دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ردالمحتار میں ہے :

لانہ فی غیرا وانہ ولا تفسد صلٰوتہ لانہ مازادالا سجدتین[1]۔

کیونکہ یہ اپنے وقت پر نہیں ، البتہ نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس نے دو سجدوں کے علاوہ کسی شی کا اضافہ نہیں کیا ۔ (ت)

جو مصلی سجدہ سہو کے بعد قعدہ میں شریك امام ہوئے شریك جماعت ہوگئے ان کی بنا صحیح ہے با تفاقِ ائمہ

وانماا لخلاف فی الجمعۃ والمذھب فیہ ایضا الصحۃ۔

اختلاف فقط جمعہ میں ہے اور اس میں بھی مذہب یہی ہے کہ یہ صحیح ہے ۔ (ت)

درمختار میں ہے :

ادرکھا فی تشھد او سجود سھو ( ولو فی تشھدہ ش عن ط) یتمھا جمعۃ خلافا لمحمد کما یتم فی العید اتفاقا کما فی عید الفتح[2] ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

اگر کسی نے امام کو تشہد یا سجود سہو میں پالیا ( اگر چہ تشہد جمعہ ہو ، ش از ط) تو جمعہ ادا کرے البتہ امام محمد   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا اس میں اختلاف ہے جیسا کہ عید کو اگر تشہد میں پالیتا ہے تو بالاتفاق عید ہی ادا کرے (فتح القدیر باب العید) واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ١٢٣٥ :      از چوہر کوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادربخش صاحب ٤ربیع الاول شریف ١٣٣٧ھ

چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ در سجدہ سہو سلام بہر دوجانب گوید یا یکے جانب اگر امام باشد یا مفرد بکدام روایت فتوٰی است۔

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ سجدہ سہو کے لئے دونوں جانب سلام کہنا ہوتا ہے یا فقط ایك جانب امام ہو یا منفرد ، کس روایت پر فتوی ہے (ت)

الجواب :

سلام ہمیں جانب راست دہد امام باشد خواہ منفرد تا آنکہ گفتہ اند کہ اگر سلام دیگر دہد سجدہ سہو ساقط شو د وبزہ کارگردد۔ واﷲ تعالٰی اعلم

فقط دائیں جانب سلام کہنا ہوتا ہے خواہ امام ہو یا منفرد ، حتی کہ فقہاء نے فرمایا ہے کہ اگر دوسری جانب سلام کہتا ہے تو سجدہ سہو ساقط اور ایسے عمل سے گنہگار ہوگا ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم

مسئلہ١٢٣٦ :      از جڑدہ ضلع میرٹھ مسئولہ سید سراج احمد صاحب    ١٢ شعبان ١٣٣٧ھ

چار رکعت والی نماز میں امام دو رکعات کے بعد بیٹھا اور التحیات کے بعد درود شریف شروع کردیا مقتدی کو معلوم ہوگیا ، ایسی حالت میں مقتدی امام کو اشارہ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر کرسکتا ہے تو کس طرح سے؟

الجواب :

اُس کا معلوم ہونا دشوار ہے کہ امام آہستہ پڑھے گا ، ہاں اگر یہ اتنا قریب ہے کہ اس کی آواز اس نے سنی کہ التحیات کے بعد اس نے درود شریف شروع کیا تو جب تك امام اللھم صل علٰی سے آگے نہیں بڑھا ہے یہ سبحان اﷲ کہہ کربتائے اور اگر اللھم صل علی سیدنا یا صل علی محمد کہہ لیا ہے تو اب بتانا جائز نہیں بلکہ انتظار کرے ، اگر امام کو خود یاد آئے اور کھڑا ہوجائے فبہا اور اگر سلام پھیرنے لگے تو اس وقت بتائے ، اس سے پہلے بتائے گا تو بتانے والے کی نماز جاتی رہے گی اور اس کے بتانے سے امام لے گا تو اس کی اور سب کی جائے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۱٢٣٧ :      از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی احسان علی صاحب طالبعلم     ١١شوال ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتر میں قبل دعائے قنوت کے سہوًا رکوع کیا اور دو ایك تسبیح بھی پڑھ چکا اب خیال ہوا کھڑے ہوکر قنوت پڑھی تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں ؟

الجواب :

تسبیح پڑھ چکا ہو یا ابھی کچھ نہ پڑھنے پایا اسے قنوت پڑھنے کے لئے رکوع چھوڑنے کی اجازت نہیں اگر قنوت کے لئے قیام کی طرف عود کیا گناہ کیا پھر قنوت پڑھے یا نہ پڑھے اس پر سجدہ سہو ہے۔ درمختار میں ہے :

ولونسیہ القنوت ثم تذکرہ فی الرکوع لا یقنت فیہ لفوات محلہ ولا یعود الی القیام  ،  فان عادالیہ وقنت ولم یعد الرکوع لم تفسد صلٰوتہ ،  وسجد للسھو قنت اولا لزوالہ عن محلہ [3] اھ ( ملخصا)

 اقول :  وقولہ ولم یعد الرکوع ای ولم یرتفض بالعود للقنوت لا ان لو اعادہ فسدت لان زیادۃ مادون رکعۃ لاتفسد نعم لا یکفیہ اذن سجود السھو لانہ اخرالسجدۃ بھذا الرکوع عمدا فعلیہ الاعادۃ سجد للسھو او لم یسجد ۔  واﷲ تعالٰی اعلم                                                

اگر نمازی قنوت پڑھنا بھول گیا پھر اسے رکوع میں یاد آیا وہ اب قنوت نہ پڑھے کیونکہ اپنے محل سے فوت ہوگئی ہے اور نہ اب قیام کی طرف لوٹے ، اگر لوٹ کر قنوت پڑھی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی وہ سجدہ سہو کرے خواہ اس نے قنوت پڑھی یا نہ پڑھی کیونکہ قنوت اپنے مقام سے ہٹ گئی اھ (تلخیصًا) اقول : ، قولہ اور اس نے رکوع دوبارہ نہ کیا یعنی اس نے قنوت کی خاطر لوٹنے میں رکوع ترك نہ کیا ہو ، یہ معنی نہیں کہ اگر اس نے رکوع لوٹا لیا تو نماز فاسد ہوجائیگی کیونکہ رکعت سے کم کا اضافہ فاسدنہیں کرتا ، ہاں اب سجدہ سہو کافی نہیں کیونکہ اس نے عمدًا سجدہ کو رکوع کی وجہ سے مؤخر کیا ، پس اب اس نماز کا اعادہ لازم ہے خواہ اس نے سجدہ سہو کیا یانہ کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

 



[1]    ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٤٩

[2]    درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ١١٣

[3]    درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٩٤

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن