30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موضع السجدۃ فی حم السجدہ عند قولہ تعالٰی لایسأ مون فی قول عمر رضی اﷲ تعالی
حم السجدۃ میں حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرمان کے مطابق لایسأمون پر سجدہ ہے ۔ احتیاط کی
عنہ وھوالماخوذ للاحتیاط [1]۔
بناء پر اسی پر عمل ہے۔ (ت)
۱۲فتح القدیر میں ہے :
وجہہ انہ ان کان السجود عند تعبدون لایضرہ التاخیر الی الاٰیۃ بعدہ وان کان عند لایسامون ٭ لم یکن السجود قبل مجز ئا۔ [2]
اس کی وجہ یہ ہے اگر سجدہ تعبدون پر لازم ہوجاتا ہے تو اس کے بعد آیت اسے نقصان دہ نہیں اور اگر سجدہ لایسأمون پر ہو تو اب پہلے ہونے کی وجہ سے کافی نہ ہوگا۔ (ت)(٢؎
۱۳کافی میں ہے :
موضع السجدۃ فی حم عند قولہ لایسأمون وھو مذھب ابن عباس وقال الشافعی عند قولہ ان کنتم ایاہ تعبدون٭وھو مذھب علی رضی اﷲ تعالی عنہم لان الامر بالسجود فیھا والاحتیاط فیما قلنا لیخرج عن الواجب بیقین فانھا ان کانت عند الاٰیۃ الثانیۃ والسجود قبلھا غیر جائز فلو سجد عند تعبدون٭لایخرج عن العھدۃ الخ [3]
سورہ حم میں سجدہ لایسأمون کے الفاظ پر ہے اور یہ حضرت ابن عباس کا مذہب ہے امام شافعی کے مطابق سجدہ ان کنتم ایاہ تعبدون کے الفاظ پر ہے اور حضرت علی رضی اﷲعنہ کا یہی مذہب ہے کیونکہ سجدہ کاحکم اسی میں ہے ، اور احتیاط ہمارے قول میں ہے تاکہ مکلف سے واجب کی ادائیگی بالیقین ہوجائے کیونکہ اگر سجدہ دوسری آیت پر ہے تو اس سے پہلے سجدہ جائزنہیں لہذا اگرسجدہ تعبدون پر کیا تو مکلف اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہ ہوگا الخ (ت)
۱۴ردالمحتار میں ۱۵امداد الفتاح اُس میں ۱۶بحرالرائق اُس میں ۱۷بدائع سے ہے :
رجحنا الاول للاحتیاط عند اختلاف مذاہب الصحابۃ لانھا لو وجبت عند تعبدون ٭فالتاخیر الی لایسأمون٭لایضر بخلاف العکس
ہم نے صحابہ میں اختلاف کی وجہ سے احتیاطًا پہلے کو ترجیح دی ہے کیونکہ اگر سجدہ تعبدون پر لازم ہو تو لاسیأمون تك تاخیر نقصان دہ نہیں اور اس کے عکس میں نقصان ہے کیونکہ ایسی صورت میں وجوب
لانھا تکون قبل وجود سبب الوجوب [4] الخ
سب سے پہلے ہوگا۔ الخ (ت)
اسی طرح شرح وقایہ ومجمع الانہر ومستخلص وغیرہا میں ہے :
فقد نصوا علی ان سبب الوجوب الاٰیۃ بتمامھا حتی جعلوا التقدیم علیھا کتقدیم الصلوۃ علی وقتھا۔
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ وجوب سجدہ کا سبب پوری آیت ہوتی ہے حتی کہ پوری آیت سے پہلے سجدہ کرنا ایسے ہی ہےجیسے نماز وقت سے پہلے ادا کرلی ہو۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
سجدۃ التلاوۃ واجبۃ فی الاعراف عقب اٰخرھا وفی الرعد عقب قولہ وظلالھم بالغدووالاٰصال٭ وفی النحل عقب قولہ ویفعلون مایؤمرون٭وفی بنی اسرائیل عقب قولہ ویزیدھم خشوعا٭وفی مریم عقب قولہ خروا سجد اوبکیا٭وفی الحج عقب قولہ ان اﷲ یفعل مایشاء٭وفی الفرقان عقب قولہ وزادھم نفورا٭وفی النمل عقب قولہ ویعلم ما تخفون وما تعلنون٭وھو معز والی اکثر الفقھاء وقال مالك عند قولہ رب العرش العظیم ووذکر النووی انہ الصوب وانہ مذھب الشافعی کما صرحت بہ اصحابہ وفی الم السجدۃ عقب قولہ وھم لا یستکبرون٭وفی ص عقب قولہ واناب٭وفی قولہ عند المالکیۃ وھو روایۃ عن مالك عقب
سجدہ تلاوت اعراف میں آخری آیت کے بعد ہے رعد میں ظلالھم بالغدوو الاٰصال کے بعد ہے۔ نحل میں ویفعلون ما یومرون پر ، بنی اسرائیل میں ویزیدھم خشوعا پر ، مریم میں خرواسجدہ وبکیا پر ، حج میں ان اﷲ یفعل مایشاء پر ، فرقان میں وزادھم نفورا کے بعد ، نمل میں ویعلم ماتخفون وماتعلنون پر ، اور یہ اکثر فقہاء کی طرف منسوب ہے امام مالك رب العرش العظیم پر سجدہ کے قائل ہیں امام نووی نے کہا یہی صواب اور مذہب شافعی ہے جیسا کہ ان کے اصحاب نے تصریح کی ہے۔ الم السجدۃ میں وھم لایستکبیرون پر ، ص میں واناب کے بعد ، اور مالکیہ کے نزدیك ماٰب کے بعد ، اور یہی امام مالك رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے
ماٰب وفی حم السجدۃ عقب قولہ والایسأمون ومشہور مذہب مالك عقب تعبدون وفی النجم عقب اٰخرھا و فی الانشقاق عقب قولہ لا یسجدون مشہور مذہب مالك عقب اٰخرھا وفی العلق عقب اٰخرھا ثم لم یحك عن احد ممن قال بالسجود فی ھذاالمواضع الاربعۃ عشرخلاف فی شیئ من محالھا المذکورۃ فیما عدالمواضع الاربعۃ التی بینت الخلاف فیھا نعم فی ذخیرۃالذکر فی الرقیات الخ وذکر ھھنا روایۃ غریبۃ عن الامام محمد رحمۃ اﷲ تعا لی [5]اھ ملتقطا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع