30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بابہ ویکون ﷲ لا خراج ما بنی للریا والسمعۃ ولذاقیل من کتب اسمہ علی بنا ئہ دل ذلك منہ علی عدم اخلاصہ قال ابن حجر وھو ظاھر مالم یقصد بکتابۃ اسمہ نحو الدعا والترحم وفیہ ان الدعاء والترحم یحصل مجملاومبہما فلا یحتاج الی تعیین الاسم[1]۔
غیر اﷲ کی خاطر ہو۔ یہ ابن الملك کا قول ہے۔ اور اظہر یہی ہے کہ مسجد کا یہی حکم ہے اب “ اﷲ کی خاطر “ سے وہ مسجد نکل جائے گی جو ریا اور دکھاوے کی خاطر ہو ، اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس نے مسجد پر اپنانام لکھا تو یہ عدم اخلاص پر دلیل ہے۔ ابن حجر کہتے ہیں یہی ظاہر ہے جب تك نام لکھنے سے مقصود د عا ورحمت نہ ہو اس پر اعتراض یہ ہے کہ دعا ورحمت مجملًا ہو جاتی ہے لہٰذا نام کی تعیین کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
چہارم یہ کہ ایك خاص ایسے شخص کے نام ہونے سے اس کا اور اس کے خاندان کا ایك قسم کا استحقاق ثابت ہوتا ہے اور آئندہ یہ مسجد کی آمدنی کے حق میں نہایت مضر ہوگا جیسا کہ تمام اوقاف میں ہورہا ہے بہر حال اگر اس میں کو ئی اختلاف بھی کرے تو اختلافی بات مسجدمیں رہنا اچھا نہیں ، احتیاط کا یہی منشا ہے کہ یہ پتھر نہ رہے ۔ بکر کہتا ہے کہ یہ پتھر چسپاں کرنا درست ہے بہت مساجد میں ایسے کتبے لگے ہوئے ہیں اور نماز میں وہاں نظر لے جانے کی ضرورت کیا ہے اور نام کندہ کرانا دعا کے واسطے ہے اور اس خیال سے کہ کسی منتظم ذمہ دار کے نام ہونے کی ضرورت ہے ، بہر حال زیدکا قول صحیح ہے یا بکر کا؟بینوا توجروا
الجواب :
اس سوال کا جواب رمضان ١٣٣٧ھ میں دیا جاچکا ہے اس کی نقل مرسل ہے وہی جواب ہے اس میں دیوار قبلہ پر نام کا سوال زائد ہے ، بیشك دیوار قبلہ میں عام مصلیوں کے موضع نظر تك کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جس سے دل بٹے اور ہو تو کپڑے سے چھپا دی جائے۔ احمد و ابوداؤد عثمان بن طلحہ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دعاہ بعد دخولہ الکعبۃ فقال انی کنت رأیت قرنی الکبش حین دخلت البیت فنسیت ان آمرك ان تخمرھا فخمرھما فانہ لاینبغی ان یکون فی قبلۃ البیت شئ
رسالتمآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دخول کعبہ کے بعد انھیں بلایا اور فرمایا جب میں بیت اﷲ میں داخل ہو تو میں نے دنبے کے دو٢ سینگ دیکھے مجھے تجھ سے یہ کہنا یاد نہ رہا کہ انھیں ڈھانپ دو ، کیونکہ قبلہ بیت اﷲ میں ایسی کسی
یلھی المصلی [2]۔
شئی کا ہونا مناسب نہیں جو نمازی کو مشغول کردے ۔ (ت)
حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کعبہ معظمہ میں تشریف فرماہوئے عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کلید بردار کعبہ کو طلب فرماکر ارشاد فرمایا : ہم نے کعبہ میں دنبے کے سینگ ملاحظہ فرمائے تھے ( دنبہ کہ سید نا سمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ ہوا اس کے سینگ کعبہ معظمہ کی دیوار غربی میں لگے ہوئے تھے) ہمیں تم سے یہ فرمانا یا دنہ رہا کہ ان کو ڈھانك دو اب ڈھانکو کہ نمازی کے سامنے کوئی چیز ایسی نہ چاہئے جس سے دل بٹے ۔ ہاں اگر اتنی بلند ی پر ہو کہ سر اٹھا کر دیکھنے سے نظر آئے تو یہ نمازی کا قصور ہے ، اسے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا نا کب جائز ہے ، رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
لینتھین اقوام یرفعون ابصار ھم الی السماء فی الصلوٰۃ اولتخطفن ابصارھم[3] ۔ رواہ احمد و مسلم والنسائی عن ا بی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو اس سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچك لی جائیگی یعنی واپس نہ آئے گی اندھے ہوجائیں گے۔ اسے امام احمد مسلم اور نسانی نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔
نام کندہ کرانا نیت پر ہے ، اگر بہ نیت دعا ہے بے شبہہ رواہے اور مبہم دعا کا فی ہونا بالتعیین دعا چاہنے کا نافی نہیں ، اور اگر مقصود نام بیشك حرام ہے ، مگر مسلمان پر بدگمانی کس نے جائز کی ، یہ امر قلب ہے وہ جانے اور اس کا رب ۔ پہلی جمادی الآخر ١٣٣٦ھ میں بھی اس کا جواب جا چکا تھا یہی حکم تھا ، وہ مجمل ہے یہ قدرے مفصل ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٧٦ : از شہر دفتر انجمن خادم المسلمین مسئولہ گوہر علی حسینی معتمد انجمن ٦ محرم ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے كرام اس مسئلہ میں کہ سقف مساجد پر بخیال شوکت اسلام اسلامی سیاہ جھنڈا یعنی لوائے اسلام نصب کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
شوکت اسلام اطاعت اسلام میں ہے ، مسجد پر جھنڈا ایك نئی بات ہے ، اور کوئی مزاحمت ہو تو سبکی و خفت ، اور اس کا اندیشہ نہ ہو تو فی نفسہٖ کوئی حرج نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٧۷ : از بھیرہ شاہ پور ملك پنجاب دروازہ ملتانی مسئولہ فضل حق صاحب چشتی ٥ رمضان ١٣٣٩ھ
بخدمت جناب سلطان العلماء المتبحرین برہاں الفضلاء والمتصدرین کنز الہدایۃ و الیقین شیخ الاسلام و المسلمین مولٰینا مفتی العلامہ شاہ احمد رضا خان صاحب مدظلہ العالی ، السلام علیکم :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولود خوانی مسجد میں جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ مرزائی وغیرہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسجد میں راگ منع ہیں اور حتی الامکان منع ہیں ، چونکہ مولود بھی راگ ہیں اس لئے یہ قطعًا جائز ہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع