30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور قضا ہوجانے کے یہی معنی ہیں کہ شرعًا جو وقت مقرر فرمایا گیا تھا وہ جاتارہے ، رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اللصلوٰۃ اولا واخرا و ان اول وقت الفجر حین یطلع الفجر و ان اخر وقتھا
بیشك ہر نماز کے لئے اول واخر ہے اور بیشك نماز صبح کا اول وقت طلوع فجر کے وقت ہے اور اس کا
حین تطلع الشمس[1]۔ رواہ الترمذی والامام الطحاوی بسند صحیح عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ مطولا وھذا مختصر ،
آخر طلوع شمس پر ہے ، اسے امام ترمذی اور امام طحاوی نے بسند صحیح اعمش سے انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے تفصیلًا روایت کیا ہے اور یہ مختصر ہے
امام طحاوی فرماتے ہیں :
ھذا اتفاق المسلمین ان اول وقت الفجر حین تطلع الفجر واٰخر وقتھا حین تطلع الشمس[2] ۔ اما ما ذکر فی بعض کتب الفقۃ مرفوعا من نام عن صلوۃ اونسیھا فلیصلھا اذااذکرھا فان ذلك وقتھا فاقول : الحدیث فی الصحیحین بلفظ من نسی صلوٰۃ فلیصلھا اذ اذکرھا لاکفارۃ لھا الا ذلك[3] اخرجاہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، وفی لفظ لمسلم عنہ من نسی صلوۃ او نام عنھا فکفارتھا ان یصلھا اذاذکرھا [4]وفی اٰخر لہ انہ فلیصلھا اذاذکرھا فان اﷲ عزو جل یقول اقم الصلوۃ لذکری [5] ولہ عن ابی قتادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلفظ فلیصلھا
یعنی اس پر تمام مسلمانوں کا اجمع ہے کہ نماز صبح کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور طلوع شمس پر جاتا رہتا ہے۔ جو بعض کتب فقہ میں مرفوعًا روایت مروی ہے کہ جو شخص نماز سے سوگیا اسے بھول گیا تو وہ جب یاد آجائے اسی وقت نماز ادا کرے کیونکہ یہی اس کا وقت ہے ۔ فاقول : (میں کہتا ہوں ) اس حدیث کو بخاری ومسلم نے حضرت انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جو نماز بھول گیا وہ یاد آنے پر ادا کرے اس نماز کا کفارہ سوائے اس کے کچھ نہیں
مسلم شریف میں انہی سے یہ روایت ان الفاظ میں ہے جو شخص نماز ادا کرنا بھول گیا یا سو گیا نماز رہ گئی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے اسے ادا کرے ۔ مسلم کی دوسری روایت جو اسی صحابی سے مروی ہے یہ الفاظ ہیں کہ جب نماز
حین ینتبہ لھا فاذاکان الغد فلیصلہا عند وقتھا[6] ولہ کالستۃ الا البخاری والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا خر الفاظہ عن انس رضی اﷲ تعالیی عنہ وللتر مذی وصححہٖ والنسائی فی حدیث ابی قتادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فلیصلھا اذا ذکرھا [7] ومثلہ لابی یعلی والطبرانی فی الکبیر عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ونحوہ لھذا فی الاوسط عن ابی سعید الخدری رضٰی اﷲ تعالٰی عنہ ولمالك فی موطاہ عن زید بن اسلم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا رقد احد کم عن الصلوٰۃ اونسیھا ثم فزع الیھا فلیصلھا کما کان یصلیھا لوقتھا [8] وللطبرانی عن میمونۃ بنت سعد رضی اﷲ تعالٰی عنھا اذا ذکرھا فلیصلھا ولیحسن صلٰوتہ ولیتوضا فلیحسن وضوئہ فذلك کفارتہ [9] و لیس فی شی من ذلك “ فان ذلك وقتھا “ بل قد ارشد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
یاد آئے تو اسے ادا کر ے کیونکہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے نماز میری یاد کے لئے قائم کرو۔ اور مسلم نے حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ الفاظ روایت کئے ہیں کہ وہ شخص جب بیدار ہو تو ادا کرے اور جب دوسرا دن آئے تو اسے وقت پر ادا کرے ۔ بخاری کے سوا صحاح ستہ میں ایسے ہی ہے ۔ ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حدیث کے آخر ی الفاظ اس طرح نقل کئے ہیں جو حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بھی مروی ہیں ، ترمذی اور نسائی میں حضرت ابو قتاوہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث میں ہے ، پس اسے پڑھ لے جب اسے یاد ائے ، ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ابویعلی اور المعجم الکبیر للطبرانی میں یہ حدیث امام ابی حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اسی کی مثل مروی ہے ، اسی طرح اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اور امام مالك کے موطا میں زید بن اسلم سے مروی ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز سے سو جائے یا ا سے بھو ل جائے پھر اسے نماز کے ( قضا) ہونے کا خوف لاحق ہوا تو اسے اسی طرح ادا رکہے جس طرح وقتی نماز
فی حدیث ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بقولہ فاذاکان الغد فلیصلھا عند وقتھا ان الذی یصلی الیوم لیس لوقتہ والیہ یومی حدیث زید فلیصلھا کما کان یصلیھا لوقتھا نعم للطبرانی فی الاسط و البیھقی فی السنن من نسی صلوٰۃ فوقتھا اذا ذکرھا[10] وقد نص البیھقی علی تضعیفہ فانی تقوم بہ الحجۃ بل ولئن صح لم یقادح الاجماع علی انہ یقبل التاویل ای انہ یطالب بھا الان کما یطالب بہا فی وقتھا۔
ادا کرتاہے۔ طبرانی میں حضرت میمونہ بنت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ جب اسے یاد آئے ادا کرے اور اچھی طرح وضو کرے پس یہی اس کاکفارہ ہے ۔ ان تمام روایات میں یہ الفاظ کہ “ یہی اس کا وقت ہے “ ہرگز نہیں ہیں بلکہ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حدیث ابو قتادہ کے الفاظ “ دوسرے دن کی نماز اپنے وقت پر ادا کرے “ کے ذریعے یہ رہنمائی عطا فرمائی ہے کہ آج اس نے جو نماز پڑھی وہ وقت پر نہ تھی
[1] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب منہ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٢٢
[2] شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ١٠٣
[3] صحیح البخاری باب من نسی صلوٰۃ فلیصل اذاذکر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٤ ، صحیح مسلم باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٢٤١
[4] صحیح مسلم ، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ ، نور محمد اصح المطابع کراچی ، ١ / ٢٤١
[5] صحیح مسلم ، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ ، نور محمد اصح المطابع کراچی ، ١ / ٢٤١
[6] صحیح مسلم کتاب المساجد باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٢٣٩
[7] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی النوم عن الصلوٰۃ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٢٥ ، سنن النسائی کتاب المواقیت فیمن نام عن صلوٰۃ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ١ / ٧١
[8] موطا امام مالك کتاب وقوت الصلوٰۃ باب النوم عن الصلوٰۃ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ١٠
[9] المعجم الکبیر مروی ازمیمونہ بنت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا مطبوعہ المکتبۃ بیروت ٢٥ / ٣٥
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع