30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قعدے کو بھول گیا پھر اسے یاد آیا اور لوٹ آیا تو اب اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں بشرطیکہ وہ سیدھا کھڑا نہ ہوا یہی ظاہر مذہب ہے اور یہی اصح ہے فتح۔ اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ لوٹے اگر لوٹ آیا تو نماز فاسد نہ ہوگی لیکن گناہگار ہوگا اور تاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ کرے اور یہی مختار ہے جیسا کہ اس کی تحقیق کمال نے کی ہے اوریہی حق ہے بحر اھ مختصر۔ رد المحتار میں ہے قولہ اصح
الی القعود اقرب فانہ لاسجود علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر [1] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں یعنی جب کہ وہ سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے لوٹا حالانکہ وہ قعود کے قریب تھا تو اب اس پر اصح قول کے مطا بق سجدہ نہیں اور اکثر فقہاء کی یہی رائے ہے۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
_________________
باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
مسئلہ ١٢٤٩ : از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سيد محمد ابراہیم صاحب ہشتم ربیع الاول ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر کتب نظم ونثر میں آیات سجدہ لکھی ہوتی ہےان کا کیا حکم ہے آیا سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں ؟ جیسے منقبت میں جناب مولوی عبدالقادر صاحب خصصہم اﷲ بالمواہب کا شعر ہے : ؎
راہ حق میں کردیا سجدہ میں قربان اپنا سر
ایسی واسجد واقترب کی کس نے کی تفسیر ہے
بینوا توجروا۔
الجواب :
وجوب سجدہ تلاوت ، تلاوت کلمات معینہ قرآن مجید سے منوط ہے۔ وہ کلمات جب تلاوت کئے جائیں گے سجدہ تالی وسامع پر واجب ہوگا کسی نظم یا نثر کے ضمن میں آنے سے غایت یہ ہے کہ اول وآخر کچھ غیر عبارت مذکور ہوئی جسے ایجاب سجدہ میں دخل نہ تھا ، نہ یہ کہ حکم سجدہ کی رافع ومزیل ہو اُس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوا جس طرح حرف اسی قدر کلمات تلاوت کریں اور اول وآخر کچھ نہ کہیں سجدہ تلاوت واجب ہوگا ، ایسے ہی یہاں بھی کہ جس عبارت کا عدم وجودیکساں ہے وہ نظر سے ساقط اور حکم سکوت میں ہے وھذا ظاھر جدا (اور یہ نہایت واضح ہے ۔ ت) ہاں قابل غور یہ بات ہے کہ سجدہ تلاوت کس قدر قرأت سے ہوتا ہے اصل مذہب وظاہرالروایہ میں ہے کہ ساری آیت بتما مہااس کا سبب ہے یہاں تك کہ اگر ایك حرف باقی رہ جائے گا سجدہ نہ آئے گا مثلًا اگر حج میں الم تر ان اﷲ سے ان اﷲ یفعل ما تك پڑھ گیا سجدہ نہ ہوا جب تك یشاء بھی نہ پڑھے ، اور یہی مذہب آثار صحابہ عظام وتابعین کرام سے مستقاد اور ایسا ہی امام مالك وامام شافعی وغیرہما ائمہ کا ارشاد بلکہ ائمہ متقدین سے اس بارے میں اصلًا خلاف معلوم نہیں کتب اصحاب سے متون کہ نقل مذہب کے لئے موضوع ہیں قاطبۃً اسی طرف گئے اور دلائل وکلمات عامہ شروح کہ تحقیق وتنقیح کی متکفل ہیں اسی پر مبنی ومتبنی ہوئے اور اکابر اصحاب فتاوٰی بھی ان کے ساتھ ہیں ۔ ۱وقایہ و۲نقایہ و۳ ملتقی الابحر میں ہے : تجب علی من تلا آیۃ [2] ۔ ( سجدہ آیت کی تلاوت کی وجہ سےواجب ہوتا ہے۔ ت)۴کنز و ۵وافی میں ہے : تجب باربع عشر آیۃ [3]( سجدہ تلاوت چودہ۱۴ آیات کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔ ت) ۶تنویر میں ہے : تجب سبب تلاوۃ آیۃ[4] (سجدہ آیات کی تلاوت کی وجہ سے واجب ہوجاتا ہے ۔ ت)۷غنیہ میں ہے :
اذاقرأ اٰیۃ السجدۃیجب علیہ ان یسجد [5] اھ ملخصا
جب کسی نے آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے اھ ملخصا (ت)
۸خانیہ میں ہے :
سجدۃ التلاوۃ تجب علی من تجب علیہ الصلوۃ اذا قرأ السجدۃ اوسمعھا [6]۔
سجدہ تلاوت اس شخص پر واجب ہوتا ہے جس پر نماز واجب ہے جبکہ اس نے آیت سجدہ پڑھی یا سنی ۔ (ت)
۹برجندی شرح نقایہ ۱۰فتاوٰی ظہیریہ امام ظہیر الملہ والدین مرغینانی سے ہے :
المرادبالاٰیۃ اٰیۃ تامۃ حتی لوقرأ اٰیۃ السجدۃ کلھا الا الحرف الذی فی اٰخرھا لا یسجد [7] الخ
آیت سے مراد پوری آیت ہے حتی کہ کسی نے آیت پڑھی مگر اس کا اخری حرف نہ پڑھا تو سجدہ لازم نہیں الخ (ت)
۱۱ہدایہ میں ہے :
[1] ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٥٠
[3] کنز الدقائق باب سجود التلاوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٥
[4] درمختار ، باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٤
[5] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی باب سجود التلاوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٤٩٨
[6] فتاوٰی قاضی خاں فصل فی قرأۃ القرآن خطأ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ / ٧٥
[7] شرح نقایہ برجندی ، فصل فی سجدۃ التلاوۃ ، مطبوعہ نولکشور ، ١ / ١٥٥
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع