دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

مسئلہ١٢١٤ :       از دھولقہ ضلع احمد آباد گجرات مسئولہ محمد یوسف صاحب                  ٢٢ ذی القعدہ ١٣٣٦ھ

بخدمت ہادی برحق مولینٰا مولوی احمد رضا خان صاحب دام برکاتہ گزارش یہ ہے کہ ہم قصبہ دھولقہ کے رہنے والے ہیں ہم لوگ بالکل سیدھے سادھے لوگ اورصرف راہ حق کے تلاش کرنے والے ہیں ، کسی فریق پارٹی سے ہمیں کوئی لگاؤ یا تعلق نہیں ، آپ کے حکم پر ہمیشہ گردن جھکانے کو تیار ہیں مگر ہم لوگوں اردو کی معمولی لیاقت کے اور علم نہیں ہے آپ کا ایك فتوی اول گجراتی کتاب میں چھپا ہے اور دوسری ایك تحریر مولوی علاء الدین صاحب پر آئی ہوئی چھپی ہے ، ان دونوں تحریروں کو سمجھنے کی ہم لوگ لیاقت نہیں رکھتے اس لئے خدمت والا میں عرض کرتے ہیں کہ ہمارے اس قصبہ میں چھبیس سیر گیہوں فی سیر ٨٠ روپیہ کے حساب سے اور نقد سوا روپیہ اور ایك کلام اﷲ شریف اتنی چیزوں کا حیلہ اس طرح کرتے ہیں کہ جنازہ کا امام کچھ پڑھتا ہے کیا پڑھتا ہے وہ ہمیں معلوم نہیں بعد پڑھنے کے حاضر فقیروں میں تین دور کرا دیتا ہے اور پھر وہ چیزیں امام وغیرہ بانٹ لیتے ہیں ، یہ حیلہ شریعت کے مطابق ہے اور جائز ہے یا نہیں صرف مختصر جواب اردو آسان لفظوں میں ہوگا تو بھی ہماری کافی تسلی ہوگی۔

الجواب :

امام جنازہ جو کچھ پڑھتا ہے اگر اس میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہو ( مثلًا یہ نہ ہو کہ اس میت کے گناہ ہم نے اپنے سر لئے یا اس کا عذاب و ثواب ہمارے اوپر کہ ایسا کہنا شریعت میں حرام ہے) اور وہ لوگ جن پر ان چیزوں کا دور کراتاہے ، فقیر محتاج زکوٰۃ لینے کے قابل ہوں تو اس چھبیس سیر گیہوں کی جو قیمت وہاں اس وقت بازار کے بھاؤ سے ہو اور اس مصحف شریف کا جو ہدیہ وہاں اس وقت ہو اور وہ سوا روپیہ ان کے مجموعہ کو ان دور والے محتاجوں مصرف زکوٰۃ کے سہ چند میں ضرب دینے سے جو حاصل ہو یہ مال جتنے نمازوں کا کفارہ ہو اس قدر کا ہوگیا اگر میت پر زیادہ کفارہ تھا تو باقی اس کے ذمہ پر رہا مثلًا وہ گیہوں تین روپے کے ہوں اور وہ مصحف پونے تین روپے ہدیہ کا ہو تو یہ اور وہ سوا روپیہ مل کر سات روپیہ کا مال ہوا اب اگر دور میں اس فقیر میں اور ان پر تین بار دور ہوا توگویا تیس۳۰ فقیروں کو سات سات روپے دئے گئے مجموع دو سو دس۲۱۰ روپے ہوئے ، میت پر نماز روزے وغیرہ کا مطالبہ اگر اس قدر یا اس سے کم تھا تو سب ادا ہوگیا اور زیادہ کا تھا تو جتنا زائد تھا باقی رہا مثلًا اس کے نماز روزوں کے حساب سے جتنے گیہوں کفارہ کے ہوتے ان کی قیمت وہاں سے وقت کے بھاؤ سے ہزار روپے تھی اور یہ دو سو دس۲۱۰ روپے ہوئے تو سات سو نو۷۰۹ روپے کا مطالبہ میت پر رہا اور اگر دور والوں میں بعض وہ ہوں کہ اگر چہ فقیر بنتے ہیں مگر مالدار ہیں حاجت اصلیہ کے علاوہ چھپن۵۶ روپے کے مال کے مالك ہیں تو ان کے شامل ہونے سے دور میں حرج نہ آئے گا فقط اتنا ہو گا کہ دور میں ان کا شمار نہ ہوگا مثلًا دس فقیروں پر دور کیا اور ان میں تین۳ غنی تھے سات ہی پر دور سمجھا جائے گا صورت مذکورہ میں تیس۳۰ فقیروں کی جگہ اکیس۲۱ ہی رکھے جائیں گے اور دو سو دس۲۱۰ رو پے کی جگہ ایك سو سنتالیس۱۴۷ روپے کا کفارہ ادا ہوگا ، ہاں اگر ان میں کوئی بھی محتاج نہ ہوا سب غنی تھے تو بیشك کفارہ بالکل ادا نہ ہوگا ، غرض یہ حیلہ یاتو بالکل کافی ہے جبکہ میت پر مطالبہ اسی قدر یا اس سے کم ہو ورنہ نافع ضرور ہے جبکہ ان دور والوں میں ایك بھی فقیر ہو کہ آخر کچھ نہ کچھ مطالبہ تو میّت پر سے کم ہوا ، ہاں جیسے بہت عوام دور ہی نہیں کرتے ایك مصحف شریف دے دیا اور سمجھ لئے کہ عمر بھر کا کفارہ ادا ہوگیا یہ محض مہمل وباطل ہے ، یونہی یہاں جب پورے مطالبہ کے قدر نہ تو اس سے بالکل ادا سمجھ لینا غلط و باطل ہے پھر بھی اس سے اس حیلہ کا جتنا فائدہ ہے زائل نہیں ہوتا ، بعض کو کل سمجھ لینا ان کی غلطی ہے جیسے کسی کے ہزار روپے زید پر قرض ہوں اور زید سو۱۰۰ روپے ادا کرے اور سمجھ لے کہ سب ادا ہوگیا تو یہ اس کی غلطی ہے مگر اس غلطی کے سبب وہ سو۱۰۰ روپیہ جو ادا کئے باطل نہ ہوجائیں گے وہ فائدہ اسے حاصل رہے گا کہ اب ١٠٠٠ ہزار کی جگہ ٩٠٠ نو سو کا مطالبہ اس پر رہا ، بہر حال اس میں فائدہ ضرور ہے مگر اس طرح کی کوئی خلاف شرع بات نہ کہی جاتی ہو ، جس کی مثال اوپر گزری ، بغیر اس کے اسے مطلقًا ناجائز بتانے والا محض غلطی پر ہے ، البتہ مسلمانوں کے مناسب یہ ہے کہ وہ طریقہ دور کا کریں جس سے میت پر سے باذنہٖ تعالٰی سب مطالبہ ادا ہوجائے اس کا بیان ہمارے فتوٰی میں مفصل موجود ہے اور اس پر یہ اعتراض کہ قرآن مجید کا صدقہ حرام بلکہ کفر ہے جہل وحماقت ہے ورنہ ۱ مسکین طالب علم کو قرآن مجید دینا حرام وکفر ہو ، اسے صدقہ کہہ کر نہ دے ہبہ رکہے جب بھی تو صدقہ ہی ہوگا جیسا کہ فقہاء تصریح فرماتے ہیں ۔ درمختار میں ہے :

الھبۃ للفقیر صدقۃ علی الغنی ھبۃ [1]۔

ہبہ فقیر کے لئے صدقہ اور صدقہ غنی کے لئے ہبہ ہوجاتا ہے ۔ (ت)

اور محقیقین کے نزدیك یہاں نفس قربت مؤ ثر وان کان الاثر اشد مع الا سقاط ( اگر چہ اثر اسقاط کے ساتھ اشد ہے ۔ ت) فتح القدیر میں ہے :

الذی نعقلہ ان کلامن التقرب و الاسقاط موثر [2]۔

ہم یہ سمجھے کہ تقرب اور اسقاط دونوں ہی مؤثر ہیں ۔ ( ت)

پھر۲ قرآن مجید وقف کرنے کا جواز کتب مذہب میں مصرح ہے ۔ درمختار میں ہے :

وفی الدرر وقف مصحفا علی اھل مسجد للقرأۃ ان یحصون جاز وان وقف علی المسجد جاز ویقرأ فیہ[3]۔

درر میں ہے اگر کسی نے برائے تلاوت اہل مسجد کے لئے قرآن وقف کیا تو وہ اسے محفوظ رکھیں تو جائز ہے اور اگر مسجد کے لئے وقف کیا تو بھی جائز ہے اور اس سے تلاوت بھی جائز ہوگی ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ ان یحصون جاز ھذ االشرط مبنی علی ما ذکرہ شمس ا لائمۃ من الضابط و ھو انہ اذا ذکر للوقف مصرفا لا بد ان یکون فیھم تنصیص علی الحاجۃ حقیقۃ کا لفقراء اواستعمالا بین الناس کا لیتا می والزمنی لان الغالب فیھم الفقر فیصح للاغنیاء والفقراء منھم ان کانو ایحصون والا فلفقرائھم فقط [4] ۔                                                

 



   [1] درمختار کتاب الھبۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ /  ١٦١

[2]    فتح القدیر نوریہ رضویہ سکھر

[3]    درمختار کتاب ا لوقف مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٣٨٠

[4]    ردالمحتار کتاب ا لوقف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ /  ٤١١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن