دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

وظھرہ بعد منحن فھو اقرب الی القیام وان لم یستو فہو اقرب الی القعود [1] وان استقام قائما لایعود وسجدہ للسھو فلو عادالی القعود لا تفسد لکنہ یکون مسیئا  [2] ای یاثم کما فی الفتح فلوکان اماما لا یعود معہ القوم تحقیقا للمخالفۃ ویلزمہ القیام للحال شرح المنیۃ عن القنیۃ [3]۔   ویسجد لتاخیر الواجب وھوا الحق بحر[4] اھ ملخصا۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔               

(پھر اسے یاد آیا تو اس کی طرف لوٹ آئے) اور تشہد پڑھے اور اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں (جب تك وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا) ظاہر مذہب کے مطابق ، اور یہی اصح ہے فتح ۔ یعنی سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے لوٹا حالانکہ قعود کے قریب تھا ، تو اب اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں ، اور اکثریت کی یہی رائے ہے ، اور اگر لوٹا لیکن قیام کے قریب تھا تو اس پر سجدہ سہو لازم ہو جائے گا جیسا کہ نورالایضاح اور شرح میں اسے بلااختلاف ذکر کیا ہے اور کافی کی اس عبارت کو فتح میں صحیح اعتبار کیا ہے کہ اگر نصف سیدھا مگر پشت ابھی ٹیڑھی تھی تو نمازی قیام کے قریب ، اور اگر برابر نہیں تو نمازی قعود کے قریب ہوگا ، اور اگر کھڑا ہوگیا نہ لوٹا تو سجدہ سہو کرے اور اگر اب بھی واپس لوٹ آتا ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی البتہ گناہگار ہوگا جیسا كہ فتح میں ہے اگر و ہ امام ہے اور کھڑا ہوکر واپس لوٹے تو مقتدی اس کی موافقت میں واپس نہ لوٹیں تاکہ مخالفت ظاہر کریں تو اس امام پر اس وقت قیام لازم ہے ، شرح المنیۃ میں قنیہ سے ہے  اورتاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ سہو کرنے اور یہی حق ہے بحر اھ تلخیصًا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ١٢٢٢ :       ٤ ربیع الآخر شریف ١٣١٤ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قعدہ اخیرہ کے بعد گمان ہو اکہ یہ قعدہ اولی تھا کھڑا ہو گیااور قبل سجدہ کے یاد آگیا تو اب عود کرکے دوبارہ التحیات پڑھ کر سجدہ سہو میں جائے یا ویسے سجدہ کو چلاجائے ؟ بینوا توجروا 

الجواب :

عود کرکے بیٹھنا چاہئے اور معًاسجدہ سہو میں چلاجائے دوبارہ التحیات نہ پڑھے۔

فی الدرالمختار وان قعد فی الرابعۃ مثلا قدر التشھد ثم قام عاد وسلم ولوسلم قائما صح [5]۔

درمختار میں ہے کہ اگر چوتھی رکعت میں مثلًا تشہد کی مقدار بیٹھ گیا پھر کھڑا ہوا تو لوٹ آئے اور سلام پھیر دے اگر کھڑے کھڑے سلام پھیردے تب بھی صحیح ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ ثم قام  ،  ای ولم یسجد قولہ عاد وسلم ای عاد للجلوس ،  وفیہ اشارۃ الی انہ لا یعید التشھد ،  وبہ صرح فی البحر ،  قال فی الامداد ،  والعود للتسلیم جالسا سنۃ لان السنۃ التسلیم جالسا  [6] الخ۔  ملخصًا واﷲ تعالٰی اعلم

ماتن کاقول “ پھر کھڑا ہوا “ یعنی پھر سجدہ نہ کیا ، ماتن کا قول “ لوٹے او ر سلام کہے “ یعنی بیٹھنے کے لئے لوٹے۔ پس اس میں اشارہ ہے کہ تشہد نہ لوٹائے۔ اور بحر میں اس کی تصریح ہے امداد میں ہے سلام بیٹھ کر پھیر نے کے لئے لوٹنا سنت ہے کیونکہ سنت یہی ہے کہ سلام بیٹھ کر پھیرا جائے ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٢٢٣ :      از شہر کہنہ بریلی ١١ جمادی الآخر ۱٣١٧ھ

چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ ترك آرد قعدہ اولٰی را لیکن باستادن نزدیك ترشد آں گاہ نشست بازباقی نماز گزارد دریں حال نماز او جائز است یا نے ؟ بینوا توجروا   

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ نمازی نے پہلا قعدہ ترك کردیا ، وہ سیدھا کھڑا ہونے کے قریب تھا وہاں سے لوٹ آیا اور باقی نماز ادا کی اس صورت میں نماز جائز ہوگی یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

ہر کہ در فرض یا وتر قعدہٕ اولٰی فراموش کردہ استادہ

جو شخص فرض یا وتر کا قعدہ اولٰی بھول کر کھڑا ہوجائے

تابتمام ایستادہ نشود بسوئے قعود رجو عش باید پس اگر ہنوز بقعود اقرب بود سجدہ سہو نیست و اگر بقیام نزدیك ترشدہ باشد سجدہ سہو لازم آید تانیمہ زیریں ازبدن انسان راست نشدہ است بہ نشستن نزدیك است وچوں ایں نصف راست شدوپشت ہنوز خمیدہ است با ستادن قریب است واگر بتمامہ راست ایستاد آنگاہ نشستن روا نیست اگر بقعدہ اولٰی بازمیگر د د گناہگار شود اما راجح آنست کہ نماز دریں صورت ہم از دست نرود وسجدہ سہو واجب شود۔

فی الدرالمختار سھا عن القعود الاول ولو عملیا ثم تذکرہ عادالیہ ولا سھو علیہ فی الاصح مالم یستقم قائما فی ظاھر المذھب وھوالاصح فتح وان استقام قائما لا یعود فلو عاد لاتفسد لکنہ یکون مسیئا ویسجد لتاخیر الواجب وھوالا شبہ کما حققہ الکمال وھوالحق بحر [7]اھ مختصرا وفی ردالمحتار قولہ ولا سھو علیہ فی الاصح یعنی اذاعادقبل ان یستقیم قائما وکان الی القعود اقرب فانہ لاسجود علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر اما اذا عاد و ھو الی القیام اقرب فعلیہ                                                

 



[1]    ردالمحتار باب سجود السہو مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٥٠

[2]    درمختار باب سجود السہو مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٢

[3]    ردالمحتار باب سجود السہو مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٥٠

[4]    درمختار باب سجود السہو مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٢

   [5] درمختار باب سجود السہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٢

[6]    ردمحتار باب سجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /  ٨٧

[7]    درمختار باب سجودالسہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٢

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن