30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے جبکہ قصدًا دو جگہ پر منقسم نہ ہو مثلًا اس راہ میں بیس کوس پر ایك شہر ہے ، ارادہ یوں کیا کہ پہلے وہاں جاؤں گا وہاں سے فارغ ہوکر دوسرے مقام پر کہ وہاں سے بیس ٢٠ کوس ہے جاؤں گا یوں چالیس کوس ہوں جائیں گے تو قصر نہیں ، مکان سے بیس ٢٠ ہی کوس کے مقصد کو چلاہے اگر چہ وہاں سے دوسرا قصد دوسری جگہ کا ہونے والا ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٢٥٩تا۱۲٦٣ : ازبریلی مسئولہ شیخ عبدالعزیز بساطی دوم ذوالقعدہ ١٣٣٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل کے جواب میں :
(١) منزل کتنے فرسنگ کی ہوتی ہے؟
(٢) کےَ (کتنے) منزل پر قصر ہوگا؟
(٣) طے منزل میں راہ راست کا اعتبار ہے یا جس راستے پر چلے؟
(٤) یہاں سے بیسلپور ١٨ کوس براہ سواری گاڑی اور براہ ریل گاڑی چھتیس٣٦ کوس ہوجاتی ہے وہاں جانے میں قصر کب ہوگا؟
(٥) ایك شخص نے ایك مسجد میں جمعہ کی نماز کے واسطے دریاں وغیرہ بنوائیں مگر کچھ دنوں وہاں جمعہ ہوکر رہ گیا اب وہ چاہتا ہے کہ یہ دریاں کسی دوسری مسجد میں دے دوں پس یہ جائز ہے یا نہیں ؟ بنیوا توجروا
الجواب :
(١) عرف میں منزل بارہ۱۲ کوس ہے اور ان بلاد میں ہر کوس ٨ / ٥ میل یعنی اور میل کے تین خمس ، اور تین میل کا ایك فرسنگ ، تو ایك منزل چھ فرسنگ اوردو خمس فرسنگ کی ہوئی۔
(٢) تین منزل پر قصر ہے۔
(٣) جس راستے سے جائے اس کا اعتبار ہے۔
(٤) ریل میں جائے تو قصر کرے ورنہ نہیں ۔
(٥) جب دریاں سپرد مسجد کردیں ملك مسجد ہوگئیں ، جب تك ناقابل استعمال نہ ہوجائیں واپس نہیں لے سکتا نہ دوسری مسجد میں دے سکتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٦٤ : از درؤ ضلع نینی تال ڈاك خانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں ٤ رمضان المبارك ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص دو آدمیوں کا غلام تھا ہر دو مع غلام کے سفر کے گئے راستے میں دونوں نے قیام کیا ، ایك نے نیت اقامت کی دوسری نے نہ کی ، اب وہ عبدِمشترك نماز قصری ادا کرے یا حضری ، بینوا تو جروا
الجواب :
اگر وہ ان دونوں سے صرف ایك کے قبضہ میں ہے تو جس کے قبضہ میں ہے اسی کی نیت کا اعتبار ہے
لانہ حٍ لیس تابعا الالہ وسیاتیك مایفیدہ۔
کیونکہ وہ جس کا ہے اسی کا تابع ہوگا اور عنقریب اس پر مقید گفتگو آرہی ہے ۔ (ت)
اور اگر دونوں کے قبضہ میں ہے تو اگر ان میں اس کی خدمت نوبت بہ نوبت قرار پائی ہے مثلًا ایك دن اِس کی خدمت کرے اور دوسرے دن اُس کی ، تو ہر ایك کی نوبت میں اس کی نیت پر عمل کرے یعنی جس دن خدمت کی باری ہو غلام بھی اپنے آپ کو مقیم سمجھے اور جس دن خدمت مسافر کی باری ہو اپنے آپ کو مسافر جانے ، اور اگر باہم نوبت نہ قرار دی بلکہ یوں ہی دونوں کی خدمت میں ہے وہ من وجہ مقیم او رمن وجہ مسافر ہے قصر اصلًا نہ کرے اس لحاظ سے کہ اس کے ایك مولٰی نے نیت اقامت کی اور قعدہ اولٰی بھی اپنے اوپر فرض جانے اس نظر سے کہ دوسرے مولٰی کی نیتِ سفر ہے اور اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ جہاں تك مل سکے کسی مقیم کی اقتداء وقت میں کرے ، درمختار میں ہے :
عبد مشترك بین مقیم ومسافران تھايأ قصر فی نوبۃ المسافر والا یفرض علیہ القعود الاول ویتم احتیاطا ولا یأتم بمقیم اصلا وھو مما یلغز [1]۔
ایك غلام مقیم مسافر کے درمیان مشترك ہے ، او ردونوں کی خدمت نوبت بہ نوبت قراردی گئی ہے تو مسافر کی نوبت میں قصر کرے ورنہ ( اگر باری نہ ٹھہرائی ہو) تو قعدہ اولٰی اس پر فرض ہوگا اور وہ نماز کا اتمام احتیاطًا کرے ( کیونکہ جب اس کے مالك دو ہیں تو وہ ایك لحاظ سے مقیم اور دوسرے کے اعتبار سے مسافر ) اور وہ کسی مقیم کے ساتھ اقتداء بالکل نہ کرے یہ غلام کے مسائل میں سے پیچیده مسئلہ ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولایأتم الخ فی شرح المنیۃ وعلی ھذا فلا یجوزلہ الاقتداء بالمقیم مطلقا فلیعلم ھذا اھ ای لا فی الوقت ولابعدہ ولا فی الشفع الاول ولافی الثانی ولعل وجھہ کما افادہ شیخنا ان القعدۃ الاولی فرض علیہ ایضا الحاقہ بالمسافر فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ الاولٰی اھ [2]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع