30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، زید پر نہ ان ١٥ دن کی قضا میں ترتیب ضرور تھی نہ ان پانچ دن کی قضا میں ضرور ہے اسے اختیا ر ہے ان میں جو نماز چاہے پہلے ادا کرے جو چاہے پیچھے کہ قضا نمازیں جب پانچ فرضوں سے زائد ہوجاتی ہں ترتیب ساقط ہوجاتی ہے یعنی باہم ان میں بھی ہر ایك کی تقدیم وتاخیر کا اختیار ہوتا ہے اور ان میں اور وقتی نماز میں بھی رعایت ترتیب کی حاجت نہیں رہتی پھر ان نمازوں کے حق میں ترتیب نہ باہمی نہ بلحاظ وقتی کوئی کبھی عود نہیں کرتی اگر چہ ادا کرتے کرتے چھ سے کم رہ جائیں مثلًا اب اسی صورت میں زید پر پانچ دن کی پچیس نمازیں ہیں جب دو ہی رہ جائیں گی تو بھی اسے اختیار ہے کہ اس کی ادا سے پہلے وقتیہ نماز پڑھ لے ، ہاں اصح مذہب پر اتنا لحاظ ضرور ہے کہ نماز نیت میں معین مشخص ہو جائے ھوا لاحوط من تصحیحین( دونوں تصحیحوں میں احوط یہ ہے ۔ ت) مثلًا دس ١٠ فجریں قضا ہیں تو یوں گول نیت نہ کرے کہ فجر کی نماز کہ اس پر ایك فجر تو نہیں جو اسی قدر بس ہو بلکہ تعیین کرے کہ فلاں تاریخ کی فجر ، مگر یہ کیسے یاد رہتا ہے اور ہو بھی تو اس کا خیال حرج سے خالی نہیں لہٰذا اس کی سہل تدبیر یہ نیت ہے کہ پہلی فجر جس کی قضا مجھ پر ہے ، جب ایك پڑھ چکے پھر یوں ہی پہلی فجر کی نیت کرے کہ ایك تو پڑھ لی اس کی قضا اس پر نہ رہی نو ٩کی ہے اب ان میں کی پہلی نیت میں آئے گی یونہی اخیر تك نیت کی جائے ، اسی طرح باقی سب نمازوں میں کہے اور جس سے ترتیب ساقط ہو ، جیسے یہی دس یا چھ فجر کی قضا والا پہلی کی جگہ پچھلی بھی کہہ سکتا ہے نیچے سے اوپر کو ادا ہوتی چلی جائے گی ، ردالمحتار میں ہے :
لایلزم الترتیب بین الفائتۃ والوقتیۃ ولابین الفوائت اذا کانت الفوائت ستاکذا فی النھر [1]۔
جب فوت شدہ نمازیں چھ ہوجائیں تو فوت شدہ نمازوں کے درمیان اور فوت شدہ اور وقتی نمازوں کے درمیاں ترتیب لازم نہیں رہتی ، جیسا کہ نہر میں ہے (ت)
درمختار میں ہے :
ولایعود لزوم الترتیب بعد سقوطہ بکثرتھا ، ای الفوائت بعود الفوائت الی القلۃ بسبب القضاء لبعضھا علی المعتمد ، لان الساقط لا یعود [2]۔
اکثر فوت شدہ نمازوں کو قضا کرلینے پر ترتیب لوٹ نہیں آتی یعنی اگر فوت شدہ نمازیں کثیر تھیں ان میں سے اکثر قضا کرلیں اور باقی تھوڑی رہ گئیں تو معتمد قول کے مطابق ترتیب نہیں لوٹتی ، کیونکہ ساقط لوٹ کر نہیں آتا۔ (ت)
اسی میں ہے :
یعین ظھر یوم کذاعلی المعتمد والا سھل نیتہ اول ظھر علیہ اواخر ظھر[3] الخ وتمامہ فی رد المحتار ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
معتمد قول کے مطابق اس بات کا تعین کیا جائے کہ فلاں دن کی ظہر ہے ، اور سب سے آسان یہ ہے کہ اول ظہر یا آخر ظہر کی نیت کرلی جائے۔ اس کی تمام تفصیل ردالمحتار میں ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ١١٩٣ : ٢٩ صفر ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی سنتیں بعد جماعت فرض کے مسبوق ادا کرے ، درست ہے یانہیں ؟ بینوا تواجروا
الجواب :
سنت فجر کہ تنہا فوت ہوئیں یعنی فرض پڑھ لئے سنیتں رہ گئیں ان کی قضا کرے تو بعد بلندی آفتاب پیش از نصف النہار شرعی کرے ، طلوع شمس سے پہلے ان کی قضا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك ممنوع ومکروہ ہے ۔
لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاصلوٰۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس[4]۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان مبارك ہے “ صبح کے بعد سورج کے بلند ہونے تك نماز نہیں “ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ (ت)
مسئلہ١١٩٤ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ صبح کی نماز بوقت خطبہ کے جائز ہے ، اور عمروکہتا ہے بوقت خطبہ کے جائز نہیں اس واسطے کہ حدیث شریف میں وارد ہے لا صلوٰۃ و لاکلام (اس وقت نہ نماز ہے نہ گفتگو ۔ ت) ان دونوں میں کون حق پر ہے اور کون مطابق حدیث شریف کے عمل کرتا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
جو صاحب ترتیب نہیں اسے قضانماز بھی خطبہ کے وقت ادا کرنی جائز نہیں کہ بعد کو بھی پڑھ سکتا ہے اور صاحب ترتیب کو وقتی نماز سے پہلے قضا کا ادا کرنا ضرور ، ورنہ وقتی بھی نہ ہوگی ، ایسے شخص نے اگر ابھی قضائے فجر ادا نہ کی اور خطبہ شروع ہوگیا تو اسے قضا پڑھنے سے ممانعت نہیں بلکہ ضرور و لازم ہے ورنہ جمعہ بھی نہ ہوگا ، ہاں بلاعذر شرعی اتنی دیر لگانی کہ خاص خطبہ کے وقت پڑھنی پڑے اسے بھی جائز نہیں ۔
لتادیہ الی ترك الاستماع وھوفی نفسہ محظور و کل ماادی الی محظور محظور۔
کیونکہ اس میں خطبہ کا عدم سماع لازم آرہا ہے جو فی نفسہٖ ممنوع ہے اور ہر وہ شیئ جو ممنوع تك پہنچائے ممنوع ہوتی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع