30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث زید کے الفاظ اسے اسی طرح ادا کرے جیسے وقتی ادا کرتا ہے “ بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں ، ہاں طبرانی نے اوسط اور بہیقی نے سنن میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرفوعًا روایت کیا ہے کہ جو نماز بھول گیا اس کا وقت وہی ہے جب اسے یاد ائے
لیکن امام بیہقی نے اس کے ضعیف ہونے کی تصریح کردی ہے تو یہ روایت دلیل كیسے بن سکتی ہے ، بلکہ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو اجماع کو توڑ نہیں سکتی ، علاوہ ازیں اس کی تاویل کرنا درست ہے کہ جب نماز یاد آ ۤئی ہے تو اس سے اس کی ادائیگی کاا سی طرح مطالبہ ہے جیسے کہ اس کے وقت میں تھا۔ (ت)
وقت میں قضا کا لفظ کہنے کی تو کوئی حاجت اس میں بھی نہیں جبکہ جیتے جاگتے قصدًا معاذ اﷲ قضا کردی ہو بلکہ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ قضا بہ نیت ادا اور ادا بہ نیت قضا دونوں صحیح ہیں مگر اس سے ممانعت کی کوئی وجہ نہیں جبکہ وہ یقینا قضا ہے تو قضا کہنے میں کیا مضائقہ رکھا ہے ، رہا ادا کا ثواب ملنا یہ اﷲ عزوجل کے اختیار میں ہے اگر وہ جانے گا کہ اس نے اپنی جانب سے کوئی تقصیر نہ کی صبح تك جاگنے کے قصہ سے بیٹھا تھا اور بے اختیار آنکھ لگ گئی تو ضرور اس پر گنا ہ نہیں رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
اما انہ لیس فی النوم تفریط انما التفریط علی من لم یصلی الصلوٰۃ حتی یجئ وقت الصلوٰۃ الاخری[1] ۔ رواہ مسلم عن
سو جانے کی وجہ سے نماز رہ گئی تو گناہ نہیں لیکن جس شخص نے جان بوجھ کر نماز نہ پڑھی حتی کہ دوسری نماز کا وقت آگیا تو یقینا گنہ گار ہوگا ۔ اسے مسلم نے حضرت ابو قتادہ
ابی قتادۃرضی اﷲ تعالٰی عنہ وللنسانی وا لترمذی وصححہ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلفظ انہ لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ [2]۔
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔ نسائی اور ترمذی نے اسی صحابی سے ان الفاظ میں روایت کی ہے سو جانے کی صورت میں گناہ نہیں البتہ بیداری میں گناہ ہے۔ (ت)
اور جب اس کی جانب سے کوئی تقصیر نہیں تو امید یہی ہے کہ ثواب نماز کامل عطاہو مگر اس سے وہ نماز قضا سے خارج نہ ہو جائے گی ثواب کا مدار نیت پر ہے ، بے کئے ثواب محض نیت پر مل جاتاہے ۔ صحیح حدیث میں ارشاد ہے کہ جو نماز کے قصد پر چلا اور جماعت ہو چکی جماعت کا ثواب پائے گالیکن اس سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ جماعت فوت نہ ہوئی وھذ اظاھر جدا ( یہ بلکل واضح ہے ۔ ت ) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٠٥ : از نجیب اباد ضلع بجنور محلہ مجید گنج مرسلہ کریم بخش صاحب ٹھکیدار ١٧ جمادی الاول ١٣٣١ھ
قضا نماز کی جماعت ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ تنہا پڑھنا افضل ہے یا باجماعت ؟ اور مسجد میں یا مکان پر ؟ اگر جماعت ہوسکتی ہے تو صبح و عشا و مغرب کی نماز خاموش پڑھنا چاہیئے یا با آواز ؟ اور ہر ایك قضا عین وقت ہی پر پڑھی جائے مثلًا عشاء کی عشاء کے وقت اور ظہر کی ظہر کے وقت علی ہذالقیاس یا حتی الامکان جلد بلا تعین وقت؟
الجواب :
اگر کسی امر عام کی وجہ سے جماعت بھر کی نماز قضا ہوگئی تو جماعت سے پڑھیں ، یہی افضل ومسنون ہے اور مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں ، اور جہر ی نمازوں میں امام پر جہر واجب ہے اگر چہ قضا ہو۔ اور اگر بوجہ خاص بعض اشخاص کی نماز جاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اظہار بھی معصیت ہے قضا حتی الامکان جلد ہو ، تعیین وقت کچھ نہیں ایك وقت میں سب وقتوں کی پڑھ سکتا ہے ، درمختار میں ہے :
یکرہ قضاء ھا فیہ ( ای فی المسجد) لان التاخیر معصیۃ فلا یظھر ھا ۔ بزازیۃ [3]۔
مسجد میں نماز کی قضا مکروہ ہے کیونکہ تاخیر معصیت ہے جس کا اظہار نہیں ہونا چاہئے ، بزازیہ ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وفی الامداد انہ اذاکان التفویت الامر عام فالاذان فی المسجد لایکرہ لانتفاء العلۃ
امداد میں ہے جب نماز کا فوت ہونا کسی عام امر کی وجہ سے ہو تو اب مسجد میں قضا کے لئے اذان مکروہ نہیں
کفعلہ صلی اﷲ تعلایی علیہ وسلم لیلۃ التعریس [4]۔
کیونکہ وہ علت معدوم ہے جیسے کہ سرور علام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لیلۃ التعریس میں کیا تھا ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یجھر الامام وجو با فی الفجر و او لی العشائین اداء وقضاء [5] واﷲ تعالٰی اعلم
امام فجر اور مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعات میں جہرًا قرأت کرے خواہ نماز ادا پڑھائے یا قضا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٢٠٦ : از نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ امانت علی شاہ ١٧ رمضان ١٣٣١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کی بہت نمازیں قضا ہوگئی ہیں یا اس نے دیر سے نماز شروع کی تو اس کو کیا کرنا چاہئے کہ اس کی پچھلی نمازیں پوری ہو جائیں ؟
الجواب :
ان نمازوں کی قضا کرے جس قدر روز پڑھ سکے اسی قدر بہتر ہے مثلًا دس دن کی روز پڑھے یا آٹھ کی یا سات کی اور چاہے ایك وقت میں پڑھے یا متفرق اوقات میں ، اور ہر بار یوں نیت کرے کہ سب میں پہلی وہ نماز مجھ سے قضا ہوئی ، جب ایك پڑھ لی پھر یوں نیت کرے یعنی اب جو باقیوں میں پہلی ہے ، اخیر تك اتنی پڑھے کہ اب اس پر قضا باقی رہنے کا گمان نہ رہے ، قضا ہر روز کی صرف بیس رکعت ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٢٠۷و ١٢٠۸ : دبیر انجمن نعمانیہ لاہور ١٤ محرم ١٣٣٩ھ
[1] صحیح مسلم کتاب المساجد باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ مطبوعہ نور محمد اصح لمطابع کراچی ١ / ٢٣٩
[2] سنن النسائی کتاب المواقیت فیمن نام عن صلوٰۃ مطبوعہ المکتبہ السلفیہ لاہور ١ / ٧١ ، جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ ماجاء فی النوم عن الصلوٰۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٢٥
[3] درمختار باب الاذان ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٩
[5] درمحتار فصل ویجہرالامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٩
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع