30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاحکام فرمایدقولہ وان کانت سنۃ الجمعۃ یسلم علی راس الرکعتین ، اقول : الصحیح خلافہ وھو انہ یتم سنۃ الجمعۃ اربعا ، وعلیہ الفتوی کما فی الصغیری ، وھو الصحیحح کما فی البحر عن الو لوالجیۃ والمبتغی لانھا بمنزلۃ صلوۃ واحدۃ واجبۃ اھ[1] ٩امام ظہیر الدین مرغینانی در ظہیریۃ فرمود ھوا لصحیح[2]امام ظہیرالدین مرغینانی ظہیریہ میں فرماتے ہیں یہی صحیح ہے کما فی١٠ القھستانی والغنیۃ شرح المنیۃ من الاوقات المکروھۃ و ١١ ہمچناں در سراج وہاج ست[3]جیسا کہ قہستانی اور غنیہ شرح منیہ کے اوقات مکروہہ میں ہے اسی طرح سراج وہاج میں ہے کما فی١٢ الھندیۃ١٣امام سرخسی فرماید ھو
مہر کامل لازم نہ ہوگا ۔ یہ تمام گفتگو امام علامہ زیلعی کی تبیین حقائق شرح کنز الدقائق میں ہے۔ عام مشائخ نے اسی قول کو ترجیح اور اسی کی تصحیح پر تصریح کی ہے۔ ١امام ولوالجی ، صاحب ٢ مبتغی ، صاحب٣ محیط اور ٤علامہ شمنی فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی چار رکعات پوری کرے ، جیسا کہ بحرکے ادراك الفریضہ میں ہے ، خود ٥ علامہ زین بحرمیں اس عبارت کو نقل کرنےكے بعد لکھتے ہیں ظاہر یہی ہے جس کی تصحیح مشائخ نے فرمائی ہے کیونکہ اس میں کوئی شك نہیں کہ دورکعات کے بعد سلام وصف سنیت کے ابطال کے لئے ہے نہ کہ ان کے اکمال کے لئے ، اور پیچھے گزر چکا ہے کہ یہ جائز نہیں الخ ، ان کے بھائی۶ علامہ عمر بن نجیم نے نہر میں اسی کو ثابت رکھا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے ، فتاوٰی صغرٰی میں فرمایا “ فتوٰی اسی پر ہے٨ “ علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام کے جمعہ میں فرمایا ماتن کا قولاگر نماز جمعہ کی سنتیں ادا کر رہا ہے تو دو رکعتوں پر سلام پھیرلے میں کہتا ہوں کہ صحیح اس کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ جمعہ کی چار رکعتیں ادا کرے اسی پر فتوی ہے جیسا کہ صغرٰی میں ہے اور یہی صحیح ہے
الاصح [4] کمافیھا ایضا علامہ غزی١٤ در متن تنویر الابصار فرمود علی الراجح علامہ ١٥ دمشق در در مختار تقریر ش کرد و گفت خلافا لما رجحہ الکمال[5] و در جمعۃ تبعا للبحر فر مود یتم فی الاصح [6] در مجمع ١٦ الانہر گفت صححہ اکثر المشائخ [7]ھم در آنست الصحیح انہ یتم [8] تا آنکہ محرر مذہب حضرت امام ١٧محمد ظاھر الروایۃ ست بایں معنی ایما فرمود ناھیك بحجۃ وقدوۃ محقق علی الاطلاق در فتح فرماید الیہ اشارفی الاصل [9]۔
جیسے بحر میں ولوالجیہ اور المبتغے سے ہے کیونکہ یہ بمنزل ایك نماز واجبہ کے ہے اھجیسے فتاوٰی ہندیہ میں ہے ، امام سرخسی فرماتے ہیں کہ یہی اصح ہے اور اسی میں یہ بھی ہے علامہ غزی نے متن تنویرالابصار میں فرمایا کہ راجح یہی ہے ، علامہ دمشقی نے درمختار میں اس پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایاہے یہ مخالف ہے اس بات کے جس کو کمال نے ترجیح دی اور باب جمعہ میں بحر کی اتباع میں فرمایا اصح قول یہی ہے مجمع الانہر میں فرمایا اکثر مشائخ نے اسی کو صحیح کہا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی چار رکعات ادا کرے حتی کہ محرر مذہب حضرت امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مبسوط جو کتب ظاہرالروایہ میں سے ہے میں اسی کی طرف اشارہ کیا اور یہی حجت کافی ہے قدوّۃ محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا اسی کی طرف (امام محمد نے) اصل میں اشارہ فرمایا ہے۔
اقول : دیدی کہ ہر جانب قوتے ست بس علیہ و رفعتے شامخہّ جلیلہ امام دلیل قول اول کہ امام ابن الہمام قدس سرہ ذکر فرمود گوبدل چسپندہ ترباش لکن عامہ تصحیحات صریحہ ایں طرف ہجوم آور دہ ولفظ ھو الصحیح کہ از جمہور ائمہ طراز دامن قول شد برلفظ ھو ا وجہ کہ از امام محقق علی اطلاق نصیبہ قول اول ست گراں سنگیہا دار دہم ازروئے مادہ وہم ازرا ہ ہیئت وہم ازجہت زوائد کما لایخفی علی الفقیہ النبیہ العارف باسالیب الکلام آں طرف اگر بہ اخذالمشائخ ست کہ بظاہر مراد بایشاں مشائخ خود امام قاضی خان ست ایں طرف صححہ اکثر المشائخ ست و نیز آنکہ از عامہ الفاظ اکد ست واقوی اعنی لفظ علیہ الفتوی باز آں طرف اگر از حضرات شیخیں مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت نوادر ست ایں جانب اشارہ اصل نہ چیزے ست سہل علماء سپید گفتہ اند کہ مفہوم متون بر منطوق فتاوٰی تقدم دار د علامہ سیدی احمد حموی در غمز العیون نگار و غیر خاف ان مافی المتون والشروح ولوکان بطریق المفھوم مقدم علی مافی الفتاوی وان لم یکن فی عبارتھا اضطراب [10]وپیدا ست کہ نسبت انوادر بہ اصول ہمچو نسبت فتاوی ست بمتون و بالآخر مسئلہ ازاں قبیل ست کہ انسان ہر دو قول
اقول : (میں کہتا ہو) آپ نے دیكہ لیا کہ ہر طرف قوت ہے ، تو نہایت بلند اور جلیل رفعت دونوں میں ہے پس قول اول پر جو دلیل امام ابن ہمام قدس سرہ نے ذکر کی ہے وہ اگرچہ دل کو پسند ہے لیکن عام تصحیحات صریحہ کا ہجوم اس طرف زیادہ ہے کہ جہاں لفظ “ ھو الصحیح “ ہے جو کہ جمہور ائمہ کا خاص انداز جس کو دسرے قول نے اپنے دامن میں لے رکھا ہے اور لفظ “ ھو ا وجہ “ جو کہ محقق علی الاطلاق کی طرف سے قول اول کے لئے مزید وزنی ہے ہیت ، مادہ اور زائدامور ، ہر لحاظ سے ، جیسا کہ کلام کے اسلوب سے واقف فقیہ اور ماہر پر مخفی نہیں ، اس طرف اگر مشائخ کی پسند ہے جو کہ بظاہر خود امام قاضی خاں سے مراد ہے تو دوسری طرف بھی “ صححہ اکثر المشائخ “ اور “ صححہ المشائخ “ کے الفاظ ہیں نیز وہاں “ علیہ الفتوی “ كے الفا ظ بہی ہے جو كہ عام الفاظ كی نسبت زیادہ تاكید اور قوت پر دال ہے اگر وہاں (پہلے قول) کی طرف نوادر روایت کے مطابق شیخین (امام اعظم وامام ابویوسف) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا مذہب مذکور ہے تو یہاں (دوسرے قول) کے لئے اصل (مبسوط امام محمد) کا اشارہ
[1] غنیۃ ذوی الاحکام علی الدرالحکام باب الجمعہ مطبعہ احمد کامل دارسعادت بیروت ١ / ١٤١
[2] غنیۃ المستملی بحلوالہ المرغینانی الشرط الخامس ھوالوقت مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٢٤٢
[3] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ السراج الوہاج الباب العاشرفی الدراك الفریضہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
[4] فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی الباب العاشر فی ادراك الفریضہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
[5] درمختار ، باب ادراك ا لفریضہ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٩
[6] درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٣
[7] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ادراك الفریضہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٤١
[8] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ادراك الفریضہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٤١
[9] فتح القدیر ، باب ادراك الفریضہ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤١١
[10] غمز عیون البصائرشرح الاشباہ والنظائر کتاب الحجر ولمأذون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢٢ / ٧٩
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع