دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

لتزخر فُنَّھا کما زخرفت الیھود والنصارٰی[1]۔

تم مساجد کو اسی طرح مزیّن کروگے جس طرح یہود ونصارٰی نے مزیّن کیں ۔ (ت)

تبدل زمان سے علماء نے تزیینِ مساجد کی اجازت فرمائی کہ اب تعظیم ظاہر مورث عظمت فی العیون ووقعت فی القلوب ہوتی ہے فکان کتحلیۃ المصحف فیہ من تعظیمہ( یہ ایسے ہی ہے جیسے تعظیم کی خاطر قرآن حکیم کو طلا کی صورت میں لکھا جائے۔ ت) مگر اب بھی دیوار قبلہ عمومًا اور محراب کو خصوصًا شاغلاتِ قلوب سے بچانے کا حکم ہے بلکہ اولٰی یہ ہے کہ دیوار یمین وشمال بھی ملہیات سے خالی رہے کہ اُس کے پاس جو مصلّی ہو اُس کی نظر کو پریشان نہ کرے۔ ہاں گنبدوں ، میناروں ، سقف اور دیواروں کی سطح کہ مصلیوں کے پس پشت رہے گی ان میں مضائقہ نہیں اگر چہ سونے کے پانی سے نقش ونگارہوں بشرطیکہ اپنے مال حلال سے ہوں ، مسجد کا مال اُس میں صرف نہ کیا جائے ، مگر جبکہ اصل بانیِ مسجد نے نقش ونگار کئے ہوں یا واقف نے اس کی اجازت دی ہو یا مالِ مسجد کا فاضل بچاہو ، اور اگر صرف نہ کیا جائے تو ظالموں کے خوردبُرد میں جائے گا پھر جہاں جہاں نقش ونگار اپنے مال سے کرسکتا ہے اس میں بھی دقائق نقوش سے تکلف مکروہ ہے سادگی ومیانہ روی کا پہلو ملحوظ رہے۔ امام ابن المنیرشرح جامع صحیح میں فرماتے ہیں :

استنبط منہ کراھۃ زخرفۃ المساجد لاشتغال قلب المصلی بذلك اولصرف المال

اس سے مساجد کا مزیّن کرنا مکروہ ثابت ہوتاہے کیونکہ اس میں نمازی کے دل مشغول یا مال کا

فی غیر وجھہ نعم اذاوقع ذلك علی سبیل تعظیم المساجد ولم یقع الصرف علیہ من بیت المال فلا باس بہ ولو اوصی بتشیید مسجد وتحمیرہ وتصفیرہ ونفذت وصیتہ لانہ قد حدث الناس فتاوی بقدرمااحد ثوا وقد احدث الناس مؤ منھم وکافرھم تشیید بیوتھم و تزیینھا ولو بنینا مساجدنا باللبن وجعلنا ھا متطامنۃ بین الدورالشا ھقۃ وربما کانت لاھل الذمۃ لکانت مستھانۃ[2]                     

غلط طور پر استعمال لازم آتا ہے ، ہاں جب یہ تزیین مساجد کی تعظیم کی خاطر ہو اور بیت المال سے نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر کسی شخص نے مسجد کو پختہ کرنے اور اسے سرخ وسفید کرنے کی وصیت کی تو اس کی وصیت نا فذ ہوگی کیونکہ لوگوں میں فتوٰی اُن کے حال کے مطابق ہوتاہے اب لوگ خواہ مومن ہیں یا کافر ہرکوئی اپنے گھر کو مزیّن کررہاہے ، اب اگر ہم اپنی مساجد کو کچی اینٹوں سے بنائیں گے اور انھیں بلند عمارات کے درمیان چھوٹا بنائیں تو ان کی توہین ہوگی جبکہ یہ مکانات اہل الذمہ کے بھی ہوسکتے ہیں (ت)

درمختار میں ہے :

(ولا باس بنقشہ خلامحرابہ) فانہ یکرہ لانہ یلھی المصلی  ،  ویکرہ التکلف بدقائق النقوش ونحوھا  ،  خصوصا فی جدارالقبلۃ قال الحلبی وفی حظر الجتبٰی وقیل یکرہ فی المحراب د ون السقف والمؤخر انتہی وظاھرہ ان المراد بالمحراب جدارالقبلۃ فلیحفظ (بجص وماء ذھب) لو(بمالہ)الحلال )لامن مال الوقت) فانہ حرام (وضمن متولیہ لو فعل) النقش اوالبیاض الا اذا خیف طمع الظلمۃ فلا باس بہ کافی ،  والا اذاکان لاحکام البناء اوالواقف                                        

(مسجد کو محراب کے علاوہ منقش کرنے مین کوئی حرج نہیں ) کیونکہ محراب کا نقش ونگارنمازی کو مشغول کردیتا ہے ، البتہ بہت زیادہ نقش ونگار کے لئے تکلف کرناخصوصًا دیوارِ قبلہ میں مکروہ ہے ۔ حلبی اور مجتبٰی کے باب الخطر میں ہے کہ محراب کا منقش کرنا مکروہ ہے چھت یا پچھلی دیوار کا منقش کرنا مکروہ نہیں اھ اور ظاہر یہی ہے کہ محراب سے مراد دیوارِ قبلہ ہے ، پس اسے محفوظ کرلو (چونے اور سونے کے پانی سے) اگر (اپنے مال) حلال سے ہو (مال وقف سے نھیں )کیونکہ وہ حرام ہے( متولی نے اگر کیا تو وہ ضامن ہوگا) نقش یا سفیدی البتہ جب ظالموں سے مال وقف کو خطرہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، کافی اور اس صورت میں

فعل مثلہ لقولھم انہ یعمر الوقف کما کان وتمامہ فی البحر[3]۔

جب یہ بنا کی پختگی کے لئے یا واقف نے خود ایسے کیا ہو کیونکہ فقہاء نے فرمایا کہ وقف کی مرمت حسب سابق کرنا ہے۔ اس کی تفصیل بحر میں ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں بحر سے ہے :

واراد وا من المسجد داخلہ فیفید ان تزیین خارجہ مکروہ [4]  اھ  رایتنی کتبت علیہ مانصہ ،  اقول :  فی ھذہ الاستفادۃ نظر ظاھر ،  بل الظاھر منہ جوازہ بلاکراھۃ بالشروط الثلثۃ ان یکون بمالہ الحلال ولا یتکلف دقائق النقوش لان خارج المسجد لیس محل الھاء المصلی ،  وفیہ تعظیمہ فی العیون وزیادۃ وقعتہ فی القلوب و تغیب الناس فی حضورہ تعمیرہ ،  و کل ذلك مطلوب محبوب ،  وانما الامور بمقاصدھا  ،  وانھا لکل امرئ مانوی[5] واﷲ تعالٰی اعلم                

یہاں انھوں نے داخلِ مسجد مراد لیا ہے جو واضح کررہا ہے کہ باہر مسجد کی تزیین مکروہ ہے اھ  میں نے اس پر جو لکھا وہ یہ ہے کہ اس استفادہ میں نظر ظاہر ہے بلکہ ظاہریہ ہے کہ ؟ شروط ثلٰثہ کے ساتھ بلاکراہت جائز ہے یہ کہ اپنا مال حلال کا ہو اور نقوش میں تکلّف نہ ہوکیونکہ خارج مسجد نمازی کو مشغول نہیں کرتا اس میں دیکھنے میں تعظیم اور دلوں میں وقعت کا اضافہ اور لوگو ں کا حضور وآبادی میں شوق کا سبب ہے اور ان میں سے ہر شئی مطلوب محبوب ہے ، اور امور کا اعتبار ان کے مقاصد پر ہوتا ہے ، ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)

 



[1]    الصحیح البخاری کتاب الصّلوٰۃ باب بنیان المسجد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٦٤

[2]    ارشاد الساری بحوالہ ابن المنیر باب بنیان المسجد مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ١ /  ٤٤٠

   [3] درمختار باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ۹۳

[4]    ردالمحتار باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مصطفےٰ البابی مصر ١ /  ٤٨٧

[5]    جدالممتار علی ردالمحتار باب احکام المسجد المجمع الاسلامی مبارکپور ، انڈیا ١ /  ٣١٥

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن