30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقتدائے قاضی عصر امروز بقاضی عصر دیرروز نارواست زیر اكہ اتحاد نماز شرط صحت اقتدا ست وہمچناں اقتدائے مفترض بمتنفل نیز کہ زنہار درست نباشدپس بدیں صورتہاذمہ از نماز فارغ نشود۔ فی نور الایضاح وشرحہ مراقی الفلاح
انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔ علامہ قاری علیہ رحمۃ الباری موضوعات کبیر میں کہتے ہیں : حدیث “ جس نے رمضان کے آخری جمعہ میں ایك فرض نماز ادا کرلی اس سے اس کی ستر سال کی فوت شدہ نمازوں کا ازالہ ہوجاتا ہے “ یقینی طور پر باطل ہے کیونکہ اس اجماع کے مخالف ہے کہ عبادات میں سے کوئی شئی سابقہ سالوں کی فوت شدہ عبادات کے قائم مقام نہیں ہوسکتی الخ ، امام ابن حجر کی تحفہ شرح منہاج للامام النووی میں پھر علامہ زرقانی شرح مواہب امام قسطلانی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی میں فرماتے ہیں : اس سے بھی بدتر وہ طریقہ ہے جو بعض شہروں میں ایجاد کر لیا گیا ہے کہ جمعہ کے بعد پانچ نمازیں اس گمان سے ادا کرلی جائیں کہ اس سے سال یا سابقہ تمام عمر کی نمازوں کا کفارہ ہے اور یہ عمل ایسی وجوہ کی بنا پر حرام ہے جو نہایت ہی واضح ہیں ۔ باقی آج کی عصر قضا کرنے والے کی اقتداء میں کل کی عصر قضا کرنے والا نماز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ اقتداء کے لئے نماز کاایك ہونا شرط ہے اور اسی طرح فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کرنا ہر گز درست نہیں لہٰذا اس صورت میں نمازوں کا ذمہ ساقط نہیں ہوگا۔ نورالایضاح اور اس کی شرحہ مراقی الفلاح میں
شرط صحۃ الاقتداء ان لایکون الا مام مصلیا فرضا غیرفرض الماموم کظھر وعصر وظھر ین من یومین[1] اھ ملخصا وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار لا مفترض بمتنفل ومفترض فرضا آخر کمصلی ظھر أ مس بمصلی ظھر الیوم ، لان اتحاد الصلوتین شرط [2] انتھت ملخصۃ واﷲ تعالٰی اعلم
ہے اقتدا کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے فرائض الگ الگ نہ ہوں مثلًا ایك ظہر اور دوسرا عصر یا دونوں دو٢ دنوں کی ظہر ادا کر رہے ہوں (تو پھر اقتداء جائز نہ ہوگی ) تلخیصا ، تنویر الابصار ، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ فرض ادا کرنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتدا نہیں کرسکتا اسی طرح ایك اور فرض پڑھنے والا ہے دوسرا دوسرے فرض والا ہے ان کا ایك دوسرے کی اقتداء کرنا بھی جائز نہیں مثلًا کل کی ظہر پڑھنے والے کی آج کی ظہر پڑھنے والا اقتدا کرے کیونکہ دونوں کی نمازوں کا ایك ہونا شرط ہے انتہت تلخیصًا واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۲۰۲ : کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس پر قضا نماز زیادہ ہوں وہ ان کی نیت کیونکر کرے اور قضا میں کیا کیا نماز پھیری جاتی ہے اور جس کے ذمہ قضائیں بہت کثیر ہیں جن کی ادا سخت دشوار ہے تو آیا اس کے لئے کوئی تخفیف نکل سکتی ہے جس سے ادا میں آسانی ہوجائے کہ ادا میں جلدی منظور ہے کہ موت کا وقت معلوم نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
قضا ہر روز کی نماز کی فقط بیس رکعتوں کی ہوتی ہے دو فرض فجر کے ، چارظہر ، چار عصر ، تین مغرب ، چار عشاء کے تین وتر۔ اور قضا میں یوں نیت کرنی ضرور ہے کہ نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا پہلی ظہر جو مجھ سے قضا ہوئی ، اسی طرح ہمیشہ ہر نماز میں کیا کرے اور جس پر قضا نماز میں بہت کثرت سے ہیں وہ آسانی کے لئے اگریوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع اور ہر سجدہ میں تین تین بار سبحان ربی العظیم ، سبحان ربی الاعلی کی جگہ صرف ایك بار کہے ، مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہئے کہ جب آدمی رکوع میں پورا پہنچ جائے اس وقت سبحان کا سین شروع کرے اور جب عظیم کا میم ختم کرے اس وقت رکوع سے سر اٹھائے اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اس وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کرلے اس وقت سجدہ سے سر اٹھائے۔ بہت سے لوگ جو رکوع سجدہ میں آتے جاتے یہ تسبیح پڑھتے ہیں بہت غلطی کرتے ہیں ایك تخفیف کثرت قضا والوں کی یہ ہوسکتی ہے ، دوسری تخفیف یہ کہ فرضوں کی تیسر ی ور چوتھی رکعت میں الحمد شریف کی جگہ سبحان اﷲ ، سبحان اﷲ ، سبحان اﷲ تین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں مگر وہی خیال یہاں بھی ضرور ہے کہ سیدھے کھڑے ہو کر سبحان اﷲ شروع کریں اور سبحان اﷲ پورے کھڑے کھڑے کہہ کر رکوع کے لئے سر جھکائیں ، یہ تخفیف فقط فرضوں کی تیسری چوتھی رکعت میں ہے وتروں کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورت دونوں ضرور پڑھی جائیں ، تیسری تخفیف پہلی التحیات کے بعد دونوں درودوں اور دعا کی جگہ صرف اللھم صلی علی محمد والہ کہہ کر سلام پھیردیں چوتھی تخفیف وتروں کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ اﷲ اکبر کہہ کر فقط ایك یا تین بار رب اغفر لی کہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٠٣ : از مولوی عبد اﷲ صاحب مدرس منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ٩ صفر ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ قضائے عمری نماز ادا کرنے کی حالت میں جو نفل ہر وقت کی نماز میں پڑھے جاتے ہیں وہ قبول ہوں گے یا نہیں ؟
الجواب :
خالی نفلوں کی جگہ بھی قضائے عمری پڑھے ، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٠٤ : کتاب ترکیب الصلوٰۃ میں لکھا ہے کہ ایك شخص تین بجے رات سے جاگتا رہا اور وقت نماز صبح صادق سوگیا اورآفتاب نکل آیا تو وہ وقت کی نماز پڑھے ثواب اس کو ادا کا ملے گا وقت میں قضا کا لفظ نہ کہے۔
الجواب :
اس نماز کے قضا ہوجانے میں شك نہیں کہ نماز کے لئے شرعا اوقات معین ہیں ،
قال اﷲ تعالٰی اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳) [3]
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : بیشك نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع