30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الخلیفۃ اذا سافر یقصر الصلٰوۃ الا اذا طاف فی ولایتہ [1]۔
حاکم جب سفر کرے تو وہ قصر کرے گا مگر اس صورت میں جب و ہ دورہ کررہا ہو تو پھر قصر نہیں کرسکتا (ت)
فتاوٰی بزازیہ میں ہے :
خرج الامیر مع الجیش الطلب العد ولایقصر وان طال سیرہ وکذا اذا خرج لقصد مصردون مدۃ سفر ثم منہ الٰی اٰخ کذلك لعدم نیۃ السفر[2]۔
امیر لشکر کے ساتھ دشمن کی طلب کے لئے نکلا تو قصر نہ کرے اگر چہ اس کا سفر کتنا ہی طویل ہو اور اس طرح اس صورت میں بھی قصر نہیں ، جب وہ مدت سفر سے شہر کے ارادے سے نکلاپھر وہاں سے درسے ایسے شہر کی طرف چلا جو مدت سفر سے کم مسافت تھا کیونکہ اس میں نیت سفر نہ تھی۔ (ت)
اسی میں ہے :
وفی الرضوع لومن مدۃ سفر قصروا [3]۔
اور رجو ع کی صورت میں اگر مدت سفر ہے تو نما ز میں قصر کرلیں (ت)
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالٰی کی مدد سے کہتا ہوں ۔ ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ تحقیق سفر شرعی کے لئے نہ مجرد سیر بے قصد کا فی نہ تنہا قصد بے سیر بلکہ دونوں کا اجتماع ضرور کما تفیدہ الا سفارقا طبۃ وبینہ فی خزانۃ المفیتن وغیرھا ( جیسا کہ اس پر عبارات کتب شاہد ہیں اور اسے خزانۃ المفتین وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ ت) اور قصدسے مراد فی الحال مستبع فعل مقارن سیر ہے جسے عزم کہتے ہیں
کما یدل علیہ تعبیرھم جیمعا بلفظۃ الحال فی حد المسافر بمن جاوز عمران موطنہ قاصدا مسیرۃ ثلاثۃ ایام۔
جیسے کہ تمام فقہاء کا لفظ حال سے تعبیر کرنا اس پر دال ہے لہذا مسافر کی تعریف یوں کی گئی ہے ہر وہ شخص جو تین دن کے سفر کے ارادے سے اپنی آبادی سے نکل جائے (ت)
نہ قصدفی الاستقبال کہ بالاجماع کافی نہیں
کمن خرج قاصدا قریۃ قریبۃ ومن بیتہ ان ینشئی بعدھا سفرا الی بعید فانہ لایکون فی مسیرہ الیھا مسافر اقطعال۔
مثلًا وہ شخص جو کسی قریبی قریہ کے ارادے سے نکلا اور اس کی نیت یہ تھی کہ اس قریہ کے بعد وہ کسی بعید شہر کا سفر کرے گا تو اب وہ اس نکلنے میں قطعًا مسافر نہ ہوگا۔ (ت)
اور نیت اپنی غایت مقصودہ بالذات پر پہنچ کرمنتہی ہوجاتی ہے کہ غایت ماھی غایۃ لہ( غایت جس کے لئے غایت بن رہی ہے ۔ ت) سے متاخر فی الوجود ہے اور حرکت کے لئے بعد وجود بقا نہیں ، تو اس کے بعد اگر دوسرے مقصود کی طرف نہضت ہو تو وہ سیر آخر وقصد آخر ہے اور قبل وصول منتہی نہیں ہوتی اگر چہ سکون ونزول متخلل ہو ، ولہذا اگر کسی منزل میں کوئی شخص ملے نازل کہے گا میں فلاں جگہ جاتا تھا کہ وہ ملایا جاتے ہیں اس سے ملاقات ہوئی یا جاتے ہوئے راہ میں مل گیا تو وہ نہایات مختلفہ کا قصہ مقارن اول توجہ جزئی مہتعدد بمبدء معین ومنتہائے معین میں کہ ان کا تعین ا سکے تشخص کو لازم ہے ہر گز نہ ہوگا بلکہ صرف غایت اولٰی ہی کا قصد فی الحال اور ثانیہ کا ہو تو فی المال و الاستقبال اگر چہ باعث علی الخروج لحاظ امرین ہو اس سیر خاص میں کسی طرف توجہ اور چیز اور دل میں کہیں جانے کا خیال اور چیز ، ثانی قصد مستقبل کو بھی شامل جسے یوں تعبیر کریں گے وہاں بھی جاؤں گا یا یہاں ہوکر وہاں جانا ہے اور اول خاص اسی کےلئے ہے جو اس سیر جزئی مخصوص کا منتہی ہے جس کے حصول پر یہ منتہی ہوجائے گی اس پر دلیل واضح مسئلہ آفاتی ہے جو بقعد حاضری مکہ معظمہ چلابے احرام باندھے ، میقات سے تجاوزاسے حرام ہے ، اگر حلت چاہے تو علماء فرماتے ہیں حیلہ یہ ہے کہ بین الحرم والمیقات کسی مقام مثلًا جدہ وغیرہ کا قصدکرے کہ وہاں پہنچ کر اس کے اہل سے ملتحق ہوجائے گا اور اب مکہ معظمہ کو جانا داخل میقات سے ہوگا نہ کہ گھر سے ، اب اس میقات نسك کے لئے ہے ، تنویر الابصارو درمختار میں ہے :
دخل اٰفاقی البستان ای مکانا من الحل
اگر غیر ملکی کسی حاجت کی وجہ سے بستان( میقات کے
داخل لمیقات لحاجۃ قصدھا ونیۃ مدۃ الاقامۃ لیست بشرط علی المذھب بلہ دخول مکۃ غیر محرم ووقتہ البستان ولاشیئی علیہ لانہ التحق باھلہ وھذہ حیلۃ لافاقی یرید دخول مکۃ بلااحرام [4]۔
اندر حل میں ایك جگہ ہے) میں قصدًا داخل ہوا تو وہاں مذہب کے مطابق مدتِ اقامت کی بھی نیت شرط نہیں ، اب اس کے لئے بغیر احرم مکہ کا داخلہ جائز ہے اور اس کا میقات وہ بستان ہے ، اور اس پر کوئی شے لازم نہ ہوگی کیونکہ و ہ وہاں کے اہل کے ساتھ ملا ہے اور یہ اس غیر ملکی کے لئے حیلہ ہے جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونے کا اراداہ رکھتا ہو۔ (ت)
نیز اسی میں قبیل فصل احرام ہے :
لو قصد موضعا من الحل کخلیص وحدۃ حل لہ مجاوزتہ بلا احرام فاذا حل بہ التحقق باھلہ فلہ دخول مکۃ بلا احرام وھو الحیلۃ لمرید ذلك الالمامور بالحج المخالفۃ [5]۔
اگر حل میں کسی جگہ مثلًا خلیص کا ارادہ رکھتا کیا تواب بغیر احرام داخلہ جائز ہے اور وہ جب وہاں پہنچ گیا تو وہاں اہل سے لاحق ہوگیا تو اب مکہ میں بغیر احرام داخلہ جائز ہوگا اور یہ حیلہ ہر اس شخص کے لئے جو مکہ کا ارادہ بغیر احرام کے کرے البتہ اگر حجِ فرض کا ارادہ ہو پھر جائز نہیں اس صورت میں احکام شرع کی مخالفت لازم آئے گی۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع