دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

الجواب :

جب فجر کے فرض پڑھ لئے توآفتاب بلند ہونے سے پہلے سنتیں پڑھنے کی اجازت نہیں اگر چہ فجر کا ابھی ایك گھنٹا وقت باقی ہو ، ہاں بعدبلندیآفتاب پڑھے اور جس کے فرض وسنت دونوں فوت ہوئے ہوں وہ طلوع کے بعد استواء سے پہلے فرض وسنت دونوں کی قضا کرے ، اور اگر یہ وقت بھی گزر گیا بعد زوال فرضوں کی قضا پڑھے تو اب سنتوں کی قضا نہیں والمسائل مبسوطۃ فی الدر وغیر عامۃ الاسفار الالغر ( ان مسائل کی تفصیل در اور دیگر کتب مبارکہ میں ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٠٠ :       از ملك بنگال ضلع نواکھالی ڈاکخانہ چندراگنج موضع ودالیا مرسلہ محمد ابراہیم   ٦ شوال ١٣٢٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص عمر بھر نماز کبھی نہیں پڑھی اب یہ شخص مرگیاتو اس وقت اس کی قضائے عمری کی کیا صورت ہے اس کا اگر کوئی تدارك ہوسکے تو کیا ہے؟ بینوا توجروا

اگر وقت بلوغ معلوم نہ ہو تو مرد کے لئے اس عمر سے بارہ برس اور عورت کے لئے ٩ برس کم کریں اور باقی تمام برسوں کے دن کرکے ہردن کی نماز کے لئے آٹھ سو دس تولے گیہوں کہ سو روپے بھر کے سیر سے کچھ کم نو سیر ہوئے یا سولہ سو بیس تولہ جوَ یاان کی قیمت ادا کریں کل کے ادا کی طاقت نہ ہو توجس قدر پر قدرت ہو محتاج کو دے کر قابض کردیں محتاج اپنی طرف سے پھر ان کو ہبہ کردے یہ قبضہ کرکے پھر کفارہ میں محتاج کودیں وہ بعد قبضہ پھر ان کو ہبہ کردے ، یہ پھر قبضہ کرکے کفارہ میں دیں یونہی دورکرتے رہیں یہاں تك کہ اداہوجائے۔ عورت کی عادت حیض اگر معلوم ہو تو اس قدر دن اور نہ معلوم ہو تو ہر مہینے سے تین دن نو برس کی عمر سے پچاس برس کی عمر تك مستثنٰی کریں مگر جتنی بار حمل رہا ہو مدت حمل کے مہینوں سے ایام حیض کا استثناء نہ کریں عورت کی عادت دربارہ نفاس اگر معلوم ہو تو ہر حمل کے بعد اتنے دن مستثنٰی کرے اور نہ معلوم ہو تو کچھ نہیں کہ نفاس کے لئے جانب اقل میں شرعًا کچھ تقدیر نہیں ممکن ہے کہ ایك ہی منٹ آکر فورًا پاك ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٠١ : از اوجین علاقہ گوالیار مکان میر خام علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خان رمضان المبارك ١٣٠٧ھ

چہ می فرمایند علمائے محقق دین ومفتیان مدقق پابند شرع متین دریں مسئلہ کہ اکثر عوام الناس درآخرر جمعہ رمضان المبارك نماز قضائے عمری پنجوقتہ متخلف امام می خوانند درست است یا ممنوع زیرا کہ نماز قضا بدون ادا ساقط و دورنمی شوداگرکسے بروز جمعہ آخری رمضاب شریف قضائے نماز تمام عمر بہ نیت قضائے عمری بخواہد کہ اداشود تعجب ست انتہی و نیز صورت نماز قضائے روز متفرقہ چیست یعنی        

علمائے دین ومفتیان شرع میتن اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ رمضان المبارك کے آخری جمعہ میں عوام الناس امام کی اقتداء میں پانچ وقتی نماز قضا عمری پڑھتے ہیں یہ درست ہے یا ممنوع؟ کیونکہ قضا نماز جب تك ادا نہ کی جائے ساقط نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی شخص رمضان کے آخری جمعہ کو تمام عمر کی قضا نمازوں کی نیت سے قضا عمری پڑھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام عمر کی نمازیں ساقط ہوجائیں گی اس پر قضائے عصریکے روز سہ شنبہ ونماز قضائے عصر دوم چہارشنبہ اگر ایں ہر دومردم نماز قضائے عصر جداگانہ بجماعت ادا نماز ینددرست ست یا منع چراکہ نماز ہر دومردم روز یکے نیست علاوہ بریں امام صاحب ترتیب ست و مقتدیان ازیں خوبی عاری پس چنیں امام قضائے یقینی مقتدیان کہ اکثر قضائے نماز ذمہ اوست فارغ الذمہ میشوند یا حکم آں چہ ۔ اعنی پس ادا کنندہ نفل نماز فرض بچہ طور ادامی شودبشرح بسیط بیان فرمایند بحوالہ عبارت کتب رحمۃ ﷲ علیکم اجمعین۔       

تعجب ہے انتہی ، مختلف دنوں کی نمازوں کی قضاء کی صورت کیا ہے؟ مثلًاایك آدمی کی منگل کی عصر اور دوسرے کی بدھ کی عصر قضا ہوگئی ہے اگر دونوں عصر کی قضا آپس میں باجماعت ادا کرتے ہیں تو یہ درست ہے یا ممنوع ؟ کیونکہ دونوں کی نماز ایك دن کی نہیں ۔ علاوہ ازیں امام صاحب ترتیب ہے لیکن مقتدی صاحب ترتیب نہیں اس طرح کے امام کے پیچھے مقتدیوں کی قضا نمازیں ساقط ہوجائینگی یا ان کا حکم کیا ہے یعنی نفل ادا کرنے سے فرض کس طرح ساقط ہوسکتے ہیں ؟ عبارت کتب کے حوالہ جات سے تفصیلًا بیان فرمائیں تم پر اﷲ کی رحمت ہو۔ (ت)

الجواب :

ایں طریقہ کہ بہر تکفیر صلوات فائتہ احداث کردہ اند بدعت شنیعہ دردین نہادہ اند حدثیش موضوع و فعلش ممنوع وایں نیت واعتقاد باطل ومدفوع ، اجماع مسلمین بربطلان ایں جہالت شنیعہ وضلالت فظیعہ قائم ست حضور پر نور سید المرسلین   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرمودہ اند : من نسی صلوٰۃ فلیصلہا اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذلک[1]ہر کہ نمازے فراموش کردچوں یادآید آں نماز بازگزا ردجزایں مر اورا کفارہ نیست اخرجہ احمد والبخاری ومسلم واللفظ لہ والتر مذی        

فوت شدہ نمازوں کے کفارہ کے طور پر یہ جو طریقہ ( قضائے عمری) ایجاد کرلیا گیا ہے یہ بد ترین بدعت ہے اس بارے میں جو روایت ہے وہ موضوع ( گھڑی ہوئی) ہے یہ عمل سخت ممنوع ہے ، ایسی نیت و اعتقاد باطل و مردود ، اس جہالت قبیحہ اور واضح گمراہی کے بطلان پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ، حضور پر نور سید المرسلین   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا رشاد گرامی ہے : جو شخص نماز بھول گیا تو جب اسے یاد آئے اسے ادا کرلے ، اس کا کفارہ سوائے اس کی ادائیگی کے کچھ نہیں اسے امام احمد ، بخاری ، مسلم ( مذکورہ الفاظ بھی اس کے ہیں ) ترمذی ، نسائی اور دیگر محدثین نے حضرت والنسائی وغیر ھم عن انس بن مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ۔  علامہ علی قاری رحمۃ الباری در موضوعاتِ کبیر گوید :

حدیث “ من قضی صلوٰۃ من الفرائض فی اخر جمعۃ من رمضان کان ذلك جابرا لکل صلوٰۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ “ باطل قطعا لانہ مناقض للاجماع علی ان شیأ من العبادات لاتقوم مقام فائتۃ سنوات [2]الخ امام ابن حجر مکی درتحفہ شرح منہاج الامام النووی باز علامہ زرقانی درشرح مواہب امام قسطلانی   رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  فرمایند :

اقبح من ذلك مااعتید فی بعض البلاد من صلوٰۃ الخمس فی ھذہ الجمعۃ عقب صلٰوتھا زاعمین انھا تکفر صلٰوۃ العام اوالعمر المتروکۃ و ذلك حرام لوجوہ لا تخفی [3]۔

 



[1]    صحیح البخاری کتاب موقیت الصلوٰۃ باب من نسی صلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٨٤ ، صحیح مسلم باب قضاء الصلوٰۃ الفائتہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ /  ٢٤١

  [2] الاسرار الموضوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث ٩٥٣ مطبوعہ دارالکتب العربیۃ بیروت ص ٢٤٢

[3]   شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ واما حفیظۃ رمضان دارالمعرفۃ بیروت ٧ /  ١١٠

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن