30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے :
قصد موضعا من الحل ای قصد اوّلیا کما اذا قصدہ لبیع اوشراء وانہ اذا فرغ منہ یدخل مکۃ ثانیا [1]۔
“ حل میں کسی مقام کا ارداہ کیا “ یعنی قصد اولٰی مثلًا خرید یا فروخت کا رادہ کیا جب اس عمل سے فارغ ہوگیا تو اب مکہ میں قصد ثانی سے داخل ہوسکتا ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لانہ لم یقصد اولادخول مکۃ وانما قصد البستان ، قالوا واھذہ حیلۃ حیلۃ الاٰفاقی اذا ارادان یدخل مکۃ بغیراحرام
کیونکہ اس نے اوّلًا دخول مکہ کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا اس کا ارادہ توبستان تھا ، فقہاء نے کہاہے یہ اس آفاقی کے لئے حیلہ ہے جو مکہ میں بغیر احرام داخل
فینوی ان یدخل خلیصا مثلا فلہ مجاوزۃ رابع الذی ھومیقات الشامی والمصری المحاذی للجحفۃ[2] الخ
ہونے کا اراداہ رکھتا ہو پس وہ مثلًا خلیص میں داخل ہونے کی نیت کرے تو اس کےلئے بغیر احرام رابغ سے گزرنا جائز ہے جو شامی او رمصری لوگوں کامیقات اور جحفہ کے مقابل ہے الخ (ت)
اُسی میں قبیل باب الاحرم ہے :
الافاقی اذا قصد موضعا من الحل کخلیص یجوزلہ ان یتجاوز المیقات غیر محرم وھی الحیلۃ لمن ارادان یدخل مکۃ بغیر احرام وینبغی ان لا تجوز ھذہ الحیلۃ للمامور بالحج لانہ حینئذ لم یکن سفرہ للحج [3]۔
آفاقی جب حل میں خلیص وغیرہ کا ارادہ کرے تو اس کے لئے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز ہے ، اور یہ ہرشخص کے لئے حیلہ ہے جو میقات سے مکہ بغیر احرام جانا چاہتا ہو لیکن یہ حیلہ اس شخص کے لئے جائز نہیں جس پر حج فرض ہے کیونکہ اب کا سفر حج نہ رہے گا۔ (ت)
ا شباہ میں ہے :
اذا ارادالافاقی دخول مکۃ بغیر احرام من المیقات قصد مکانا اٰخر داخل المواقیت کبستان بنی عامر[4]۔
اگر کوئی غیر مکی بغیر احرام دخول مکہ چاہتا ہے تو وہ میقات کے اند کسی اور جگہ کا ارادہ کئے مثلًا بنی عامر کے بستان ۔ (ت)
ذخیرہ وہندیہ میں ہے :
الحیلۃللافاقی اذااراد دخول مکۃ من غیر احرام من المیقات ان لا یقصد دخول مکۃ وانما یقصد مکانا اخر وراء المیقات خارج الحرم نحوبستان بنی عامر ثم اذا وصل ذلك الموضع ید خل مکۃ بغیر احرام[5]۔ (ملخصًا)
اس آفاقی کے لئے جو دخول مکہ بغیر احرام کے چاہتاہے حیلہ یہ ہے کہ وہ دخول مکہ کا ارادہ نہ کرے ب لکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ اکا ارادہ کرے جو خارج حرم ہو مثلًا بنی عامر کے بستان ، (ت) تو جب وہاں پہنچ جائے تواب مکہ میں بغیر احرام داخل ہوجائے۔ (ت)
مسلك متقسط میں ہے :
ذکر الفقھاء فی حیلۃ دخول الحرم بغیر احرام ان یقصد بستان بنی عامر ثم یدخل مکۃ فالوجہ فی الجملۃ ان یقصد البستان قصد الولیاولا یضرۃ قصدہ دخول الحرم بعدہ قصد اضمنیا اوعارضیا کما اذا قصد ھندی جدۃ لبیع وشراء ولایکون فی خاطرہ انہ اذا فرغ منہ ان یدخل مکۃ ثانیا بخلاف من جاء من الھند مثلًا بقصد الحج اولاوانہ یقصد دخول جدۃ تبعا ولو قصد بیعاوشراء [6] اھ تلك النقول باختصار۔
فقہاء نے بغیر احرام ، حرم میں داخل ہونے کے لئے یہ حیلہ بیان کیا ہے کہ وہ شخص بستان بنی عامر کا ارادہ کرے پھر وہاں سے مکہ میں داخل ہوجائے اور فی الجملہ وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّلًا بستان کا ارادہ کیا تھا تو اس کے بعد حرم میں داخل ہونا ضمنًا اور عارضی ہونے کی وجہ سے تقصان دہ نہیں ہوسکتا جیسے کہ ہندی شخص اوّلًا بیع وشر کے لئے جدہ کی نیت کرکے آیا ہے اور ذہن میں تھا کہ فارض ہوکر ثانیًا مکہ چلاجائے گا بخلاف اس شخص کے جو ہندوستان سے اولًا حج کے ارادے سے آتا ہے اور وہ جدہ میں دخول کا ارادہ تبعًا رکھتا ہے اگر چہ وہ بیع وشر اء کا ارادہ رکھتا ہو اھ اختصار کے ساتھ نقول ختم ہو گئیں ، (ت)
ظاہر ہے کہ جب اس کی نیت حاضری مکہ معظمہ ہے تو جدہ کا ارادہ کرلینے سے دل کا وہ خیال ہرگز منتفی نہ ہواو لہذا علماء اسے بلفظ حیلہ تعبیر اور خود ارادہ دخول مکہ بغیر احرام سے تصویر فرماتے ہیں اگر قصد مکہ منتفی ہوجاتا تو ان عبارات کا اصلًا کوئی محل ومحمل نہ تھا ، ہاں یہ ہوا کہ قصد مکہ باعتبار مآل واستقبال رہا ، قصدًااول جدہ کےلئے قرار پایا جیسا کہ بحرالرائق وردالمحتار و شرح لباب سے گزرا اسی بنا پر علمائے کرام نے مجاوزتِ میقات بلا احرام جائز فرمائی ہے حالانکہ خیال مکہ یقینا اول سے موجود ہے تو ثابت ہوا کہ جب وہ نہایت مختلف مقصود بالذات ہوں تو قصد مقارن خاص حصہ اولٰی ہے اور ثانیہ کے لئے وہی
[1] ردالمحتار کتاب الحج مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٦٧
[3] بحرالرائق کتاب حج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٣١٨
[4] الاشباہ والنظائر الفن الخامس من الاشباہ والنظائر مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ / ٢٩٣
[5] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الحیل الفصل الخامس فی الحج مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٦ / ٣٩٣
[6] المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری ، فصل فی مجاوزۃ المیقات الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ٦٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع