دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

(١) ایك شخص جس نے اپنی چالیس سال کی عمر تك باوجود مسلمان کہلانے کے نماز ر وزہ حج زکوٰۃ ادا نہ کی ہو یا کبھی کچھ کر لیا اور کبھی کچھ نہیں اور بعد ازاں وہ تائب ہوا اور تجدید ایمان کی اور کسی اہل اﷲ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ اس شخص کو بھی ان عبادات کا اعادہ فرض ہو گا یا تجدید ایمان کی کافی ہوگی کیونکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے تمام نقائص کو رفع کردیتا ہے اور کسی کبائر وغیرہ کا بھی وہ جواب دہ نہیں رہتا۔

(٢٢) اگر اس کی عمر ایس مدت تك پہنچ گئی ہے کہ وہ سب قضا نمازیں کھڑے ہوکر ادا نہیں کرسکتا تو بیٹھ کر ادا کرنے سے ادا ہو جائے گی یا نہیں ۔ ؟

الجواب :

(١) نماز روزہ و حج زکوٰۃ ادانہ کرنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا جتنے دنوں ادا نہ کرے گا اس کی قضا اس پر فرض رہے گی کا فر کا اسلام لانا اس کے اگلے کبائر کو محور کردیتا ہے ، مسلمان صرف تجدید اسلام سے اپنے گناہوں عہدہ برآنہیں ہوسکتا جب تك توبہ نہ کرے ، فرائض ترك کئے ہیں اس سے توبہ میں یہ بھی شرط ہے کہ ان کی قضا کرے صرف زبانی توبہ توبہ نہیں ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(٢) جب تك کھڑے ہونے کی طاقت ہے کھڑا ہونا فرض ہے اگر چہ لکڑی یا آدمی یا دیوار کے سہارے سے جتنی اس طور سے پڑھ سکے کھڑے ہو کر پڑھے ، جب تك تھك جائے تھم جائے ، اس طرح ادا میں اگر قصور کرے گا اور موت آگئی توامید ہے کہ مولی تعالٰی باقی نمازیں معاف فرمائے گا واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٢٠٩ : جس شخص نے نماز صبح نہ پڑھی ہو تو اس کی جمعہ اور عید کی نماز ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ واﷲ تعالٰی اعلم

الجواب :

عید کی نماز تو مطلقًا ہوجائے گی اور جمعہ کی بھی اگر صاحب ترتیب نہ ہو یعنی اس کے ذمہ پانچ نمازوں سے زیادہ قضا جمع ہوگئی ہوں اگر چہ ادا کرتے کرتے اب کم باقی ہوں ، اگر صاحب ترتیب ہے تو جب تك صبح کی نماز نہ پڑھ لے جمعہ نہ ہوگا اگر صبح کی نماز اسے یاد ہے اور وقت اتنا تنگ ہوگیا کہ صبح کی نماز پڑھے تو ظہر کا وقت ہی نکل جائے اور یہ جمعہ میں ہونا متوقع نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢١٠ :       از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاکخانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ عبدالغنی صاحب          ٢٠ شوال١٣١٧ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اس پر کفارہ صوم وصلوٰۃ کا واجب تھا بسبب غربت کے ، حیات میں ادانہ کیا ، اب اس کے وارثوں نے قرض لے کر اس کی جانب سے ایك قرآن شریف ہدیہ مسکین کو دے دیا اس صورت میں کفارہ مذکورہ ذمہ زید سے ساقط ہوایا نہیں ۔ بینوا توجروا

الجواب :

بازار کے بھاؤ سے وہ نسخہ مصحف شریف جس قیمت کا تھا بقدر اس کے کفارہ ادا ہونے کی امید ہے مثلًا دو روپیہ ہدیہ کا تھا تو دو روپے کے گیہو جتنے کفارے کو کافی ہوں وہی ادا ہوسکتا ہے باقی نماز روزے زید کے ذمے بدستور رہے ، قرآن مجیدبیشك بے بہاہے اس کے ایك کلمے ایك حرف کی برابر ساتوں آسماں وزمین اور جو کچھ ان میں ہے برابر نہیں ہوسکتے ، مگر ان امور میں اعتبار مالیت کا ہے ، قرآن عظیم مال نہیں ۔ ہاں یہ کاغذ و جلد جو متضمن نقوش ہیں یہ مال انھیں کی قیمت ملحوظ ہوگی و بس ، ورنہی یوں تو جس پر دس کروڑ روپے کسی کے قرض آتے ہوں ایك کلمہ اﷲ پر چہ پر لکھ کردے دے اور دین سے ادا ہو کر بے شمار اس کا اس پر فاضل رہے وھذا کلہ ظاھر جدا ( اوریہ سارا اچھی طرح واضح ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم 

مسئلہ ١٢١١ :                    ٢٩ ذیقعدہ١٣١٧ھ

کیا فرما تے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص مرگیا اس نے عمر بھر نماز نہ پڑھی یا کبھی پڑھی اس کی عمر ستر پچھتر برس کی ہوئی کفارہ نماز کے بہت سے گیہوں یا جوَ ہوں گے اور اس قدر مال نہیں تو اس کے ادا ہونے کا کیا طریقہ ہے ؟ بینوا توجروا

الجواب :

اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلًا بارہ برس ادنٰی مدت بلوغ کی نکال کر ساٹھ برس کی نمازیں اس کے ذمہ تھیں سال کے دن تین سو پچپن ہیں تو ایك سال کی نمازوں کے فدیے دوہزار ایك سوتیس ہوئے اور ساٹھ برس کے ایك لاکھ ستائیس ہزار آٹھ سو ایك نماز کا فدیہ گیہوں سے نصف صاع یعنی بریلی کی تول سے ایك سیر سات چٹھانك دو ماشےساڑہے چہہ رتی اور انگریزی سیر سے کہ اسی روپیہ بھر کا ہے پونے دوسیر اور پون چٹھانك اور بیسواں حصہ چھٹانك کا یعنی ایك سیرتیرہ چھٹانك پانچواں حصہ چھٹانك کا کم اس مقدار كو ٢١٣٠ میں ضرب دیں تو سال بھر کی نمازوں کا کفارہ ہو اور ١٢٧٨٠٠ میں ضرب دیں تو ساٹھ سال کا ، یہ تقریبًا پونے پانچ ہزار من گیہوں ہوئے اس قدر دینے کی طاقت نہی ں تو جتنے کی قدرت ہو اس قدر فقیر کو دے کر مالك کردے قبضہ دلا دیں پھر فقیر اپنی طرف سے انھیں ہبہ کردے یہ پھر دوبارہ نیت کفارہ اسے دے کر قبضہ دلادیں وہ پھر انھیں ہبہ کردے یہ سہ بارہ ایسا ہی کریں یہاں تك کہ یہ الٹ پھیر اس مقدار کو پہنچ جائے جتنے بڑی مقدار سے دور کریں گے جلد ختم ہوگا دور کے لئے یہ بھی کرسکتے ہیں کہ کسی سے مثلًا سوروپیہ کی تھیلی قرض لے کر وہ کفارے میں فقیر کو دیں اور یوں ہی الٹ پھیر کریں کہ روپے سے دو ر آسان ہوگا ، اخیر میں فقیر کو کچھ دے کر راضی کریں ۔ فتاوٰی بزازیہ میں ہے :

ان لم یکن لہ مال یستقرض نصف صاع ویعطیہ المسکین علی الوارث ثم الوارث علی المسکین ثم وثم حتی یتم لکل صلوٰۃ نصف صاع کما ذکرنا[1] اھ وتفصیل الکلام فی فتاوٰنا۔  واﷲ تعالٰی اعلم

اگر میت کا مال نہیں تو نصف صاع قرض لے کر مسکین کو دیا جائے پھر وہ مسکین اسے وارث پر صدقہ کرتے جائیں یہاں تك کہ ہر نماز عوض نصف صاع ہوجائے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ ۔ اور تفصیلی گفتگو ہمارے فتاوٰی میں ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢١٢ :       کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا انتقال ہوا اور اس کی نمازیں و روزہ قضا ہیں  اس کے ورثا ان کافطرہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس مقام پر آبادی اہل ہنود رعیت ومسلمان رعیت وسادات کی ہے جوبوجہ قحط سال انتہا درجہ کے محتاج ہیں اور ذو القربٰی اورہمسایہ بھی احتیاج رکھتے ہیں تو اس فطرہ کو ان سب پر تقسیم کر نا جائز یا نا جائز ، اور دینا اولٰی اس میں سے کس گروہ کو ہے ، متوفی کی سکونت سے دور مقامات میں طلباء دین کو دینا اولٰی ہے یا مذکورین سابقین جو اسی آبادی میں اور قرب وجوار میں محتاج ہیں اور ایك نماز و روزہ کے فطرہ کو پورا ایك شخص کو دینا جائز ہے یا اس



[1]    فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش الفتاوی الہندیۃ التاسع عشرفی الفوائت مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ /  ٦٩

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن