دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الامام لکم ضامن یرفع عنکم سھوکم وقراء تکم [1]

رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : امام تمھارے لئے ضامن ہے اور تمھاری سہو اور قرأت کو اٹھا لیتا ہے ۔ (ت)

اسی حدیث کے مطابق حضرت ابن حجر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حدیث اول کی تفسیر فرمائی ہے جو پہلے ذکر ہوچکی ہے اور جس کا ترجمہ كب سے نام حق میں “ سہو اور امام برگیرد “ (اس کے سہو کو امام اٹھا لیتا ہے ۔ ت) سے کیا گیا نیز اس حدیث کے متعلق حضرت امام طحطاوی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ رفع سہو کے ساتھ رفعِ قرأۃ کا ذکر کرنے سے یہ اشارہ ہے کہ جیسا کہ مقتدی پر ترك قرأۃ سے کوئی گناہ نہیں اسی طرف سہو کے ترك کرنے سے بھی کوئی گناہ نہیں ، اس کے بعد نہر فائق کی عبارت متقدمۃ الذکر نقل کرکے فرماتے ہیں : وقد علمت مفاد الحدیث افادہ بعض الافاضل [2]( آپ حدیث کا وہ معنٰی جان چکے جو بعض افاضل نے بیان کیا ۔ ت) یعنی کہ مفاد حدیث کے مخالف ہے جو نہر سے منقول ہوا۔

حدیث سوم : علامہ شامی نے معراج الدرایہ سے نقل کیا ہے کہ عدم لزوم سجدہ سہو کے ثابت کرنے کےلئے بہتر یہ ہے کہ اس حدیث سے استدلال کیا جائے جو حضرت ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے رسول اﷲ    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   سے روایت کی : لیس علی من خلف الامام سھو [3]( جو امام کے پیچھے ہو اس پر (سجدہ ) سہو نہیں ۔ ت)

حدیث چہارم : حضرت قطب شعرانی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کشف الغمہ میں بہ صفحہ ع وع فرماتے ہیں :

وکانو الا یسجدون لسھو ھم خلف الامام ویقولون الامام یحمل اوھام من خلفہ

صحابہ اپنے سہو کی وجہ سے امام کے پیچھے سجدہ نہیں کرتے تھے اور یہ کہتے کہ امام اپنے مقتدیوں کے وہموں کو

من المامومین وکذلك کان یقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من سھا خلف الامام فلیس علیہ سھو و امامہ کافیہ فان سھا الامام فعلیہ وعلی من خلفہ السھو[4] انتھی

اٹھا لیتا ہے ، اور اسی طرح رسالتمآب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا جو امام کے پیچھے بھول گیا اس پر (سجدہ) سہو نہیں اور اس کا امام کافی ہے اور اگر امام بھول گیا تو امام اور اس کے مقتدی دونوں پر سجدہ سہو لازم ہوگا انتہی (ت)     

جس سے حضرت رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمان مبارك وامامہ کافیہ ( اور اس کا امام کافی ہے ۔ ت) اور پھر اسی پر عمل صحابہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  مخالف کے بر خلاف کافی حجۃ ہے اگر مخالف ان احادیث متذکرہ بالا کے متعلق کہے کہ سوائے حدیث اول کے باقی احادیث کسی کتاب حدیث سے منقول نہیں اور نہ کوئی سند ذکر کی گئی ہے اور ان کے ناقلین حضرت قطب شعرانی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اور طحطاوی اور صاحب مراقی الفلاح اور صاحب معراج الدرایہ نقادِ حدیث میں سے نہیں لہذا یہ احادیث قابل اعتبار نہیں ، تو اس کے جواب میں مجھے مختصر طور پر یہ کہنا ضروری ہے کہ حدیث اول کے متعلق مولانا علی قاری اور ابن حجر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اور علامہ عینی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے اقوال اگر اتمام حجت کے لئے کافی سمجھے گئے تو دوسروں کے مناقب بیان کرنے اور حفظ مراتب کے لئے موعظۃ سے چنداں کوئی حاصل نظر نہیں آتا دوسرے یہ کشف الغمہ کے متعلق اس قسم کا خیال اس کتاب کے مقدمہ سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے جس میں فرماتے ہیں کہ کتب صحاح فلان وفلان سے یہ سب احادیث ماخوذومنقول ہیں ، تیسرے یہ کہ ایسے عذرات اہل تحقیق کے نزدیك قابل وقعت نہیں ،

قال بعض الاذکیاء فالمختار عندی جواز نقل الحدیث من الکتب الصحاح والحسان بلاشرط ومن غیرھا بشرط التنقیح علی اھل العلم ومؤ لفاتھم ،  وفی الاشباہ من الفقہ الحنفی نقل السیوطی عن ابی اسحٰق الاسفرائی الاجماع علی جواز النقل من الکتب المعتمدۃ ولا یشترط اتصال السندالی مصنفیھا [5] انتھی               

بعض اذکیاء نے فرمایا کہ میرے نزدیك کتب صحاح اور حسان سے حدیث کا بلا شرط نقل کرنا جائز ہے اور ان کے علاوہ دیگر کتب سے اہل علم اور ان کی تصانیف سے بشرطِ تحقیق نقل کرنا جائز ہے ، فقہ حنفی کی اشباہ میں ہے کہ امام سیوطی نے ابو اسحاق اسفرائی سے نقل کیا ہے کہ معتمد کتب سے ان کے مصنفین تك اتصال سند کے بغیر بھی نقل حدیث کے جواز پر اجماع ہے انتہی (ت)

الغرض ان احادیث کے ہوتے ہی فقہاء کے اس قول سے سجدہ سہو لازم نہیں ایسے معنی کا ارادہ کرنا جو احادیث کے برخلاف ہے تمام فقہاء پر حملہ کرنے کے علاوہ عمدًا ترك عمل بالحدیث نہیں تو اور کیا ہے پس بہتر ہے کہ فقہاء کے کلام سے بھی وہی مراد ہو جو احادیث سے ثابت ہو۔

سوال : صاحب النہر الفائق ثقات حنفیہ سے ہے ، پس یہ کس طرح گوارا ہوسکتا ہے کہ اس کی رائے کے برخلاف حکم کیا جائے کہ کلام فقہاء کا مقتضی نہ کراہت ہے اور نہ اعادہ۔

جواب : من ابتلی بلیتین فلیخترا ھونھما ( جو شخص دو مشکلات میں گھر جائے وہ ان میں سے آسان کو اختیار کرے۔ ت) صرف صاحب نہر فائق كا خلاف بمقابلہ اس کے کہ سب فقہاء کے کلام احادیث کے برخلاف ہو اور احادیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل نہ ہو نہایت ہی آسان ہے ولعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا ( شاید اس کے بعد اﷲ کوئی امر پیدا فرمادے ۔ ت) اس کے بعد ان چند مسائل اور روایتِ فقہاء کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس سے صاف ثابت ہے کہ مقتدی پر سجدہ سہو کے نہ کرنے کی وجہ سے اعادہ لازم نہیں :

(١) سجود تلاوت کے باب میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر موتم نے آیت سجدہ تلاوت کی تو سجدہ تلاوت لازم نہیں نہ موتم پر اور نہ امام پر اور نہ کسی دوسرے مقتدی پر ، اور اس کی دلیل صاحبِ شرح منیہ نے بعینہٖ وہی لکھی ہے جو سجود سہو کے لازم ہونے کی ہے ، یعنی ان سجد الامام یلزم انقلاب المتبوع تابعا والالزم مخالفتھم لہ ١[6] انتھی ( اگر امام سجدہ کرے گا تو یہ متبوع کا تابع ہونا لازم آئے گا ورنہ یہ اس کی مخالفت لازم آتی ہے انتہی ۔ ت)اگر اس دلیل کا مقتضی ثبوت کراہت اور اعادہ صلوٰۃ ہو تو لازم آتا ہے کہ سجود تلاوت کے متعلق بھی ایسا حکم ہو حالانکہ یہاں نہ اعادہ سجدہ تلاوت ہے اور نہ اعادہ صلوٰۃ۔

 



[1]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود السہو مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٥٢

[2]    حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود السہو مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٥٢

[3]    ردالمحتار۔ باب سجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ /  ٨٢

[4]    کشف الغمہ باب سجود السہو مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ /  ١٥٩

[5]    الاشباہ والنظائر احکام الکتابۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ /  ١٩٨

[6]    ردالمحتار بحوالہ شرح منیہ وغیرہ باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٦٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن