30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢) فتاوٰی قائدی کی روایت مندرجہ ذیل سے مدعا ثابت ہے اور وہ یہ ہے :
اذا سہا المقتدی لایلزمہ سجود السہو انما یجب بالسھو و السبب انما یعمل عملہ اذا امکن اعتبارہ فی حق الحکم فاما اذالم یمکن اعتبارہ فی حق الحکم کان ملحقا بالعدم کما قال ابو حنیفۃ وابویوسف فی تلاوۃ المقتدی و کما فی بیع المحجور
جب کوئی مقتدی بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا کہ سجدہ سہو اس وقت لازم ہوتا ہے جب حقِ حکم میں نمازی کا اعتبار ممکن ہو اور جب حق حکم میں نمازی کا اعتبار ممکن نہ ہو تو سجدہ سہو کالعدم تصور ہوتا ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف
وشرائہ وھھنا لایمکن اعتبار سھو المقتدی فی حق الحکم و ھو وجوب سجدۃ السھو[1] انتھی
نے مقتدی کی تلاوت کے بارے میں فرمایا ، اور محجور کی بیع وشراء میں ہے اور یہاں حق حکم یعنی وجوب سہو میں مقتدی کی سہو کا اعتبار ممکن ہی نہیں انتہی (ت)
(٣) علامہ شامی صفحہ ٤٩٦ میں فرماتے ہیں اس مسئلہ کے متعلق کہ جہاں سجود ساقط ہوجائے اعادہ لازم ہوتا ہے یا نہیں ،
والذی ینبغی انہ ان سقط بصنعہ کحدث عمد مثلا یلزم والا فلا تامل [2] انتھی
اور وہ صورت جس میں نماز سے خروج بالا رادہ ہو مثلًا عمدًا وضو توڑدیا تو اب سجدہ سہو ساقط مگر اعادہ نماز لازم ، اور اگر ایسی صورت نہیں تو اعادہ لازم نہ ہوگا ، غور کیجئے انتہی (ت)
جس سے صاف ظاہر ہے کہ مانحن فیہ میں اس لئے کہ سقوط سجدہ سہو مقتدی کے اپنے فعل اختیار ی سے نہیں ہوا بلکہ اس لئے کہ امام کے پیچھے وہ ادا نہیں کرسکتا نہ قبل السلام نہ بعد السلام ، اعادہ واجب نہیں ،
(٤) علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ صفحہ ٣٠٦ پر فرماتے ہیں :
وینبغی تقیید وجوب الاعادۃ بما اذالم یکن الترك لعذر کالامی اومن اسلم فی اخر الوقت فصلی قبل ان یتعلم الفاتحۃ فلا تلزم الاعادۃ [3] انتہی
وجوب اعادہ کو اس قید کے ساتھ مقید کیا جانا چاہئے کہ یہ اس صورت میں ہے جب ترك (واجب)کسی عذر کی بنا پر نہ ہو مثلًا اُمی کا ترك فاتحہ یا وہ شخص جو نماز کے آخری وقت میں اسلام لایا اور اس نے فاتحہ سیکھنے سے پہلے نماز ادا کی تو اب اعادہ نماز لازم نہیں ہوگا (ت)
جس سے عیاں ہے مانحن فیہ میں بوجہ اس کے کہ ترك سجود بوجہ تعذر ہوا کل صرح بہ الفقہا ( ان تمام کی فقہاء نے تصریح کی ہے ۔ ت) اعادہ لازم نہیں ۔
(٥) فی الدرالمختار یجب علی منفرد ومقتد بسھو امامہ ان سجد امام لوجوب المتابعۃ [4] انتھی فی ردالمحتار
درمختار میں ہے کہ تنہا نمازی پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور امام کی بھول کی وجہ سے مقتدی پر بشرطیکہ امام سجدہ کرے کیونکہ مقتدی پر امام کی متابعت لازم
قولہ ان سجد امامہ امالو سقط عن الامام بسبب من الاسباب بان تکلم اواحدث معتمد ا اوخرج من المسجد فانہ یسقط عن المقتدی بحر ، والظاھر ان المقتدی تجب علیہ الاعادۃ کالامام ان کان السقوط بفعلہ العمد لتقرر النقصان بلاجابر من غیر عذر[5] تامل انتھی
ہے۔ انتہی ، قولہ “ اگر امام نے سجدہ کیا “ اور اگر امام سے کسی وجہ سے سجدہ ساقط ہوگیا مثلًا اس نے کلام کیا یا جان بوجھ کر حادث ہوگیا یا مسجد سے نکل گیا تو اب مقتدی سے بھی سجدہ سہو ساقط ہو جائے گا بحر ، اور ظاہر یہی ہے کہ اگر سقوط سجدہ عمدًا ہو تو امام کی طرح مقتدی پر بھی اعادہ لازم ہوگا کیونکہ اب بغیر کسی عذر کے ایسے نقصان کا ثبوت ہوا جس کا کوئی ازالہ نہ ہوا ، غور کرو ، انتہی (ت)
مانحن فیہ میں اگر چہ مقتدی کا اپنا سہو ہے نہ کہ سہو امام ، لیکن جبکہ سجدہ سہو کے ساقط ہونے میں عمد کو دخل نہیں لہذا اعادہ بھی واجب نہیں ۔
(٦) آج تك اعادہ صلوٰۃ کا عمل نا مسموع ہے اگر وجوب اعادہ سے حکم کیا جائے لکھو كھہا نمازیوں کی نمازیں ناجائز وتباہ ہوجاتی ہیں اور نمازی تارك صلوٰۃ اور آثم ٹھہرتے ہیں ، حالانکہ حضرت رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : الدین یسر [6] (دین میں آسانی ہے ۔ ت)ونیز فرماتے ہیں : یسروا ولا تعسروا بشروا ولا تنفروا[7] ( آسانی کرو ، تنگی نہ کرو اور اچھی خبر دو ، نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت)
یہاں تك کہ فقہاء کے نزدیك مختار یہ ہے کہ صلوٰۃ عید وجمعہ میں سجود سہوادانہ کئے جائیں دفعًا للفتنۃ( فتنہ کے دفع کےلئے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب وانا العبد العاصی لمدعو باحمد بخش عفی عنہ
الجواب :
اقول : وباﷲ التوفیق مؤید المسائل الفاضل دام بالفضائل ( میں اﷲ کی توفیق سے سائل فاضل ( جن کے فضائل ہمیشہ رہیں ) کی تائید کرتے ہوئے میں کہتا ہوں : )
[1] فتاوٰی قائدی
[2] ردالمحتار باب السجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٧٩
[3] ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٤٥٦
[4] درمختار باب سجود السہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١٠٢
[5] ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٨٢
[6] صحیح بخاری باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ١ / ١٠
[7] صحیح بخاری باب کان النبی یتخولہم بالموعظۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع