دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

صبح کے سورج کے بلند ہونے تك نماز نہیں اور عصر کے بعد غروب آفتاب تك نماز نہیں ۔ (ت)

صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے :

ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن الصلوٰۃ بعد العصر حتی تغرب الشمس وعن الصلوٰۃ بعد الصبح حتی تطلع الشمس[1]۔

نبی کریم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے عصر کے بعد غروبآفتابتك اور صبح کے بعد طلوع آفتابتك نماز سے منع فرمایا ہے ۔ (ت)

علما فرماتے ہیں اس مضمون کی حدیثیں رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   سے متواتر ہیں ذکرہ المناوی فی التیسیر فی شرح الجامع الصغیر (اسے امام مناوی نے التیسیرفی شرح الجامع الصغیر میں ذکر کیا ہے ۔ ت)درمختار میں ہے :

کرہ نفل قصدا و لو تحیۃ مسجد وکل ماکان واجب لغیرہ کمنذور ورکعتی طواف والذی شرع فیہ ثم افسدہ ولوسنۃ فجر بعدصلوٰۃ فجر و عصر[2] اھ ملخصًا

نماز فجر اور عصر کے بعد وہ تمام نوافل ادا کرنے مکروہ ہیں جو قصدًا ہوں اگر چہ تحیۃ المسجد ہوں ، اور ہر وہ نماز جو غیر کی وجہ سے لازم ہو مثلًا نذر اور طواف کے نوافل اور ہر نفل نماز جس میں شروع ہوا پھر اسے توڑ ڈالا اگر چہ وہ فجر اور عصر کی سنتیں ہی کیو ں ہوں اہ ملخصًا (ت)

ردالمحتار میں ہے :

الکراھۃ ھنا تحریمیۃ ایضا کما صرح بہ فی الحلیۃ ولذا عبرفی الخانیۃ و

یہ کراہت تحریمہ ہے جیسا کہ اس کی تصریح حلیہ میں ہے ، اسی لئے خانیہ اور خلاصہ میں عدم جواز سے تعبیر کیا گیا

الخلاصۃ بعدم الجوازوالمراد عدم الحل[3]۔

اور اس سے مراد یہ ہے کہ حلال نہیں ۔ (ت)

امام احمد وترمذی وحاکم بسند صحیح حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

من لم یصل رکعتی الفجر فلیصلھا بعد ماتطلع الشمس[4]۔   قال الحاکم صحیح و اقرہ الذھبی فی التلخیص۔

جس نے صبح کی سنت نہ پڑھی ہوں وہ بعد طلوعآفتابپڑھے امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قراردیا اور امام ذہبی نے تلخیص میں اس کی صحت کو برقرار رکھا ۔ (ت)

رہی حدیث ابوداؤد :

حدثنا عثمٰن بن ابی شیبۃ نا ابن نمیر عن سعد بن سعید ثنی محمد بن ابراھیم عن قیس بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال رأی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رجلا صلی بعد صلوٰۃ الصبح رکعتیں فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلوٰۃ الصبح رکعتان فقال الرجل انی لم اکن صلیت الرکعتین اللتین قبلھما فصلیتھما الان  ،  فسکت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[5]۔  و رواہ ابن ماجۃ حد ثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثنا عبداﷲ بن نمیر الخ سندا و متنا نحوہ غیر انہ قال قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الصلوٰۃ الصبح مرتین[6]۔                     

عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن نمیر نے سعد بن سعید سے کہ محمد بن ابراہیم نے قیس بن عمرو   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ایك شخص کو بعد صلوٰۃ صبح دو رکعتیں پڑھتے دیکھا فرمایا صبح کی دو ہی رکعتیں ہیں ؟ اس شخص نے عرض کی سنتیں میں نے نہ پڑھی تھیں وہ اب پڑھ لیں ، اس پر نبی اکر م   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سکوت فرمایا۔ اسے ابن ماجہ نے سندًا و متنًا روایت کیا ہے اور کہا ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے عبداﷲ بن نمیر سے بیان کیا الخ البتہ ان الفاظ کے علاوہ کہ رسالتماب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : کیا صبح کی نماز دو دفعہ ہے؟ (ت)

اور اسی حدیث میں ترمذی کی روایت یوں ہے :

حد ثنا محمد بن عمر و السواق نا عبدالعزیز بن محمد عن سعد بن سعید عن محمد بن ابرھیم عن جدہ قیس قال خرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فا قیمت الصلوٰہ فصلیت معہ الصبح ثم انصرف النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فوجدنی اصلی فقال مہلا یاقیس اصلاتان معا ،  قلت یارسول اﷲ انی لم اکن رکعت رکعتی الفجر قال فلا اذا [7]۔                     

محمد بن عمر والسواق نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن محمد نے سعد بن سعید سے ، انھوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت قیس سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   تشریف لائے جماعت کے لئے تکبیر کہی گئی میں نے آپ کی اقتدا میں نماز صبح ادا کی ، پھر رسالتمآب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے چہرہ اقدس پھیرا تو آپ نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے پایا ، فرمایا : اے قیس ! ٹھر جا ، کیا دو نمازیں اکٹھی ہوگئی ہیں ؟ عرض کیا : یا رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں فجر کی سنتیں ادا نہیں کرسکا۔ فرمایا تو اب حرج نہیں ۔ (ت)

جس میں بیان ہے کہ وہ شخص خود یہی قیس تھے ان کا وہ عذر سن کر نبی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا تو اب حرج نہیں یہ حدیث ان احادیث جلیلہ صحیحہ کے مقابل لانے کے قابل نہیں ،

 



[1]    صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ بعد الفجر باب الصلوٰۃ بعد الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٨٢ و٨٣

[2]    درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٦١

   [3] درالمحتار کتاب الصلوٰۃ ، مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١ /  ٢٧٦

[4]    جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی اعادتہا بعد طلوع الشمس مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ /  ٥٧

[5]    سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب من فاتتہ متی یقضیہا ، مطبوعہ آفتابعالم پریس لاہور ١ /  ١٨٠

[6]    سنن ابن ماجہ ، باب فی ماجاء فیمن فاتتہ الرکعتان الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٨٢

   [7] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجا فی من تفوتہ الرکعتان الخ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ /  ٥٧

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن