30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعتراض کیا یہ بات خلیفہ بغداد کو پہنچی تو اس نے کہا وہ کتاب مجھے لاکر دو اگر اس کی عبارات اصول کے موافق ہیں تو ٹھیك ورنہ ہم اسے جلادیں گے اور علماء نے اعتراض حسدًا کیا تھا ، امام نے کتاب خلیفہ وقت کو دی اس نے جب اسے پڑھا تو بہت متعجب ہوا ، علماء کو طلب کیا اور کہا حسد سے بالاتر ہو کر دقّتِ نظر سے اس کا مطالعہ کرو ، جب انھوں نے اس کتاب کو پڑھا تو سب کہنے لگے کہ امام محمد نے بہت خوب کام کیا ہے اﷲ تعالٰی تا قیامت ان کو اجر عطا فرمائے ، پھر خلیفہ نے امام سے پوچھا ان مسائل کا استنباط کرتے وقت کونسی اصل آپ کے پیش نظر تھی ، تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ایوب ، حضرت یوسف علیہم السلام کے واقعات اور حیلہ ربا کی سنت اور حد سے انہیں مستنبط کیا ہے خلیفہ نے علماء سے کہا جو شخص حیلہ کا انکار کرتاہے اس نے تو قرآن ، حدیث اور اجماع کا انکار کیا تو اس پر تعزیر لازم ہے ۔ جب خلیفہ نے کتاب کا ایك ورق اٹھایا تو اس کی نظر حیلہ اسقاط پر پڑی ، امام نے کہا کہ حیلہ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وارث محتاج کو قابل قرأت قرآن بیچ دے پھر وہ فقیر اس وارث کو ہبہ کردے ، پھر اسی طرح مسلسل کیا جائے حتی کہ پورا ہوجائے شاید اﷲ تعالٰی اسے روزہ ، نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کا فدیہ بنادے۔ علما نے کہا کہ آپ نے بہت خوب بات فرمائی ہے اﷲ تعالٰی تمھاری عمر میں برکت دے پس اسے اپنی کتاب میں تحریر فرمادو اور یہ طریقہ خلیفہ کے دور میں مروج رہا الدر البرر للامام غزالی۔ شارح سمر قندی نے فرمایا ، ہمیں
حدثنا عباس بن سفیان عن ابن عتبہ عن ابن عوف عن محمد عن عبداﷲ قال قال عمر ایھاالمؤمنون اجعلوا القراٰن وسیلۃ لنجاۃ الموتی فتحلقوا وقولوا اللھم اغفرلھذا المیت بعزۃ القراٰن وتناولوا بایدیکم وفعل عمر فی اٰخر خلافتہ فی وفاۃ امرأۃ ملقبۃ الحبیبۃ بنت عربد زوجۃ ملاب لجزء من القراٰن فمالوا الی عمر ولم یشتھر فی خلافۃ عثمان ثم اشتھر فی خلافۃ ھارون الرشید من غیر انکار دوران القراٰن بحیلۃ الاسقاط فاصلہ ثابت عن عمر وھذا وان لم یذکر فی کتب المشھورۃ من الاحادیث ولکنہ مشھور فی بعض الکتب من التواریخ بسند قوی کما قال المورخ اللبیب صاحب الفتوح اخبرنا ابوعاصم عن ابن جریج عن ابن شھاب عن ابن سلمۃ عن ابن موسٰی قال فعل عمر دوران القراٰن لجزء منہ بحلقۃ عشرین رجلا بعد صلوٰۃ الجنازہ لامرأۃ ملقبہ بحبیبۃ بنت عربد زوجۃ ملاب لرجل من الانصار ما حفظنا اسمہ فانکار مطلقۃ الحیلۃ وعن حیلۃ الاسقاط فسق لانہ ثبت عن عمر ، اخبرنا سعید بن ایوب عن جمیع عن عبداﷲ بن ابی بکر انہ اوجد عمر بدورالقراٰن
عباس بن سفیان نے ابن عتبہ سے انہوں نے ابن عوف سے انہوں نے محمد انہوں نے عبداﷲ بن عمر سے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اے اہل ایمان! قرآن کو مردوں کی نجات کے لئے وسیلہ بناؤ اور حلقہ بناکر یوں عرض کرو اے اﷲ! اس میت کو عزّت قرآن کی برکت بخش دے اور اسے ایك دوسرے کے ہاتھ میں دو۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی خلافت کے آخری دور میں حبیبہ بنت عربد زوجہ ملاب کی وفات کے موقعہ پر قرآن کے ایك حصہ سے ایسا کیا ، لیکن یہ عمل خلافت عثمان میں مشہور نہ ہوا پھر ہارون الرشید کے زمانہ میں قرآن کا دور حیلہ اسقاط کے لئے بغیر کسی اعتراض کے مشہور ہوا تو اس حیلہ کی اصل حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ثابت اور یہ بات اگر چہ مشہور کتب احادیث میں نہیں لیکن کتب تاریخ میں سند قوی کے ساتھ مشہور ہے جیسا کہ عظیم مورّخ صاحب الفتوح نے بیان کیا کہ ہمیں ابو عاصم نے ابن جریج سے انہوں نے ابن شہاب ، انہوں نے ابن سلمہ ، انہوں نے ابن موسٰی سے بتایا کہ حضرت عمر نے بیس آدمیوں كے حلقہ میں قران كے ایك جز كو لیا دیا اور یہ اس خاتون كے جنازہ کے بعد کیا جو ملاب انصاری کی بیوی اور حبیبہ بنت عربد کے لقب سے مشہور تھی اس کا نام محفوظ نہیں ، تو مطلقًا حیلہ کا انکار کفر اور حیلہ اسقاط کا انکار فسق ہے کیونکہ یہ حضرت عمر سے ثابت ہے ، ہمیں سعید نے ایوب سے انہوں نے جمیع سے انہوں نے عبداﷲ بن ابی بکر سے بتایا کہ نماز جنازہ کے بعد قرآن کا دور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ
بعدصلوٰۃ الجنازہ انتھی فتاوی سمر قندی من عتبہ۔
تَعَالٰی عَنْہُ نے ایجاد کیا انتہی ، فتاوٰی سمرقندی میں عتبہ کے حوالے سے منقول ہے ۔ (ت)
نیز اس میں دورانِ قرآن کی نسبت حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف ہے وہ صحیح ہے یا نہیں اور اس کی سند کیسی ہے؟
الجواب :
امیرالمومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے سوا اور حضرات سے جو کچھ روایات بے سروپا اس عبارت میں مذکور ہیں سب باطل وافتراء ہیں ، نہ یہ عبارت فتاوٰی سمرقندیہ میں ہے اس پر بھی افترا ہے ، اور بے چارہ افتراء کرنے والا عربی عبارت بھی باقاعدہ نہ بنا سکا اپنی ٹوٹی پھوٹی جاہلانہ خرافات کو صحابہ وائمہ کی طرف منسوب کیا مسئلہ دور عامہ کتب متداولہ مذہب میں مصرح ہے خود مصحف شریف سے یا کسی مال سے مگر ہر بار کے دینے میں اتنا ہی مجرا ہوگا کہ بازاری نرخ سے وہ مصحف شریف جتنے ہدیہ کا ہے یہ جاہلانہ خیال کہ یہ توبے بہا ہے ایك ہی دفعہ میں اگلے پچھلے بلکہ سات پشت کے سب کفارے ادا ہوجائیں گے محض جاہلانہ خیال باطل ہے کما بیناہ فی فتاوٰنا بمالا مزید علیہ (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اتنی تفصیل سے بیان کیا ہے جس پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ت) فدیہ صلوٰۃ پر اگر چہ نصِ شارع علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم نہ آیا نص مجتہد مذہب ہے وکفی بہ حجۃ ( یہ دلیل کے لئے کافی ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
_______________
باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ١٢١٦ : ٧ ربیع الآخر ١٣٠٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص الحمد شریف پڑھ کر سوچتا رہا کہ کون سی سورت پڑھوں اور اس میں کچھ دیر لگ گئی تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :
اگر بقدر ادائے رکن ای مع سنتہ کما فی الغنیۃ( یعنی سنت کے مطابق جیسے غنیـہ میں ہے۔ ت) یعنی مثلاجتنی دیر میں تین بار سبحان اﷲ کہہ لیتا اتنے وقت تك سوچتا رہا تو سجدہ سہو لازم ہے ورنہ نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
التفکر الموجب للسھو مالزم منہ تاخیر الواجب اوالرکن عن محلہ بان قطع الاشتغال بالرکن اوالواجب قدر اداء رکن و ھوالاصح [1] اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع