دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

عنی عند من لا یتجزئ للماموم بنیۃ الامام وھما قولان حکاھما القھستانی ،

میری مراد وہ علماء ہیں جو امام کی نیت کو مقتدی کے لئے کافی نہیں سمجھتے ، اور یہ دو قول ہیں جنھیں قہستانی نے نقل کیا ہے (ت)

نہ وہ آپ جداگانہ سجدہ کرسکیں گے للزوم خلاف الامام ( کیونکہ اس میں امام کی مخالفت لازم آرہی ہے ۔ ت) نہ سجدہ نماز انھیں سجدہ تلاوت سے کافی ہوگا اگر چہ وہ اس میں سجدہ تلاوت کی نیت بھی کرلیں لانہ لما نواھا الامام فی رکوعہ تعین لھا افادہ[1] ح قالہ ش ( کیونکہ جب امام نے اس کی ادائیگی کی رکوع میں نیت کی تو وہی اس کے لئے متعیین ہوگیا اسے 'ح'نے بیان کیا اور'ش' نے نقل کیا۔ ت) بلکہ اس کی سبیل ہوگی کہ بعد سلامِ امام سجدہ تلاوت کریں پھر یہ سجدہ رافع ہوگا کما تقرر فی مقررہ ( جیسا کہ اپنے مقام پر ثابت شدہ ہے ۔ ت) تو فرض ہوگا کہ قعدہ کا اعادہ کریں نہ کریں گے تونماز فاسد ہوجاءے گی ۔

فی الدرالمختار عن القنیۃ لونواھا فی رکوعہ ولم ینوھا المؤتم لم تجزہ و

درمختار میں قنیہ سے ہے اگر امام نے سجدہ تلاوت کی نیت رکوع میں کرلی اور مقتدی نے نیت نہیں کی تو

یسجد اذاسلم الامام ویعید القعدۃ ولو ترکہا فسدت صلوتہ [2]

مقتدی کے لئے کافی نہ ہوگا ، لہذا جب امام سلام کہے تو مقتدی سجدہ کرے او رقعدہ کو لوٹائے ، اور اگر مقتدی نے سجدہ کو ترك کردیا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)

جب یہ دقتیں ہیں تو ایسی حالت خصوصًا اس زمانہ جہالت میں رکوع نماز سجدہ تلاوت ادا کرلینا مقتدیوں کو فتنے میں ڈالنا ہے لہذا امام کو اس سے بچنا چاہئے۔

فی ردالمحتار ینبغی للامام ان لاینوبھا فی الرکوع [3]۔

ردالمحتار میں ہے کہ امام کا رکوع میں سجدہ (تلاوت) کی نیت کرنا مناسب نہیں ۔ (ت)

اور اگر یہ کرتاہے کہ سورت ختم کرکے فورًا سجدہ تلاوت کرے اور اس کے بعد کھڑا ہوکر معًا رکوع میں سجدہ چلاجائے تو سجدہ تو سب کا ادا ہوجائے گا مگر یہ فعل مکروہ ہوگا کہ سجود تلاوت ورکوع میں فصل نہ کیا۔

فی مراقی الفلاح لورکع بمجرد قیامہ منھاکرہ[4] ۔

مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر سجدہ تلاوت کے بعد محض قیا م کرکے رکوع کرلیا تو مکروہ ہوگا۔ (ت)

بس اگر تلاوت کے لئے سجدہ مستقلہ ہی کرنا چاہے تو اس کا یہ طریقہ اسلم کہ سجدہ سے اٹھ کر دوسری سورت مثلًا سور مستفسرہ میں سورہ قدر یا تلاوت والنجم میں سورہئ قمر کے اول سے تین آیتیں خواہ زیادہ پڑھ کر رکوع کرے اس میں اگر چہ ایك رکعت میں دوسورتوں سے پڑھنا ہوگا اور فرضوں میں اس کا ترك اولٰی ، مگر سورتوں میں فصل نہ ہو تو مکروہ نہیں ، شرح صغیر منیہ میں ہے :

لوجمع بین السورتین فی رکعۃ واحدۃ الاولٰی ان لایفعل فی الفرض ولو فعل لایکرہ الا ان یترك بینھا سورۃ اواکثر [5] ۔

اگر دوسورتیں ایك رکعت میں جمع کرلیں اور بہتر یہ ہے کہ فرائض میں ایسا نہ کیا جائے اور اگر ایسا کربھی لیا تو کراہت نہیں مگر اس صورت میں جب ان کے درمیان ایك سورۃ یا اکثر سور ہوں ۔ (ت)

بخلاف بعد سجودہ تلاوت بلافصل رکوع میں جانے کے کہ یہ مکروہ ہے کما قدمنا (جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کردیا ۔ ت) تو اس کے دفع کر اسے گوارا کیا جائے گا۔ مراقی الفلاح میں ہے :

اذاکانت اٰخرتلاوتہ ینبغی ان یقول أولو اٰیتین من سورۃ اخری بعد قیامہ منھا حتی لایصیر بانیا للرکوع علی السجود [6]۔

جب یہ آخری تلاوت ہو تو سجدہ تلاوت سے قیام کے بعد قرأت مناسب ہے اگر چہ وہ کسی دوسری سورت کی آیات ہوں تاکہ رکوع کی سجدہ پر بنا رکھنے والا نہ ہوجائے ۔ (ت)

ایك طریقہ تو یہ تھا اور ان سب سے بہتر وخوش تر اور ہر خدشہ سے سالم ومحفوظ تر یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں تلاوت کے لئے مستقل سجدہ اصلًا نہ کرے بلکہ آیت سجدہ پڑھنے ہی معًا نماز کا رکوع بجالائے اور اس میں نیتِ سجدہ نہ کرے پھر قومہ کے بعد فورًا نماز کے سجدہ اولٰی میں جائے اور اس میں نیت سجدہ کرے اب نہ کوئی قباحت یا کراہت یا تفویت فضیلت لازم ہوئی نہ مقتدیوں پر کچھ دقت آئی اگر چہ انھوں نے کہیں نیت سجدہ تلاوت کی نہ کی ہو کہ سجدہ نماز جب فی الفور کیا جائے تو اس سے سجدہ تلاوت خودبخود ادا ہوجاتا ہے اگر چہ نیت نہ ہو۔

فی ردالمحتار لو رکع وسجد لھا ای للصلٰوۃ فور اناب ای سجود المقتدی عن سجود التلاوۃ بلانیۃ تبعا لسجود امامہ لما مر انفا انھا تودّی بسجود الصلوۃ فورًا وان لم ینو[7]۔

ردالمحتارمیں ہے اگر امام نے نماز کا رکوع او رسجدہ فورًا کرلیا تو مقتدی کا سجدہ تلاوت بلانیت امام کی اتباع میں سجدہ کے ساتھ ادا ہوجائے گا جیسا کہ ابھی پیچھے گزرا کہ سجدہ تلاوت فورًا سجدہ نماز سے ادا ہوجاتا ہے اگر چہ نیت نہ کی ہو۔ (ت)

 



[1]    ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٧١

[2]    درمختار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٥

[3]    ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٧١

[4]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃمطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٢٦

[5]    صغیری شرح منیۃ المصلی تتمات فیما یکرہ فعلہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص٢٥٦

[6]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٦٤

[7]    ردالمحتار باب سجوع التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٧١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن