دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اور ان تائبوں کی دعوت بھی قبول کی جائے کہ اب اس کا مال بھی حلال ہے اور توبہ سے گناہ بھی زائل ، رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہے :

التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ[1]۔ رواہ ابن ماجۃ بسند حسن والبیھقی

جس نے گناہ سے توبہ کرلی وہ ایسے ہے جیسے گناہ کیا ہی نہیں ۔

اسے ابن ماجہ نے بسند حسن ، بہیقی نے سنن

فی السنن والطبرابی فی لکبیرعن عبداﷲ بن مسعود والحکیم الترمذی عن ابی سعید الخدری والبیھقی فی الشعب والسنن وابن عساکر عن ابن عباس وفی السنن عن عقبۃ الخولا نی والاستاذ القشیری فی رسالتہ والدیلمی و ابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنھم  

میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ، حکیم ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سے ، بہیقی نے شعب الایمان میں ، اور ابن عسا کر نے حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے اور سنن میں عقبہ خولانی سے ، اورا ستاد القشیری نے اپنے رسالہ میں ، اور دیلمی اور ابن نجار نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا ہے۔

اور ان میں جو لوگ اب تك اس فسق عظیم میں مبتلا ہیں اگر چہ مستحق لعنت خدا ہیں مگر جبکہ پاك بدن پاك کپڑوں سے مسجد میں آتے ہیں تو انھیں وضو و مسجد و جماعت سے نہیں روك سکتے ، اگر ان کے آنے سے فتنہ نہ ہو ، یو نہی قو ال کو بھی ، اور عورتیں اگر چہ پارسااور بڑھیا ہوں مسجد سے ممنوع ہیں خصوصا زنا پیشہ فاحشات کہ ان کے باہمی وہ رسوم سنے گئے ہیں جن کا بعد ایمان قائم رہنا سخت دشوار ہے ، قوال وغیرہ جو مسلمان مرے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاتا ہو چند صور استثنائی مذکورہ فقہیہ کے سوا سب جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

الصلوٰۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت برا کان او فاجر و ان ھو عمل الکبائر [2] ۔  رواہ ابوداؤد و ابو یعلٰی والبیھقی بسند حسن صحیح عن ابی ھریرۃ ومعناہ لابن ماجۃ عن واثلثۃ بن الاسقع وللطبرانی فی الکبیری وابی نعیم فی الحیلۃ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین۔  واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم                            

ہر مسلمان کے جنازہ کی نماز تم پر فرض ہے وہ نیك ہو یا بد ، اگر چہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں ۔ اسے ابوداؤد ۔ ابو یعلی اور بہقی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اور معنًا اسے ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن الاسقع   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اجمعین سے روایت کیا ہے واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ١١٨٥ :       از بریلی مسئولہ شیخ العزیز بسطامی                       دوم ذوالقعدہ ١٣٣٠ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك مسجد میں جمعہ کی نماز کے واسطے دریاں وغیرہ بنوائیں مگر کچھ دنوں وہاں جمعہ ہوکر رہ گیا اب وہ چاہتا ہے کہ یہ دریاں کسی دوسری مسجد میں دے دوں ، پس یہ جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا تواجروا

الجواب :

 

جب دریاں سپرد کردیں ملك مسجد ہوگئیں ، جب تك ناقابل استعمال نہ ہوجائیں واپس نہیں لے سکتا نہ دوسری مسجد میں دے سکتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

_______________

باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)

مسئلہ ١١٨٦ : از او جین علاقہ گوالیار مرسلہ محمد یعقوب علی خاں ازمکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ یکم ربیع الآخر ١٣٠٧ھ

چہ می فرماین علمائے دیندار و مفتیان ورع شعار دریں مسئلہ کہ مردے نیت چہار رکعت نماز سنت خواہ نفل نمودہ یك رکعت نماز با تمام رسانیدہ بادائے رکعت دوم برخاست دراں وقت کسے تکبیر نماز فرض گفت اداکندہ نفل وسنت بر چہار رکعت تمام نماید یا بردو رکعت اکتفا ساز دو رکعت باقیہ رانجواند یا نہ؟ بینوا تواجروا  

علماء شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخص نے چار رکعت نماز سنت یا نفل کی نیت کرکے شروع کی ابھی دوسری رکعت کی طرف اٹھا تھا کہ نماز فرض کی جماعت کے لئے تکبیر ہوگئی نفل و سنت ادا کرنے والا چار رکعت پوری کرے یا دو پر اکتفاء کرلے باقی دو رکعات ادا کرے یا نہ؟ بینوا  تواجروا

الجواب :

مصلی نفل از آغا ز ثنا تا انجام تشہد در ہر چہ کہ باشد چوں ہنوز در شفع اول ست وبہر شفع دوم یعنی رکعت ثالثہ قیام نکر دہ کہ جماعت فرض قائم شد لاجرم بر ہمیں دو رکعات پیشیں اکتفا نماید و بجماعت در آید            نفل ادا کرنے والا نمازی ثنا سے تشہد کے آخر تك جو پہلی دو رکعت میں ہے ابھی تیسری رکعت کی طرف اس نے قیام نہیں کیا تھا کہ جماعت فرض کھڑی ہو گئی تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ انھیں دو رکعات پر اکتفا کرے

فی الد رالمختار الشارع فی نفل لایقطع مطلقا ویتمہ رکعتین [3]۔

و دو رکعت کہ باقی ماند قضائے آنہا برزمہ اش نیست زیر اکہ ہر شفع نفل نماز جدا گانہ است تا در شفع دوم آغاز تکرد واجب نشد و چوں واجب نشد قضا نیامد ۔

 



[1]    سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر التوبہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣٢٣ ، السنن الکبرٰی کتاب الشہادات باب شہادت القاذف مطبوعہ دار صادر بیروت ١٠ /  ١٥٤

[2]    سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الغز مع ائمہ الجور مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ /  ٣٤٣ ، سنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ خلف من لایحمد فعلہ مطبوعہ دار صادر بیروت ٣ /  ١١٢ و ٨ /  ١٨٥

[3]    درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٩٩

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن