دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اقول :  لكن قول شارح المنیۃ و علی ھذا الخ يظہر منہ انہ تفریع من                                          قولہ “ اور نہ اقتداء کرے الخ “ شرح المنيہ میں ہے اور اس بنا پر لازم آتا ہے کہ اس کے لئے مقیم کی اقتداء کسی حال میں جائز نہ ہو ، پس اسے اچھی طرح جان لینا چاہئے اھ یعنی نہ وقت میں اورنہ وقت کے بعد ، نہ شفع اول میں نہ ثانی میں ، شاید اس کی وجہ وہ ہی ہو جو ہمارے شیخ نے فرمائی کہ قعدہ اولٰی الحاق مسافر کی وجہ سے اس پر فرض تھا ، پس جب اس نے مقیم کی اقتداء کی تواب قعدہ اولٰی کے لحاظ سے لازم آئے گا کہ ایك فرض ادا کرنے والا نفل ادا کرنے والے کی اقتداء کررہا ہے۔

اقول : ( میں کہتا ہوں ) شارح المنیہ کے قول “ اور اس بنا پر الخ “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور

عندہ علی وجہ البحث والافالذی رأیتہ فی التاتر خانیۃ عن الحجۃ انہ ان لم یکن بالمھا یاۃ وھو فی ایدیھما فکل صلٰوۃ یصلیھا وحدہ یصلی اربعا و یقعد علی راس الرکعتین ویقرأ فی الاخريین وکذا اذا اقتدی بمسافر یصلی معہ رکعتین وفی قرأتہ فی الرکعتین اختلاف واما اذا اقتدی بمقیم فانہ یصلی اربعا بالا تفاق [1] اھ مافی ردالمحتار ۔  

بحث یہ ان کی اپنی طرف سے تفریع ہے ورنہ میں نے جو تارتار خانیہ میں حجہ کے حوالے سے دیکھا ہے اگر وہ باری باری پابند نہیں اور وہ دونوں کے قبضہ ہے تو وہ ہر نماز تنہا چار رکعات ادا کرے اور ہر دو کے بعد بیٹھے اور آخری دورکعتوں میں قرأت کرے او راسی طرح جب کسی مسافر کی اقتداء کرے تو اس کے ساتھ دو رکعات اداکرے اور اس کے بعد دو رکعات میں قرأت کرنے میں اختلاف ہے لیکن جب وہ کسی مقیم کی اقتداء کرے تو وہ بالاتفاق چار رکعتیں ادا کرے گا ( ردالمحتار کی عبارت ختم ہوئی)

فقیر کہتا ہے :

غفر اﷲ تعالٰی لہ رأیتنی کتبت علی ھامش قولہ فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض الخ مانصہ اقول ھذا مما لست احصلہ فان المسافر من کل وجہ القعدۃ الاولی فریضۃ علیہ من کل وجہ ،  مع ذلك یجوز لہ الاقتداء بالمقیم اجماعا ولا یعد بذلك مفترضا خلف متنفل اذا اقتدی فی الوقت بل یقال ان فرضہ تحول بالقدوۃ رباعیا فلم تبق للقعدۃ الاولٰی فریضۃ علیہ لمصادفۃ المغیر محلہ القابل لہ حیث اتصل                           

اﷲ تعالٰی ان کی بخشش فرمائے ، مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کی اس عبارت “ جب اس نے کسی مقیم کی اقتداء کی تو فرض والے کی اقتداء لازم آئیگی “ الخ پر حاشیہ تحریر کیا اقول یہ ایسی چیز ہے جس سے مجھے کچھ اتفاق نہیں ہورہا ہے ، کیونکہ جو شخص ہر لحاظ سے فرض سے مسافر ہے اس پر بھی قعده اولٰی ہر لحاظ سے فرض ہے حالانکہ وہ بالاتفاق مقیم کی اقتداء کرسکتا ہے جب وقت میں ادا کرے تو اسے فرض والے کا نفل والے کی اقتداء کرنا شمار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اقتدا کی وجہ سے اس پر فرض دو٢ کے بجائے چارہوگئے ہیں تو اب قعدہ اولٰی اس پر فرض نہیں رہا کیونکہ یہاں تبدیلی کے قابل محل میں تبدیلی پیدا کرنے والا پایا گیا ہے

بالسبب اعنی الوقت بخلاف مااذا اقتدی بعد انقضا ءہ فاذاکان ھذا فی حقہ فکیف بمن لیس مسافرا من کل وجہ ولا القعدۃ فریضۃ علیہ وجھا واحد ا فھذا ینبغی ان یومرباقتداء المقیم فی الوقت مھما وجد کی یخرج عن احتمال الاتمام فی السفر [2] اھ ماحررتہ ولشدۃ وضوحہ و ثبوت الروایۃ بل نقل الاتفاق علی جواز اقتدائہ با لمقیم جزمت بہ فان کان صوابا فمن ربی اﷲ وارجوان لایکون الا ایاہ۔  واﷲ تعالٰی اعلم                                     

وہ ایسے کہ یہاں سبب ( وقت سے) متصل ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب اقتداء وقت گزرنے کے بعد ہو ، جب یہ معاملہ ہر لحاظ سے مسافر کا ہے تو اس کا حال کیا ہوگا جو ہر لحاظ سے مسافر نہیں اور اس پر قعدہ کے فرض ہونے کی ایك وجہ متعین نہیں لہذا اسے حکم دیا جائے کہ وہ مقیم کا ساتھ جب بھی پائے اس کی اقتداء کرے تاکہ سفرمیں احتمال اتمام سے خارج ہو جائے ( جو میں نے وہاں لکھا ختم ہوا) شدت وضوح ثبوت روایت بلکہ مقیم کی اقتدا کے جواز پر اتفاق منقول ہونے کی وجہ سے میں نے اسی پر جزم اختیار کیا ہے ، پس اگر صواب ہے تو اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ صواب ہی ہوگا۔ (ت)

مسئلہ ١٢٦٥ :      بریلی صندل خاں کی بزریہ                   ٢٩ ذی القعدہ ١٣٢٦ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے وطن سے ستر یا اسی کو س کے فاصلے پر کسی شہر میں ملازم ہے وہاں سے سال دو٢ سال کے بعد آٹھ دس روز کے واسطے اپنے مکان پر آیا اور پھر چلا گیا اس آمد ورفت میں اس کو نماز قصر پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔ بینوا توجروا

الجواب :

جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئے اس وقت سے جب تك اپنے شہر کی آبادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گا جب اپنے وطن کی آبادی میں آگیا قصر جاتا رہا ، جب تك یہاں رہے گا اگر چہ ایك ہی ساعت ، قصر نہ کرسکے گا کہ وطن میں کچھ پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت ضرور نہیں ، پھر جب وطن سے اُس شہر کے قصد پرچلا اور وطن کی آبادی سے باہر نکل گیا اس وقت سے قصر واجب ہوگیا راستے بھر تو قصر کرے گا ہی اور اگر اُس شہر میں پہنچ کر اس بار پندرہ روز یا زیاداہ قیام کا ارادہ نہیں بلکہ پندرہ دن سے کم میں واپس آنے یا وہاں سےء اور کہیں جانے کا قصہ ہے تووہاں جب تك ٹھہرے گا اس قیام میں بھی قصر ہی کرے گا اور اگر وہاں اقامت کا ارادہ ہے تو صرف راستہ بھر قصر کرے جب اس شہر کی آبادی میں داخل ہوگا قصر جاتا رہے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٦٦ :       ازپیلی بھیت مرسلہ حبیب احمد صاحب رضوی برکاتی          ٣٠ ذی الحجۃ الحرام ١٣٣٦ھ

ایك شخص جنگل یا اسٹیشن پر جو جنگل میں واقع ہو ملازم ہے اور اس کو آقا جب بھیجتے ہیں تو کم از کم ایك ماہ کے ارادہ سے بھیجتے ہیں تو اس ملازم پر نماز قصر ہے یا پوری؟ اور مندرجہ ذیل دلیلوں میں زید حق پر ہے یا عمرو؟

زید کا قول ہے کہ ملازم کو ہر حالت میں نماز کرنا چاہئے اگر چہ آقا ایك ماہ کے ارادے سے بھیجے کیونکہ اگر آقا چاہے تو آٹھ روز میں دُوسری جگہ منتقل کردے ، دوسرے جنگل ہونے کی وجہ سے ہر حالت میں قصر واجب ہے کیونکہ واہاں آبادی نہیں ہے جو اقامت کی جگہ ہے ، عمرو کی دلیل ہے کہ کل کام ارادے کے لحاظ پر ہوتے ہیں یعنی جس وقت آقا بھیجتا ہے تو ایك ماہ کے ارادے سے بھیجتا ہے پر وہ



[1]    ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٨٩

[2]    جدالممتار علی ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر المجمع الاسلامی بیروت ١ /  ٣٦٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن