دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

چہارم : مجرد احتمال کہ شاید آج چلاجانا ہو منافی اقامت نہیں اور اپنے وطن کے سوا آدمی کبھی کہیں مقیم نہ ہو اگر چہ سال بھر اقامت کی نیت کرے کہ کیا معلوم شاید آج ہی کوئی ضرورت سفر کی پیش آئے بلکہ اس کے لئے غلب گمان درکار ہے یقین کی حاجت نہیں کہ بے اعلام بنی غیب پر یقین کی کوئی صورت نہیں ، تبیین الحقائق امام یلعی پھر ہندیہ میں ہے :

لابد للمسافر من قصد مسافۃ ثلثۃ ایام ویکفی غلبۃ الظن یعنی اذا غلب علی ظنہ انی یسافر قصرو لایشترط فیہ التیقن [1]۔

مسافر کے لئے تین دن کی مسافت کا ارادہ ضروری ہے او رغلبہ ظن کافی ہوگا یعنی جب اس کا ظن غالب یہ ہو کہ سفر کرے گا تو قصر کرے کیونکہ یقین شرط نہیں ۔ (ت)

پنجم : نیت سچے عزم قلب کا نام ہے ، پندرہ دن ٹھہر نے کا ارادہ کرلے ، اور جانتا ہے کہ اس سے پہلے چلے جانا ہے تو یہ نیت نہ ہوئی محض تخیل ہوا ، یوں ہی دل میں عزم دوہی منزل کا ہے اور گھر سے تین منزل کا ارادہ کرلیا کہ آبادی سے نکل کر راہ میں قصر کی اجازت مل جائے ہر گز اجازت نہ ہوگی کہ یہ نیت نہیں وہی خیال بندی ہے ، البتہ اگر دو۲ ہی منزل پر جاتا ہے اور سچّا ارادہ تین منزل کا کرلیا اورتین منزل جاکر ایك منزل اپنے محل مقصود کو واپس آیا اور یہاں پندرہ دن سے کم ٹھہر نا ہے تو جانے اور آنے اور ٹھہرتے قصر کرے گا کہ یہ سچی نیت ہوئی اگر چہ وہاں جانے سے کوئی کام نہ تھا ، درمختار میں ہے :

لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتۃ لانہ یخرج الٰی منٰی وعرفۃ [2]۔

اگر حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت اقامت درست نہ ہوگی کیونکہ اس نے منٰی اور عرفہ کی طرف نکلنا ہے ۔ (ت)

معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے :

قال اصحا بنا رحمھم اﷲ تعالٰی فی تاجردخل مدینۃ لحاجۃ نوی ان یقیم خمسۃ عشریوما لقضاء تلك الحاجۃ لایصیر مقیما لانہ متردد بینا ان یقضی حاجتہ فیرجع وبین ان لا یقضی فیقیم فلا تکون نیتہ مستقرۃ وھذا الفصل حجۃ علی من یقول من اراد الخروج الی مکان ویرید ان یترخص برخص السفرینوی مکانا ابعد منہ وھذاغلط [3]۔                                              

ہمارے اصحاب   رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  نے فرمایا کہ وہ تاجرجوکسی شہرمیں کسی ضرورت کے لئے گیا اس نے حصول حاجت کے لئے پندرہ دن اقامت کی نیت کرلی تو وہ مقیم نہ ہوگا کیونکہ وہ متردد ہے اس بارے میں کہ اگر ابھی کام ہوجاتا ہے تو لوٹ جائے اور اگر نہیں ہوگا تو اقامت کرے تواس کی پختہ نیت نہ ہوئی ، یہ صورت اس شخص کے خلاف حجت ہے جو کہتا ہے کہ جو کوئی کسی جگہ کی طرف نکلنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے سفر کی سہولت میسر ہو( حالانکہ وہ جگہ اتنی دور نہیں ) تو وہ کسی دور جگہ کی نیت کرکے نکل پڑتا ہے تاکہ رخصت حاصل ہوجائے تو یہ غلط ہے ۔ (ت)

ششم : وطن اقامت یعنی جہاں پندرہ دن یا زیادہ قیام کی نیت صحیحہ کرلی ہو آدمی کو مقیم کردیتا ہے اور اقامت وسفر میں واسطہ نہیں تو وہاں سے بے ارادہ مدت سفر اگر ہزار کوس دورہ کرے مثلًا دس کوس کے ارادے پر وہاں سے چلے پھر وہاں سے پندرہ کوس کا ارادہ کرے وہاں سے بیس کوس کا قصد ہو مسافر نہ ہوگا اور قصد نہ کرسکے گا جیسے وطن اصلی سے یوں دور ہ کرنےمیں حکم ہے یہاں تك کہ اگر مثلا وطن اقامت سے بیس کوس گیا اور وہاں سے وہاں سے چھبیس کوس کا ارادہ کرکے چلا اور بیچ میں وطن اقامت آکر پڑے گا تو سفر جاتا رہے گا ، ہاں اگر تین منزل چلنے کے بعد یہ وطن بیچ میں نہ آئے گا تو قصد کرے گا اور یہ وطن وطن ِ اقامت نہ رہے گا ، ردالمحتار میں ہے :

والحاصل ان انشاء السفر یبطل وطن الاقامۃ اذاکان منہ امالوانشأہ من غیرہ فان لم یکن فیہ مرورعلی وطن الاقامۃ اوکان ولکن بعد سیر ثلثۃ ایام فکذلك ولو قبلہ لم یبطل الوطن بل یبطل السفر لان قیام الوطن مانع من صحتہ[4]۔                        

حاصل یہ ہے کہ سفر شروع کرنے سے وطن اقامت باطل ہوجاتا ہے جبکہ سفر وہاں سے ہوا اور اگر سفر کسی اور جگہ سے ہو تواب وطن اقامت سے گزر نہیں ہوا یا ہوا لیکن تین دن بعد ، تو حکم یہی ہے اور اگر اس سے پہلے ہوا تو وطن بالکل باطل نہ ہوگا بلکہ سفر باطل ہوجائے گا ، کیونکہ قیام وطن صحت سفر سے مانع ہوتا ہے (ت)

ہفتم : نوکری ملازمت ہے اس میں قصد استدامت ہوتا ہے تو جو جہاں نوکر ہو کر رہنا اختیار کرے مقیم ہوجائیگا اگرچہ عــــہ بلخصوص پندرہ دن کی نیت نہ ہو لان نیتہ الاستد امۃ فوق ذلك ( کیونکہ دوام کی نیت اقامت کی نیت سے فائق ہے ۔ ت)

عــــہ  :  فتح القدیر باب الحج عن الغیر میں ہے :  لوتوطن مکۃ بعد الفراغ خمسۃ عشر یوما بطلت نفقتہ فی مال المیت لانہ توطن حٍ لحاجۃ نفسہ بخلاف مااذا اقامہ اقل فانہ مسافر علی حالہ فان بدالہ بعد ذلك ان یرجع رجعت نفقتہ فی مال المیت وقد روی عن ابی یوسف انہ لا تعود لانہ فی الرجوع عامل لنفسہ لا للمیت لکنھا قلنا ان اصل سفرہ کان للمیت فما بقی ذلك السفر بقیتہ النفقۃ کذافی المبسوط ،  وذکر غیر واحد من غیر ذکر خلاف انہ ان نوی الاقامۃ خمسۃ عشریوما                                               

اگر (حج بدل کرنے والے نے) فراغت کے بعد مکہ معظمہ میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرلی تو اب مالِ میت سے خرچ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اب اپنے ذاتی کام کے لئے ٹھہر اہے بخلاف اس صورت کے کہ جس میں پندرہ دن سے کم ہو کیونکہ اب وہ حالت سفر میں ہی ہے پس اگر پندرہ کے بعد لوٹ آئے گا ، امام ابویوسف سے مروی ہے کہ مالِ میت کی طرف نہیں لوٹے گا کیونکہ رجوع اپنی ذات کے لئے ہے نہ کہ میت کے لئے ، لیکن ہم کہتے ہیں کہ سفر میت کے لئے ہے ، تو جب تك سفر میں رہے گا اس کا نفقہ میت کی طرف سے ہی ہوگا ، مبسوط میں اسی طرح ہے ، اور متعدد فقہاء نے اسے بغیر اختلاف کے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے پندرہ دن کی نیت کر لی تو(باقی اگلے صفحہ پر)

ہاں اگر مدّت سفر سے یہاں نوکر ہو کر آیا اور معلوم ہے کہ پندرہ دن ٹھہرنا نہ ہوگا تو البتہ مقیم نہ ہوگا ، جب اس درسری جگہ سے فارغ ہوکر آئے گا اور یہاں ملازمانہ قیام کرے گا اس وقت سے مقیم ہوگا ،

 



[1]    فتاوٰی ہندیۃ باب الخامس عشرفی صلٰوۃ المسافر مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ /  ١٣٩

[2]    درمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٧

[3]    فتاوٰی ہندیۃ باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ /  ١٤٠

[4]    ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٨٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن