس کا قول “ او توطنہ “ یعنی اگر چہ وہاں شادی نہیں کی مگر ٹھہرنے اور کوچ نہ کرنے کا عزم کرلیا ، اگر آدمی کے ایك شہر میں والدین ہیں لیکن وہ جگہ اس کی جائے ولادت نہیں اور نہ ہی اس نے وہاں شادی کی ہے تو وہ شہر اس کا وطن نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہاں ٹھہرنے کا ارادہ کرے اورسابقہ وطن ترك کردے ۔ شرح المنیۃ۔ (ت)
تنویر میں ہے :
ویبطل وطن الا قامۃ بمثلہ والاصلی والسفر [3]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
وطن اقامت وطن اقامت ، وطن اصلی او ر سفر سے باطل ہو جاتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
_________________
باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ ١٢٧٦ : مرسلہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ اکبریہ ٧ محرم ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور وہ آبادی جس کی مسجد میں اس کے ساکن نہ سماسکیں شہر ہے یا گاؤں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع