دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ظہرکی پہلی دورکعات میں تیس آیات اور آخری دو میں پندرہ آیات ( یا نصف) تلاوت فرماتے۔ فخرالاسلام نے شرح الجامع الصغیر میں فرمایا آخری دورکعات میں سورت بطور نفل مشروع ہے حتی کہ اگر کسی نے سورت پڑھی تو ہم کہتے ہیں کہ اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا انتہی ، پھر یہ کہنا ممکن ہے کہ عدم اضافہ (سورت) اولٰی ہے اور اس پر دلیل حدیث ابو قتادہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہے ( اس سے مراد وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم کے حوالے سے گزری کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ظہر کی پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے اورآخری دورکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھتے ۔ الحدیث) اور مصنف کا قول مذکورہ ( یعنی اس (فاتحہ) پر اضافہ نہ کیا جائے) اور متعدد مشائخ کا قول جس طرح کافی وغیرہ میں ہے کہ پہلی دو رکعات کے بعد صرف فاتحہ پڑھی جائے اور حدیث ابو سعید   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو محض جواز بیان پر محمول کیا جائے ، اورفخر الاسلام کاقول کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بعض جائز افعال کو تعلیم جواز وغیرہ کے لئے بجا لائے جبکہ یہ آپ کے حق میں مکروہ نہیں جس طرح آپ جائز کو غالب اوقات بجالاتے تھے اور فعل عدم اولی کے منافی نہیں ہوتا ، اس گفتگو سے وہ تمام معاملہ ختم ہوجاتا ہے جو خیال کیا گیا تھا کہ ان مذکورہ دونوں احادیث اور اقوالِ مشائخ میں مخالفت ہے اھ شاید آپ پر یہ بات مخفی نہیں رہی کہ نفل مشروع کو مکروہ تنزیہی پر محمول کرنا نہایت ہی بعید ہے اور آخری رکعتوں

وبین اقوال المشائخ واﷲ سبحٰنہ اعلم [1] اھ  ولعلك لایخفی علیك ان حمل المشروع نفلا علی مکروہ تنزیھا مستبعد جدا وقر أۃالسورۃ فی الاخر یین لیست فعلا مستحبا مستقلا یعتریہ عدم الاولویۃ بعارض کصلٰوۃ نافلۃ مع بعض المکروھات وانما المستفاد من العلۃ ھھنا ھو استحباب فعلھا فکیف یجامع عدم الاولویۃ والذی یظھر للعبد الضعیف ان سنیۃ الاقتصار علی الفاتحۃ انما تثبت عن المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الامامۃ فانہ لم یعھد منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلٰوۃ مکتوبۃ الا اماما الانادرا فی غایۃ الندرۃ فیکرہ للامام الزیادۃ علیھا لا طالتہ علی مقتدین فوق السنۃ بل لو اطال الی حد الاستثقال کرہ تحریما اما المنفرد فقد قال فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلیطول ماشاء وزیادۃ خیر ولم یعرضہ مایعارض خیریتہ فلا یبعد ان یکون نفلا فی حقہ فان حملنا کلام المشائخ علی الامام وکلام الا مام فخر الاسلام تصحیح الذخیرۃ والمحیط علی المنفرد حصل التوفیق وباﷲ التوفیق ھذا ماعندی واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔                                                

میں سورت کا پڑھنا مستقل فعل مستحب نہیں کہ اسے کسی عارضہ کی وجہ سے عدم اولویت لاحق ہو جیسے کہ نفل نماز کسی مکروہ پر مشتمل ہو اور یہاں علت سے قرأت سورت کا استحباب ثابت ہو رہا ہے تو اب یہ عدم اولویت کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتا ہے۔ اس عبد ضعیف پر یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ فاتحہ پر اکتفا کرنا نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے امامت کی صورت میں منقول ہے کیونکہ آپ کی فرض نماز جو بھی منقول ہے وہ امام ہونے کی صورت میں ہی ہے البتہ شاذونادر ہی کوئی فرض نماز اس کے علاوہ ہوگی لہذا امام کے لئے فاتحہ پر اضافہ مکروہ ہوگا کیونکہ یہاں مقتدیوں پر سنت سے بڑھ کر طوالت کی کہ مقتدیوں پر گراں گزری تویہ کراہت تحریمی ہوگی۔ اگر آدمی تنہا نماز ادا کررہا ہے تواس میں رسالتمآب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ نماز جتنی لمبی کرنا چاہے کرے ، اور فاتحہ پر اضافہ خیر ہے اور اس کے خیر ہونے کے خلاف کوئی دلیل بھی نہیں تو منفرد کے حق میں اس اضافہ کا نفل ہونابعید نہیں ، اگر ہم کلام مشائخ کو امام پر اور امام فخر الاسلام اور تصحیح ذخیرہ اور محیط کو منفردپر محمول کرلیں تو موافقت پیدا ہوجائے گی اورتوفیق دینے والا اﷲ ہی ہے اور یہ میرے نزدیك ہے ۔ اﷲ تعالٰی ہی خوب جاننے والا ہے

مسئلہ ١٢٣١ :       از اترولی ضلع علی گڑھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس ٨ جمادی الآخرہ ١٣٢٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے ساتھ اکیلا بعد التحیات کے سجدہ سہو کا ایك سلام بعد کرنا چاہئے یا کہ دونوں طرف سلام پھیر کے؟

الجواب :

ایك سلام کے بعد چاہئے ، دوسرا سلام پھیر نا منع ہے ، یہاں تك کہ اگر دونوں قصدًا پھیر دے گا سجدہ سہو نہ ہوسکے گا اور نماز پھیرنا واجب رہے گا۔ درمختار میں ہے :

یجب بعد سلام واحد عن یمینہ فقط وھو الاصح بحر وعلیہ لو اتی بتسلیمتین سقط عنہ السجود [2] الخ

فقط دائیں جانب سلام کے بعد واجب ہے اور یہی اصح ہے بحر۔ اور اگر سجدہ سہو لازم تھا اور اس نے دونوں طرف سلام پھیردیا تو سجود ساقط ہو جائیگا الخ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

وعلیہ فیجب ترك التسلیمۃ الثانیۃ [3] الخ۔  واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم

اگر سجدہ سہو لازم ہو تو دوسرے سلام کا ترك ضروری ہوتا ہے الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)

مسئلہ ١٢٣٢ :      مرسلہ حافظ عبداﷲ خاں موضع ٹھریا ضلع بریلی      ٢٩ جمادی الآخرہ ١٣٣٧ھ

نمازی کسی رکعت میں صرف الحمد پڑھے اور سہوًا سورت نہ ملائے اور پھر سہو کا سجدہ کرے تو نماز ہوجائیگی یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

جو سورت ملانا بھول گیا اگر اسے رکوع میں یاد آیا تو فورًا کھڑے ہوکر سورت پڑھے پھر رکوع دوبارہ کرے پھر نماز تمام کرے اور اگر رکوع كے بعد سجدہ میں یاد آیا تو صرف اخیر میں سجدہ سہو کرلے نماز ہوجائے گی اورپھیرنی نہ ہوگی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٣٣ : از تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ مولٰنا مولوی احمد بخش ساکن ڈیرہ غازی خاں مہتمم مدرسہ محمودہ محمودیہ ٢٤ ذیقعدہ ١٣٣٦ھ

سیّدی سندی اعتضادی وعلیہ اعتمادی البحرالبحر العلامۃ الفہامۃ الالمعی اللوذعی حضرت مجدد المائۃ الحاضرہ ادام اﷲ برکاتہم والقابہم الی یوم الدین آداب عجز و نیاز بے انداز بجا لاکر عرض کرتا ہوں کہ خاکسار کو ہر لحظہ عافیت مزاج شریف و قضائے حاجات ذات مستجمع الصفات اہم مأرب واعظم مطالب ہے ان ایّام میں ایك واقعہ پیش آیا جس میں بعض ابناء الزمان مخالف ہیں اور مفصل طور پر میری اس تحریر



[1]   حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی

   [2] درمختار باب سجود السہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /  ١٠١

[3]    ردالمحتار باب سجود السہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ /  ٧٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن