30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ مساجد میں معاملاتِ دنیا کی باتیں کرنے والوں پر کیا مما نعت ہے اور بروزِ حشر کیا مواخذہ ہوگا؟
الجواب :
دنیا کی باتوں کے لئے مسجدمیں جاکر بیٹھنا حرام ہے۔ اشباہ ونظائر میں فتح القدیر سے نقل فرمایا : “ مسجد میں دنیا کی کلام نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ “ یہ مباح باتوں کا حکم ہے پھر اگر باتیں خود بری ہوئیں تو اس کا کیا ذکر ہے ، دونوں سخت حرام در حرام ، موجب عذاب شدید ہے ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ١١٦٩ : از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش محرر دفتر ججی غازی پور ۱۷ذیقعدہ۱۳۲۲ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں شور وشرکرنا اور دنیا کی باتیں کرنا اور اسی طرح وضو میں درست ہے یا نہیں ، اور اپنے پاس سے غیبت کرنے والوں اور تہمت رکھنے والوں اور جن میں شیوہ منافقت کا مفسدہ کا انداز پایا جائے نکلوادینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
مسجد میں شور وشر کرنا حرام ہے ، اور دنیوی بات کے لئے مسجد می بیٹھنا حرام ، اور نماز کے لئے جاکر دنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ اور وضو میں بے ضرورت دنیوی کلام نہ چاہئے۔ اور غیبت کرنے والوں اور تہمت اٹھانے والوں منافقوں مفسدوں کو نکلوادینے پر قادر ہو تو نکلوا دے جبکہ فتنہ نہ اُٹھے ورنہ خود اُن کے پاس سے اٹھ جائے ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ١١٧٠ : از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ غلام جان صاحب طالبعلم ١٨ شوال۱۳۳۷ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد ویران شدہ یعنی چھت وغیرہ اُس کا گرگیا صرف دیواریں و دیگر آثار اُس کے سب نمودار ہیں اُس مسجد کے متعلق جو دُکان ہو اُس کا کرایہ دوسری مسجد پر خرچ ہوسکتا ہے یا نہ؟ اور اس کرایہ میں سے دوسری مسجد کے پیش امام کو دینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
نہیں جائز ، بلکہ اس کے کرایہ سے اُسی مسجد کی تعمیر کریں ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۷۱ : از مراد آباد محلہ اصالت پورہ مسئولہ کاردعلی صاحب ١ ۱۵ محرم ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صحنِ مسجد میں کچھ قبریں آگئی ہیں اور ان قبروں میں فرش پختہ بنادیا گیا ہے اب کوئی نشا ن قبر کا صحنِ مسجد میں معلوم نہیں ہوتا البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فلاں فلاں کی قبریں ہیں لہٰذا یہ معلوم کرنا ہے کہ اس صحن مسجد میں کہ جہاں قبریں تھیں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور جو نمازیں پڑھی ہیں وہ نمازیں ہوگئیں یا نہیں ؟ سوال کا جوب بحوالہ کتب احادیث ارقام فرمائیں ۔
الجواب :
مسلمانوں کی قبریں ہموار کرکے صحن مسجد میں شامل کرلینا حرام ہوا اور ان قبروں پر نماز حرام ہے اور ان کی طرف نماز حرام ہے ، قبر اوپر کے نشان کا نام نہیں کہ اس کے مٹنے سے قبر جاتی رہے بلکہ اس جگہ کا نام ہے جہاں میّت دفن ہے ، جتنی نمازیں اس طرح پڑھی گئیں سب پھیری جائیں اور قبروں کے نشان بدستور بنادئے جائیں کہ مسلمان ان پر پاؤں رکھنے اور چلنے اور ان پر اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی آفتوں سے محفوظ رہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٧٢ : از شاہی علاقہ رام پور مرسلہ نادر شاہ خاں وانعام اﷲ خاں ۶ جمادی الآخرٰی ١٣١٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جامع مسجد کے یمین ویسار قبرستان خام ہے نشانِ قبور موجود ہیں ، قبرستان کونئی مٹی سے یا پختہ چبوترہ باندھ کر فرش مسجد کا بڑھا لیا جائے ایسا کہ بلکل نشانِ قبر بالکل ظاہر نہ رہے تو اس پر نماز پڑھنا درست ہے یا ناجائز؟ بینواتواجروا
الجواب :
ناجائز و حرام ہے مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھنا بھی حرام ، اور قبر پر نماز پڑھنی حرام ، اور حرام تو اس ناجائز فعل میں قبروں کی بھی بے عزتی ہے اور نماز کا بھی نقصان۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۷۳ : منشی مردان علی از بجنور محلہ قاضی خاں :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد بجنور جو محلہ قاضیان میں واقع ہے اس کا فرش موجودہ شرقًا وغربًا یعنی عرض میں بہت کم ہے کہ جو بعض جمعہ کو نمازیوں کے لئے کافی نہیں ہوتا لہٰذا اس کے فرش بڑھانے کی تدبیر درپیش ہے درصورت بڑھانے فرش کے کما نطقت بہ احادیث جمۃ وقد صرح علمائنا ان المرور فی سکۃ حادثہ فی المقابر حرام١؎کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔
ایك قبر پختہ جس کا حضیرہ زمین سے قریب بارہ گرہ کے اونچا بناہوا ہے بیچ فرش میں پڑگئی ، صاحبِ قبر کے انتقال کو قریب سو سال کے گزری ہوں گی لہٰذا علمائے دین کی خدمت میں التماس ہے کہ اس قبر کو کیا کیا جائے تاکہ نماز میں کچھ حرج نہ ہو ، یا فرش کے براب کردی جائے یا اونچی رہنے دی جائے؟ درصورت بحالت موجودہ رکھنے قبر کے ، نماز میں کچھ حرج ہوگا یا نہیں ؟ ورثائے صاحبِ قبر سوائے ایك شخص کے قبر کو برابر کرنے کے لئے راضی ہیں اگر برابر کرنا درست ہو تو یہ بھی مع حوالہ کتبِ فقہ تحریر کیا جائے کہ کتنے میعاد کے بعد برابر کرنا درست ہے ؟ بینوا تواجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں قبر مسلمان کو برابر کردینا کہ لوگ اس پر چلیں پھریں ، اٹھیں بیٹھیں ، نماز پڑھیں ، محض حرام ہے۔
کما نطقت بہ احادیث جمۃ وقد صرح علمائنا ان المرور فی سکۃ حادثہ فی المقابر حرام[1] کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع