دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اقول :  فانظر الی قولہ واجبۃ عقب کذا وعقب کذا فان عقب ظرف للوجوب فلا وجوب قبل تمام الاٰیۃ وانظرع ماذکر من اقوال المالکیۃ والشافعۃ تستقید بھا انھم ایضا معنا فی ذلك ثم النظر الی قولہ لم یحك من احد الخ تشعربہ ان لاخلاف فہی لائمہ السلف اللھم الاروایۃ نادرۃ عن امامنا الثالث رحمہ اﷲ تعالی۔           

حم السجدۃ میں  ولایسأمون کے بعد ، اور مذہب مالك میں مشہور تعبدون کے بعد ہے ، النجم میں آخری آیت کے بعد ، انشقاق میں لایسجدون کے بعد ، اور مذہب مالك مشہور اس کی آخری آیت پر ، علق میں آخری آیت کے بعد لازم ہے ، ان چودہ مقامات میں کوئی اختلاف مروی نہیں ماسوائے ان چار مقامات کے جن میں اختلاف ذکر کردیاگیا ہے ، ہاں ذخیرہ میں ہے کہ الرقیات میں ہے الخ اور وہاں امام محمد   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے روایت عزیبہ ذکر کی گئی ہے اھ ملتقطًا (ت)

اقول : آپ نے انکے الفاظ فلاں لفظ کے بعد فلاں کے بعد واجب ہے ، ملاحظہ کئے ، لفظ عقب وجوب کے لئے جگہ کا بیان ہے پس تمام آیت سے پہلے سجدہ کا وجوب نہ ہوگا ، مالکیہ اور شوافع جو اقوال ذکر کرتے ہیں انھیں دیکھیں ان سے مستفاد کہ اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہیں پھر یہ الفاظ دیکھو کہ کسی سے اختلاف مروی نہیں الخ جس سے واضح ہورہا ہے کہ ائمہ سلف کو اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر وہ روایت جو ہمائے تیسرے امام   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے مروی ہے ۔ (ت)

اسی طرح شرح معانی الآثار امام طحطاوی میں تصریح فرمائی کہ اواخرِ آیات موضع سجود ہے اور رحم السجدہ میں اختلاف محل یوں نقل کیا :

قال بعضھم موضعہ تعبدون ہ وقال بعضھم موضعہ لا یسأمون ہ وکان ابوحنیفۃ و ابویوسف ومحمد یذھبون الی المذھب الاخیر واختلف المقتدمون فی ذلك [1]۔  ثم اسند عن ابن عباس وابی وائل وابن سیرین ومجاھد وقتادۃ مثل مذھب اصحابنا وعن ابن مسعود وابن عمر مثل مذھب المالکیۃ واسند عن مجاھد قال سألت ابن عباس ون السجدۃ التی فی حم قال اسجد باٰخرالاٰیتین [2] اھ

قلت والباء للسبیبۃ ثم اخرج عنہ بطریق اخر قال سجدہ رجل فی الاٰیۃ الالی من حم فقال ابن عباس عجل ھذا بالسجود [3]۔         

بعض نے فرمایا کہ سجدہ کامقام تعبدون ہے ، بعض نے فرمایا لایسأمون ہے ، امام ابو حنیفہ ، امام ابویوسف اور امام محمد تینوں آخری کی طرف گئے ہیں ، مقتدین نے اس میں اختلاف کیا ہے

پھر انھوں نے سندًا بتایا کہ ابن عباس ، ابو وائل ، ابن سیرین ، مجاہد اور قتادہ کا مذہب ہمارے اصحاب کی طرح ہے ابن مسعود اور ابن عمر کا مسلك مالکیہ والا ہے ، اور مجاہد سے سندًا بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے حم میں سجدہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا دونوں آیات کے آخر میں سجدہ کرو اھ ۔

قلت : ( میں کہتا ہوں کہ ) باء سببیہ ہے پھر دوسری سند سے ابن عباس سے روایت کیا ایك آدمی نے حم کی پہلی آیت پر سجدہ کیا اس پر حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے فرمایا : سجدہ میں جلدی کردی ۔ (ت)

 پھر فرمایا :

فکانت ھذہ السجدۃ التی فی حم مماقد اتفق علیہ واختلف فی موضعھا وما ذکرنا قبل ھذامن السجود فی السور الاخر فقد اتفقواق علیھا وعلی مواضعھا التی ذکرناھا [4] الخ

حم کے سجدہ پر اتفاق ہے لیکن اس کے مقام میں اختلاف ہے اور جو اس سے پہلے سورتوں کے آخر میں سجدوں کا ذکر آیا ان پر اور ان کے مذکور مقامات پر اتفاق ہے الخ (ت)

امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :

لو سجد قبل تمام الاٰیۃ ولو بحرف لم یصح

اگر کسی نے آیت سے ایك حرف بھی پہلے سجدہ کیا

لان وقتھا انما یدخل بتمامھا [5]۔

تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ اس کو وقت تمام آیت پر شروع ہوتا ہے (ت)

اس مذہب جلیل الشان مشید الارکان پر شعر مذکور کے پڑھنے سننے سے سجدہ نہیں آسکتا کہ اس میں آیت سجدہ بتمامہا نہیں ، اسی طرح ہر وہ نظم جس میں پوری آیت سجدہ نہ ہو ، اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ قرأت وسماعت نظم مطلقًا موجب سجدہ نہیں کہ آیات چار دو گانہ عــــہ سے کوئی آیت وزن عروضی کی مساعدت نہیں فرماتی جسے نظم میں لانا چاہیں گے یا پوری نہ آئے گی یا ترتیب کلمات بدل جائے گی بہر حال آیت بحالہا باقی نہ رہے گی ،

اللھم الااٰیتی النجم والعن فلعل الوزن یسعھما فی بعض الشطور النا درۃ اوالزحافات البعیدۃ اولابنیۃ الغریبۃ ولو بضم بعض الکمات فی الاول اولاخر فلیعمل الفکر۔

ہاں ، صرف سورہ نجم اور علق کی دو آیتوں میں وزن شعری کی گنجائش شاید بعض نادر وجوہ اور بعید تبدیلیوں اور اجنبی وزنوں میں وہ بھی اول یا آخر میں بعض کلمات ملانے کی وجہ سے پیدا ہوجائے ، لہذا غور وفکر کو عمل میں لانا چاہئے ۔ (ت)

ہاں بعض علمائے متاخرین کا یہ مذہب ہے کہ آیت سجدہ سے سرف کو کلمے پڑھنا موجب سجدہ ہے جن میں ایك وہ لفظ جس میں ذکر سجود ہے جیسے آیت سوال میں لفظ واسجد اور دوسرا اُس کے قبل یا بعد کا جیسے اُس میں واقترب٭ یہ مذہب اگر چہ ظاہر الروایہ بلکہ روایات نوادر سے بھی جدا ، اور مسلك ائمہ سلف وتصریح وتلویح متون و شروح کے بالکل خلاف ہے مگر سراج وہاج وجوہرہ نیرہ ومراقی الفلاح میں اس کی تصحیح واقع ہوئی ، شرح نور الایضاح میں ہے :

قراء ۃ حرف السجدہ مع کلمۃ قبلہ اوبعدہ من اٰیتھا توجب السجود کالایۃ المقروءۃ بتمامھا فی الصحیح[6]۔

 



   [1] شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ /  ٢٤٧

[2]    شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ /  ٢٤٧

[3]    شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ /  ٢٤٧

[4]    شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ /  ٢٤٧

   [5] ارشاد الساری شرح البخاری ابواب سجود القرآن مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ٢ /  ٢٨١

[6]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٦١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن