30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوّلًا : اس کی سند منقطع ہے خود امام ترمذی نے بعد روایت حدیث فرمایا :
اسناد ھذا الحدیث لیس بمتصل محمد بن ابراھیم التیمی لم یسمع من قیس[1]۔
اس حدیث کی سند متصل نہیں کیونکہ محمد بن ابراہیم التیمی نے حضرت قیس سے سماع نہیں کیا۔ (ت)
ثانیا : خود سعد بن سعید پر اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ، بعض نے صحابی کو ذکر ہی نہ کیا ، جامع ترمذی میں ہے :
وروی بعضھم ھذا الحدیث عن سعد بن سعید عن محمد بن ابراھیم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خرج فرأی[2] قیسا۔
بعض نے یہ حدیث اس سند سے بیان کی ہے سعد بن سعید ، محمد بن ابراہیم سے کہ بنی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اور قیس کو دیکھا ۔ (ت)
ثالثًا : عامہ رواۃ نے اسے مرسلًا روایت کیا خود انھیں سعید کے دونوں بہائی عبد ربہ بن سعید و یحیٰی بن سعید کہ دونوں سعد سے اوثق واحفظ ہیں مرسلًا روایت کرتے جامع ترمذی میں ہے : انما یروی ھذا الحدیث مرسلًا [3]۔ ( یہ حدیث مرسلًا مروی ہے ۔ ت) سنن ابی داؤد میں ہے :
روی عبد ر بہ و یحیی ابنا سعید ھذا الحدیث مرسلاان جدھم عــــہ زید ا صلی مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[4]۔
سعید کے بیٹے عبدربہ اور یحیٰی دونوں نے اس حدیث کو مرسلًا روایت کیا کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نماز ادا کی ۔ (ت)
رابعًا : مدار اس روایت کا سعد بن سعید پر ہے جامع ترمذی میں ہے :
حدیث محمد بن ابرھیم لانعرفہ مثل ھذا الامن حدیث سعد بن سعید[5] ۔
ہم محمد بن ابرہیم سے مروی اس حدیث کو سعد بن سعیدکے علاوہ کسی سے نہیں جانتے ۔ (ت)
اور سعد باوصف توثیق مقال سے خالی نہیں ، ان کا حافظہ ناقص تھا ، امام احمد نے انھیں ضعیف کہا ، امام نسائی نے فرمایا قوی نہیں ، امام ترمذی نے فرمایا تکلموافیہ من قبل حفظہ [6]یعنی ائمہ حدیث نے ان سعد میں ان کے حافظہ کی طرف سے کلام فرمایا ۔ لاجرم تقریب میں ہے : صدوق سئ الحفظ [7] آدمی سچے ہیں حافظہ براہے ۔
عــــہ وقع فی نسخ السنن الثلث التی عندی ان جدھم زید وھو مشکل فان جد یحیٰی قیس لازید وقد انکرہ الحافظ فی الاصابۃ فقال بعد ذکر الروایۃ ھکذا قرأت١٢١٢منہ (م)
میرے پاس تینوں سنن کے نسخوں میں یہ ہے کہ ان کے جد کا نام زید ہے لیکن یہ محل اشکال ہے کیو نکہ یحیٰی کے جد کا نام قیس ہے زید نہیں ۔ حافظ ابن حجر نے اصابہ میں اس کا انکار کیا اورروایت ذکر کرنے کے بعد کہا میں نے اسی طرح پڑھا ہے ١٢ منہ (ت)
ان وجوہ کی نظر سے یہ حدیث واحد خود ان احادیث صحیحہ کثیرہ کے مقابل نہ ہو سکتی خصوصًا اس حالت میں كہ وہ مثبت ممانعت ہیں اور یہ ناقل اجازت ، اور قاعدہ مسلمہ ہے کہ جب دلائل حلت وحرمت متعارض ہوں حرمت وممانعت کو ترجیح دی جائے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٩٨ : ٤ صفر١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنن اربعہ جو بروز جمعہ قبل از خطبہ پڑھی جاتی ہیں اگر وہ کسی عذر سے ترك ہوجائیں تو بعد خطبہ اور فرضوں کے ان کی ادا ہے یا نہیں ؟بینوا بحوالۃ الکتاب وتوجروا عند اﷲ الوھاب
الجواب :
ہے اور سنتوں ہی کی نیت کرے وہ سنت ہی واقع ہوں گی ،
فی الدرالمختار بخلاف سنہ الظھر وکذا الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا ویقتدی ، ثم یأتی بھا علی انھا سنۃ فی وقتہ ای الظھر [8]۔
درمختار میں ہے کہ بخلاف ظہر کی سنتوں کے او ر اسی طرح جمعہ کی سنتوں کے اگر ایك رکعت کے فوت ہونے کا خطرہ ہے تو سنتیں چھوڑ کر امام کی اقتداء کرے پھر ان کو وقت ظہر میں ادا کرے۔ (ت)
ہاں اگر وقت ظہر نکل گیا توا ب قضا نہیں لما قد منا ( جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے ۔ ت) واﷲ تعا لٰی اعلم
مسئلہ ١١٩٩ : ٢٨ ربیع الآخر ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فرض فجر کی جماعت سے پڑھے اور سنت اس کی فوت ہوئیں بوجہ ادائے فرض کے اب ان سنتوں کو بعد ادائے فرض پڑھے یا بعد طلوع آفتاب اور وقت بھی ادائے سنت کا باقی ہو اور کسی کے فرض وسنت دونوں فوت ہوئے ہوں تو ان سنت وفرض کو بعد طلوع آفتاب کے پڑھے اور سنت کی قضا کس وقت تك چاہئے؟
[1] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجا فی من تفوتہ الرکعتان الخ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٥٧
[2] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجا فی من تفوتہ الرکعتان الخ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٥٧
[3] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی من تفوتہ الرکعتان الخ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ، ١ / ٥
[4] سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب من فاتتہ متی یقضیہا مطبوعہ آفتابعالم پریس لاہور ١ / ١٨٠
[5] جامع الترمذی ابواب ماجاء فی من تفوتہ الرکعتان الخ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٥٧
[6] تہذیب التہذیب ترجمعہ سعد بن سعید نمبر ٨٧٦مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن ہند ٣ / ٤٧١
[7] تقریب التہذیب ترجمعہ سعد بن سعید نمبر ٢٢٤٤ حرف السین المہملۃ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١ / ٣٤٣
[8] درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع