30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و رفع صوت بذکرالا للمتفقھۃ [1]۔
ذکر بلند آواز سے کرنا منع ہے مگر اس شخص کے لئے جو فقہ کی تعلیم دے رہا ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الاان یشوش جھر ھم علی نائم اومصلی اوقارئ الخ [2]۔
البتہ اس صورت میں بھی جائز نہیں جب ذکر بالجہر سے کسی سونے والے کی نیند ، کسی نمازی کی نمازیا تلاوت کرنے والے کی تلاوت میں خلل کا ندیشہ ہو۔ (ت)
مناقب کردری میں ہے :
عن ابن عیینۃ قال مررت بہ (ای بالا مام رضی اﷲ تعالٰی عنہ) وھو مع اصحابہ فی المسجد قد ارتفعت اصواتھم فقلت یا ابا حنیفۃ ھذا المسجد والصوت لایرفع فیہ فقال دعھم فانھم لایفقھون الابہ [3] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ابن عیینہ سے ہے کہ میں ان ( امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کے پاس سے گزرا آپ شاگردوں کے ساتھ مسجد میں تھے لیکن ان کی آواز ببلند تھی ، میں نے کہا : اے ابو حنیفہ! یہ مسجد ہے اس میں آواز بلند نہیں ہونی چاہئے۔ فرمایا : ان کو چھوڑدو کیونکہ دینی علوم کو اس آواز کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ١١٧٥ : سائل مذکور الصدر : ایك مسجد قدیم چندہ کے روپیہ سے ازسرِنو تعمیر کی گئی اس کی مغربی دیوار پر عبارت ذیل تین پتّھر میں کندہ کرکے ہر سہ محراب کے اوپر چسپاں کی گئی ، عبارت یہ ہے : “ یہ جامع مسجد مع دکانات جنوبی وشرقی وحمام شاہی عہد کے بنے ہوئے ایك عرصہ تك متولیوں کے اہتمام میں رہی ، آخری متولی کی بے ایمانیوں سے حمام مسجد سے نکل گیا اور مسجد کی مغربی دیوار پر ایك شخص کا دومنزلہ مکان بن گیا ، مغربی دیوار اور گنبد کی دیوار شق ہو گئی ، مکاناتِ مسجد کی نسبت متولی مذکور نے اپنی خانگی جائداد ہونے کا دعوٰی کیا ، بلآخر متولی بحکم کچہری تولیت سے خارج کردیا گیا اور مسجد دکانات کاا نتظام کچہری کی طرف سے کمیٹی کو سپرد ہوا ، اس کمیٹی نے حمام کو واپس لے کر جزوِ مسجد قراردیا ، اور اس وقت سے مسجد کی زینت و آبادی میں روزافزوں ترقی ہوتی رہی ، مسجد کی مغربی دیوار اور گنبد کی ڈاٹ شق ہوجانے سے مسجد کے گر جانے کا اندیشہ تھا لہٰذا مسجد کی کل موجودہ عمارت بنیاد سے از سرنو کمیٹی کے زیر اہتمام تعمیر کی گئی تعمیر کا کام١٣٣١ھ میں شروع ہوا ١٣٣٦ھ میں ختم ہوا ، تعمیر میں چالیس ہزار روپیہ خرچ ہوا ، جس میں سے ایك ہزار نو سو دکانات کے کرایہ سے ملا باقی چندہ جمع کیا گیا ، ضلع الہ آباد کے علاوہ دیگر اضلاع کے مسلمانوں اور والیان ملك نے بھی چندہ عطافرمایا ، دکانات زیریں مسجد مع حمام وقف ہیں ان کی آمدنی اخراجات مسجد میں صرف ہوئی ہے ، اﷲ تعالٰی اس مسجد کو حوادث زمانہ سے محفوظ رکھے اور جملہ مسلمانان معاونین مسجد کو جزائے خیر عطا فرمائے ، ناظرین ارکان کمیٹی وسیکریٹری و دیگر کارکنان کے حق میں دعائے مغفرت کریں ۔ سید امیرالدین احمد غفر لہ ا لمخاطب بہ خان بہادر سیکریٹری کمیٹی انتظام جامع مسجد چوك الہ آباد ساکن دائرہ شاہ رفیع الزمان رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ واقع محلہ یحٰیی پور شہر الہ آباد “
زید کہتا ہے کہ بچند وجوہ یہ عبارت چسپاں کرانا مغربی دیوار پر درست نہیں ہے ، اّول یہ کہ درمختار میں لکھا ہے کہ مغربی دیوار پر نقش کرنا درست نہیں ہے ،
وھو ھذا( ولا باس بنقشہ خلا محرابہ) فانہ یکرہ لانہ یلھی المصلی ویکرہ التکلف بد قائق النقوش ونحوھا خصوصا فی جدارالقبلۃ قالہ الحلبی وفی حظر المجتبٰی وقیل یکرہ فی المحراب دون السقف والمؤخر اھ وظاھرہ ان المراد بالمحراب جدارالقبلہ فلیحفظ[4]۔
اور وہ یہ ہے ( مسجد کو محراب کے علاوہ منقش کرنے میں کوئی حرج نہیں ) کیونکہ محراب کا منقش کرنا مکروہ ہے وہ نمازی کو مشغول کردیتا ہے اور باریك نقش ونگار کے لئے تکلف کرنا خصوصًا دیوار قبلہ میں مکروہ ہے حلبی نے کہا کہ المجتبےٰ کے باب الحظر میں ہے کہ بعض کے نزدیك محراب میں نقش ونگار مکروہ ، مگر چھت یا پچھلی دیوار پر مکروہ نہیں ۔ اور اس سے ظاہر ہورہاہے کہ محراب سے مراد قبلہ کی دیوار ہے ، اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
اور یہاں نحوھا کا لفظ بھی ہے کہ جوہر ایك ایسی چیز کو شامل ہے کہ جس سے دل بٹنے کا اندیشہ ہو۔
دوم یہ کہ اس میں متولی سابق کی خیانت لکھی ہے جن کو اس لقب سے یہاں ہر شخص جانتاہے وہ اپنے کردار کو پہنچ بھی چکے اور کچہری نے بھی ان کو تولیت سے علیحدہ کردیا لیکن وہ جب دنیا سے رحلت فرمائیں گے تو ان کی برائی ہمیشہ کے لئے کندہ رہے گی اور لوگ برائی سے ان کو یاد کریں گے ، اور حدیث شریف میں منع ہے
سوم یہ کہ ایسے موقع پر کسی کا نام ہونا شہرت اور ریا سے خالی نہیں اور یہ غیر مستحسن ہے جیسا کہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے :
وعن عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واسلم من بنی ﷲ مسجدا ای معبد افیتناول معبد الکفرۃ فیکون ﷲ لاخراج ما بنی معبدالغیر اﷲ قالہ ابن الملك والاظھر ان یکون المسجد علی
حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جس نے اﷲ کے لئے مسجد (عبادت گاہ) بنائی ، یہ کافروں کے عبادت خانے کو بھی شامل ہے۔ اب “ اﷲ کی خاطر “ سے وہ عبادت گاہ خارج ہو جائے گی جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع