30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جبر نقصان واجب است سہ رکعت بہ نیت اعادہ ہماں نماز مغرب برائے تلافی مافات کند ۔ واﷲ تعالٰی اعلم نقصان کا اعادہ لازم ہے پھر دوبارہ تین رکعت اس نیت سے ادا کرے کہ میں کمی کا ازالہ کررہا ہوں ، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٢٤٣تا١٢٤٥ : از مدرسہ اہلسنت منظرالاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری ٣ شوال۱٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(١) فرضوں کی تیسری یا چوتھی رکعت میں بعد الحمد شریف کے کسی آیت کا پورا یا نصف لفظ زبان سے نکل گیا یا رکوع میں سہوًا ایك بار سبحان ربی الاعلٰی کہہ دیا ، اسی طرح سجدہ میں اور اسی طرح فرضوں کی پہلی رکعت میں جبکہ مقتدی ہے سبحٰنك کے بعد اعوذباﷲ شریف پڑھ لی تو کیا الحمد شریف کا پڑھنا بھی ضرور ہوگا اور اوپر کی صورتوں میں سجدہ سہو ہوگا یا نہیں ؟
(٢) جماعت میں امام نے سمع اﷲ لمن حمدہ کی جگہ اﷲ اکبر کہا اور سجدہ سہو نہیں کیا ، کیا نماز ہوئی یا نہیں ؟
(٣) فجرکے فرضوں میں دوسری رکعت کے بعد اور دیگر وقتوں میں چوتھی رکعت کے بعد امام یا منفرد التحیات پڑھنی بھول کر کھڑا ہوگیا ، اب اس کو کیا کرنا چاہئے ؟ بینوا توجروا
الجواب :
(١) ان میں سے کسی صورت میں سجدہ سہو نہیں اور مقتدی کو الحمد شریف پڑھنا حرام ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم
(٢) نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی اصلًا حاجت نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(٣) جبکہ قعدہ اخیرہ بھول کر زائد رکعت کے لئے کھڑا ہوا تو جب تك اس رکعت زائدہ کا سجدہ نہیں کیا ہے بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے ، اور اگر اس نے رکعتِ زائد ہ کا سجدہ کرلیا تو اب فرض باطل ہوگئے پھرسے پڑھے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱٢٤٦ : ا زپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوراہا ١١محرم الحرام ١٣٣٩
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کمال درجہ کا بھول رکھتا ہے نماز کے اندر وضو و تکبیر و رکوع وسجود وقیام بلکہ ہر رکعت نماز پنجوقتی میں بھول کے خوف سے بلند قرأت کے ساتھ پڑھتا ہے تاکہ ہم بھول نہ جائیں ، کتنا ہی وہ شخص دل میں خیال وغور کرکے پڑھتاہے تاہم بھول جاتا ہے کچھ بھی خیال نہیں رہتا ہے اور وہ شخص جب نماز پڑھنے لگتا ہے تو ایك شخص کو اس غرض سے بٹھاتا ہے کہ جو کچھ سہو واقع ہو اس کوبتلاتا جائے اس شخص کو نماز کے اندر بہت پریشانی ہوتی ہے اس کے علاوہ وہ کہتا ہے کہ نماز چھوڑدوں پھر کہتا ہے کہ نماز کس طرح چھوڑوں ، اور وہ شخص بہت تندرست اور مستقل مزاج ہے ، ایسی حالت میں اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
کسی شخص کو پاس بٹھا لینا اور اس کے بتانے پر نماز پڑھنا نماز باطل کرے گا ، فجر و مغرب وعشاء میں منفرد کو بآواز پڑھنے کی اجازت ہے ، ظہر و عصر میں صحیح مذہب پر اجازت نہیں ، چارہ کار یہ ہے کہ وہ شخص جماعت میں مقتدی ہو کر پڑھے تو مقتدی کو قرا ت کرنی نہ ہوگی اور امام کے افعال اسے بتانے اور یاد دلانے والے ہوں گے ، جماعت ویسے بھی واجب ہے ، اور ایسے شخص پر تو نہایت اہم واجب ہے کہ بغیر اس کے اس کی نماز ٹھیك ہی نہیں ، سنتیں اور نفل جو پڑھے ان میں کسی شخص کو امام کرلے کہ نفل محض میں تین تك جماعت جائز ہے ، اور جب کوئی شخص امامت کو نہ ملے اپنی یاد پر پڑھے رکعتوں میں اگر شبہہ ہو تو کم سمجھے ، مثلًا ایك اور دو میں شبہہ ہو تو ایك سمجھے اور دو اور تین میں ہو تو دو ، اور جہاں جہاں قعدہ اخیرہ کا شبہہ ہو تو وہاں بیٹھتا جائے اور اخیر میں سجدہ سہو کرے اور اگر کسی طرح اپنی یاد سے نماز ادا کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو معاف ہے ، درمختار میں ہے :
(ولو اشتبہ علی مریض اعداد الرکعات والسجدات لنعاس یلحقہ لایلزمہ الادا ٕ) و لواداھا بتلقین غیرہ ینبغی ان یجزیہ کذافی القنیۃ [1] قال العلامۃ ط قد یقال انہ تعلیم وتعلم وھو مفسد کما اذا قرأمن المصحف او علمہ انسان القرأۃ و ھو فی الصلاۃ [2] قال العلامۃ ش قالت وقد یقال انہ لیس بتعلیم وتعلم بل ھو تذکیر او اعلام فھوکا علام المبلغ بانتقالا ت الامام فتأمل [3] اھ و رأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول فیہ ان الفتح
(اگر کسی مریض پر بسبب اونگھ کے جو اسے لاحق ہوتی ہے رکعات وسجدوں کی تعداد میں اشتباہ پیدا ہوگیا تو اس پر ادائے نماز لازم نہیں ) اور اگر غیر کی تلقین کی بنا پر انھیں ادا کرلیا تو چاہئے کہ یہ اسے کافی ہو جیسا کہ قنیہ میں ہے ، علامہ طحطاوی نے فرمایا اس پر یہی اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ تعلیم وتعلم ہے جو کہ مفسد نماز ہوتا ہے جیسے کہ کسی آدمی نے مصحف سے پڑھا یا اسے دوسرے آدمی نے قرأت سکھادی حالانکہ وہ نماز میں تھا ، علامہ شامی نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ کہا گیا ہے کہ تعلیم و تعلم نہیں بلکہ یاد دلانا اور اطلاع کرنا ہے پس یہ اسی طرح ہے جس طرح بڑے مجمع میں امام کے انتقالات کی اطلاع دینے والا ہوتا ہے فتامل اھ میں نے وہاں یہ حاشیہ
لایزید علی التذکیر بشیئ وقد قال قوم وصح ان المقتدی اذا فتح علی امام بعد ما قرأ قدرالواجب تفسد صلٰوتہ لانہ تعلیم من دون ضرورۃ فان اخذبہ الامام فسدت صلٰوۃ الکل لانہ تعلم من دون ضرورۃ والقائلون بالجواز ( وھو المعتمد) انما اعتمد واعلی انہ للحاجۃ کما بینہ فی الحلیۃ مع الا اعتراف بانہ تعلیم وتعلم انی استشھد بخلافہ الیسوا قد اجمعوا أن لو فتح علی المصلی غیرہ فاخذ فسدت صلٰوتہ ، وقد مرالتنصیص علی کل ذلك والاستشھادبالمبلغ لم یصادف محلہ فانھم جمیعا حینئذ فی صلٰوۃ واحدۃ فالصواب عندی الجواب بان ھذا لضرورۃ وھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع