30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب تم میں سے کوئی نماز شروع کرے تو
امامہ ، فانما ینا جی اﷲ ما دام فی مصلاہ ولا عن یمینہ فان عن یمینہ ملکا ولیبصق عن یسارہ اوتحت قدمہ فید فنھا [1]۔ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
سامنےنہ تھو کے کیونکہ جب تك وہ نماز میں ہے اپنے رب سے ہم کلام ہے ، نہ ہی دائیں طرف تھوکے کیونکہ اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے ، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوك لے اور اسے دفن کر دے۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔ (ت)
اور فرمایا :
اذا صلی احدکم فلا یضع نعلیہ عن یمینہ ولا عن یسارہ فتکون عن یمین غیرہ الا ان لا یکون علی یسارہ احد ولیضعھما بین رجلیہ[2]۔ رواہ ابوداؤدعن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو جو تے نہ دائیں طرف رکھے نہ بائیں طرف کیونکہ وہ کسی کی دائیں جانب ہوگی البتہ اس صورت میں جب بائیں جانب کوئی نہ ہو ، اور انھیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے ۔ اسے ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١١٦٦ : از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲ امام مسجد جامع ١٩ رمضان ١٣٣٨ھ
مسجد کے چاہ سے عمومًا پانی بھرنا اپنے گھروں کو اور ننگے پیروں سے آنا ، اور رسی سے بھی وہ خراب پیر لگتے ہیں پھر اس کی چھینٹیں کنویں میں ضرورجاتی ہیں ، منع کرنے پر کہتے ہیں کہ پہلے سے یونہی بھر تے آتے ہیں ۔ ان کا کیا حکم ہے؟
الجواب :
کنویں کی ممانعت نہیں ہوسکتی رسی ڈول اگر مسجد کا ہے اس کی حفاظت کریں ، غیر نماز کے لئے اُس سے نہ بھرنے دیں ، دربارہ طہارت اوہام کو شریعت نے دخل نہیں دیا ورنہ عافیت تنگ ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٦٧ : از شہر کہنہ مسئولہ محمد ظہور صاحب ١٠ شوال ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مسجد میں درخت پھلدار مثلًا جامن مولسری کھنی وغیرہ کے ہو اور پھل اس مقدار پر آیاجس کو فروخت کیا جائے ، ایسی صورت میں وہ پھل نمازی یا غیر نمازی بلا کچھ قیمت ادا کئے ہوئے کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ دیگر یہ کہ مسجد میں درخت بیلہ۔ چنبیلی۔ مولسری کا ہےاس کے پھول نمازی لوگ بلا کوئی قیمت ادا کئے ہوئے گھر کو لاسکتے ہیں یا نہیں ؟
الجواب :
مسجد میں بے ضرورت شدید درخت بونا منع ہے اور اس کے پھل پُھول بے قیمت نہیں لے سکتے۔ ہندیہ میں ہے :
اذاغرس شجرا فی المسجد فالشجر للمسجد کذافی الظھیر یہ[3]۔
جب کسی نے مسجد میں پودا لگایا تو وہ مسجد ہی کا ہوگا ، جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی فتاوٰی اھل سمر قند مسجد فیہ شجرۃ تفاح یباح للقوم ان یفطر وابھذا التفاح قال الصدر الشھید رحمہ اﷲ تعالٰی المختار انہ لایباح کذافی الذخیرۃ [4] اھ
اقول : وھذاتصحیح صریح من امام جلیل ولا شك انہ ھو قضیۃ الوقفیۃ فان الوقف کما لا یملك لا یباح فیقدم علی مافی صلح الخانیۃ قبیل فصل المھاباۃ۔ طریق غرس فیہ رجل شجرۃ الفرصاد قالو ا لاباس بہ اذاکان لا یضر بالطریق ویطیب للغارس ورقھا واکل فرصا دھا وان کانت الشجرۃ فی المسجد قال الفقیہ ابو جعفر رحمۃ اﷲ تعالٰی
فتاوٰی اہل سمر قند میں ہے : ایك مسجد میں ناشپاتی کا درخت ہے لوگوں کا اسکی ناشپاتی کے ساتھ روزہ افطار کرنا مباح ہے ، صدرالشہید کہتے ہیں کہ مختاریہ ہے کہ یہ جائز نہیں ، جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ
اقول : (میں کہتا ہوں ) یہ ایك عظیم امام کی صراحۃً تصحیح ہے اور بلاشبہ یہ معا ملہ وقف سے متعلق ہے اور وقف جس طرح کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اسی طرح وہ کسی کے لئے مباح نہیں ہوتا۔ اور جو کچھ خانیہ میں مہابات کی فصل سے تھوڑا سا پہلے ہے اس پر اس قول کو تقدیم حاصل ہے کہ راستہ میں ایك شخص نے تُوت کا درخت لگادیا تو فقہاء نے فرمایا : جب وہ راستہ کے لئے ضرر ساں نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور درخت لگانے والے کے لئےاس کے پتّے اور پھل کا استعمال مباح ہوگا اور اگر
لا باس باکل توتھا ولایجوز اخذ ورقھا[5] اھ واﷲ تعالٰی اعلم
درخت مسجد میں ہے تو فقیہ ابو جعفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : اسے اپنے توت کا پھل کھانا جائز اور پتّوں کا لینا ناجائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ١١٦٨ : از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ خلیل الرحمان صاحب ١٩ شعبان المعظم ١٣١٩ھ
[1] صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب دفن النخامۃ فی ا لمسجد مطبو عہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٥٩
[2] سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب المصلی اذاخلع نعلیہ الخ مطبو عہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٦٩
[3] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشرفی الرباطات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٧٤
[4] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشرفی الرباطات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٧٤
[5] فتاوٰی قاضی خاں کتاب الصلح فیما یجوز لاحدالشریکین مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۳ / ۶۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع