30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں اس شخص سے وہ سنن مستحبہ ادا نہ ہوں گی جو عشا سے پہلے پڑھی جاتی تھیں بلکہ ایك نفل نماز مستحب ہوگی جیسے تراویح وسنت مغرب و دو۲ سنت عشا کہ ان کی قضا نہیں ، پھر اگر کوئیآجکی فوت شدہ تراویح کل پڑھے تو نفل ہوں گے نہ سنن و تراویح نہ شرعًا مکروہ و قبیح ۔ علامہ امین الدین محمد ردالمحتار میں انہی سنن عشا کی نسبت فرماتے ہیں :
لو قضا ھا لاتکون مکروھۃ بل تقع نفلا مستحبا لا علی انھاھی التی فاتت عن محلہا کما قالوہ فی سنۃ التراویح [1]۔
اگر انھیں قضا کرلیا جائے تو کراہت نہیں بلکہ نفل مستحبہ ہوجائیں گی اور یہ اپنے محل سے فوت ہونے والی نماز نہیں بلکہ (یہ نئی نماز ہوگی) جیسا کہ فقہاء نے تراویح کے بارے میں فرمایا ہے۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار کی مبحث تراویح میں ہے :
لا تقضی اذافاتت اصلا ولا وحدہ فی الاصح فان قضاھا کانت نفلا مستحبا ولیس بتراویح کسنۃ مغرب و عشا [2]۔
جب تراویح فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں نہ جماعت سے نہ اکیلے ، اصح قول کے مطابق ۔ اور اگر کوئی قضا کرلیتا ہے تو نفل مستحب بن جائیں گی اور یہ نماز تراویح نہ ہوگی جیسا کہ مغرب و عشا کی سنتوں کا حکم ہے۔ (ت)
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) تحقیق مقام و تنفیح مرام یہ ہے کہ حقیقۃ قضانہیں مگر فرض یا واجب کی ،
الاداء فی محل اداء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم داخل فی مطلق السنۃ فما ادی فی غیر المحل لا یکون سنۃ فلا یکون قضاء اذا القضاء مثل الفائت بل عینہ عندالمحققین نعم ما عین لہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم محلا بعد فوتہ فیقع سنۃ فیکون قضاء حقیقۃ ،
حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی ادائیگی کے محل میں ادا مطلق سنت میں شامل ہے لہذا جو اس کے علاوہ وقت میں ادا ہوں گے وہ سنت ہی نہیں ہوں گے لہذا قضا کہاں ! کیونکہ قضاء فوت شدہ کی مثل بلکہ محققین علماء کے ہاں عین نماز ہوتی ہے ، ہاں فوت ہونے کے بعد جس کا وقت خود رسالتمآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے معین فرمادیا وہ ادائیگی سنت ہوگی اور قضا بھی حقیقی ہوگی ۔ (ت)
باقی نوافل وسنن اگرچہ موکدہ ہوں مستحق قضا نہیں کہ شرعًا لازم ہی نہ تھی جو بعد فوت ذمہ پرباقی ر ہیں ،
فی الھدایۃ الاصل فی السنۃ ان لاتقضی الاختصاص القضاء بالواجب [3] اھ وتمام تحقیقہ فی الفتح ۔
ہدایہ میں ہے سنت میں اصل یہ ہے کہ اس کی قضا نہیں کیونکہ قضا واجب کے ساتھ مخصوص ہے اھ اور اس پر تمام گفتگو فتح میں ہے ۔ (ت)
مگر بعض جگہ بر خلاف قیاس نص وارد ہوگیا وہی سنتیں جو ایك محل میں ادا کی جاتی تھیں بعد فوت دوسری جگہ ادا فرمائی گئیں جیسے فجر کی ستنیں جبکہ فرض کے ساتھ فوت ہوں بشرطیکہ بعد بلندیآفتابوقبل از زوال ادا کی جائیں یا ظہر کی پہلی چار سنتیں جو فرض سے پہلے نہ پڑھی ہو تو بعد فرض بلکہ مذہب ارجح پر بعد سنت بعد یہ کے پڑھیں بشرطیکہ ہنوز وقت ظہر باقی ہو نص علی کل ذلك فی غیر ما کتاب کردالمحتار( اس پر متعدد کتب مثلًا ردالمحتار میں تصریح ہے ۔ ت) ان شرائط کےساتھ جب یہ دونوں سنتیں بعد فوت پڑھی جائیں گی تو بعنیہا وہی سنتیں ادا ہوں گی جو فوت ہوئی تھیں اور ان کے سوا اور فوت شدہ سنتیں یا یہی سنتیں بے مراعات ان شرائط کے پڑھی جائیں گی تو صرف نفل ہوں گی نہ سنت فائۃ۔ بالجملہ جو یہ کہے کہ ان کی قضا کا حکم ہے وہ خطا پر ہے اور جو کہے ان کی قضا ممنوع ہے وہ بھی غلطی پر ہے اور جوکہے ان کی قضا نہیں مگر بعد کو پڑھ لے تو کچھ حرج نہیں وہ حق پر ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٩٧ : مسؤلہ حافظ مولوی عبدالوحید صاحب ٢٩ جمادی الاولٰی ۱۳۱۸ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ صبح کی سنتیں قضا قبل طلوع شمس کے پڑھنا بہتر ہے اور عمر کہتا ہے بعد کو بہتر ہے اول حدیث پر عمل کرنا چاہئے ، اور عمر کہتا ہے دوسری حدیث پر عمل کرنا چاہئے ۔ بینوا توجروا
الجواب :
اگر صبح کی نماز اور سنتیں بسبب خوف جماعت خواہ کسی اور وجہ سے رہ گئیں تو ان کی قضا اگر کرے تو بعد بلندآفتابپڑھے قبل طلوع نہ صرف خلاف اولٰی بلکہ ناجائز و گناہ وممنوع ہے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیر ہما صحاح وسنن ومسانید میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الصلوٰۃ بعد الصبح حتی تطلع الشمس وبعد العصر حتی
رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے طلوع سحر کے بعد طلوع آفتاب تك اور عصر کے بعد غروب آفتاب تك نماز سے
تغرب[4]۔
منع کیا ہے ۔ (ت)
صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہمامیں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
لاصلوٰۃ بعد الصبح حتی تر تفع الشمس ولابعد العصر حتی تغرب الشمس [5] ۔
[1] ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفےٰ البابی مصر ١ / ٥٣١
[2] درمحتار باب الوتر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٨
[3] الہدایۃ باب ادراك الفریضہ مطبوعہ المکتبہ العربیہ دستگیر کالونی کراچی ١ / ۱۳۳
[4] صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ بعد الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٢
[5] صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلوة باب لاتتحرالصلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع